ایران میں مظاہرے،اعلیٰ حکام کی بر طرفی کا مطالبہ جاری

Share Article

 

ایران کے دارالحکومت تہران میں مسلسل دوسرے روز بھی یوکرینی مسافر طیارے کے گرائے جانے کے سلسلے میں مظاہرے جاری رہے ہیں۔ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث اعلیٰ حکام کو برطرف کیا جائے۔اس واقعے میں طیارے میں سوار 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فوج کی جانب سے غلطی سے طیارے کو تباہ کرنے کے اعتراف کے بعد ہفتے کے روز ملک میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاج میں احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔ مختلف عالمی رہنمائوں نے بھی اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کے لیے کہا ہے۔

ایران کی امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اس مسافر بردار جہاز کو مار گرایا گیا تھا۔ یہ واقعہ ایران کی جانب سے عراق میں موجود دو امریکی ایئربیس پر میزائل حملے کے فوری بعد پیش آیا۔ یہ میزائل حملے 3 جنوری کو بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں سینئر ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں ہوئے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری حکام نے طیارے کو میزائل سمجھ کر نشانہ بنایا۔اس طیارے میں درجنوں ایرانی اور کنیڈین شہریوں کے علاوہ یوکرین، برطانیہ، افغانستان اور سویڈن کے شہری بھی سوار تھے۔ اس طیارے نے یوکرین کے دارالحکومت کئیو کے لیے اڑان بھری تھی۔ فوج کی جانب سے غلطی سے طیارے کو تباہ کرنے کے بیان کے بعد ہفتے کے روز ہزاروں مظاہرین نے احتجاج میں احتساب کا مطالبہ کیا۔ایران کے دارالحکومت تہران میں مسلسل دوسرے روز بھی یوکرینی مسافر طیارے کے گرائے جانے کے سلسلے میں مظاہرے جاری رہے ہیں۔ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث اعلیٰ حکام کو برطرف کیا جائے۔فوج کی جانب سے غلطی سے طیارے کو تباہ کرنے کے اعتراف کے بعد ہفتے کے روز ملک میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاج میں احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔ مختلف عالمی رہنمائوں نے بھی اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کے لیے کہا ہے۔ایران کی امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اس مسافر بردار جہاز کو مار گرایا گیا تھا۔ اس طیارے میں درجنوں ایرانی اور کنیڈین شہریوں کے علاوہ یوکرین، برطانیہ، افغانستان اور سویڈن کے شہری بھی سوار تھے۔ اس طیارے نے یوکرین کے دارالحکومت کئیو کے لیے اڑان بھری تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *