بابری مسجدکی تعمیر نو کیلئے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا

Share Article
babri-masjid-dharna
بابری مسجدکی تعمیر نو کیلئے آج جنتر منتر پر آل انڈیا بابری مسجد تعمیر نو کمیٹی کے صدر محمدیونس صدیقی کے انتظام و اہتمام میں ایک احتجاجی دھرنا منعقد کیا گیا،تعمیر نو کمیٹی کے صدر یونس صدیقی نے بتایا کہ 6دسمبر کو کارسیوکوں کے ذریعہ دن دہاڑے بابری مسجد کو شہید کردیا گیا تھا اور حکومت نے اس کے خلاف اور بابری مسجد کے حق میں قرار داد بھی پیش کی تھی جس میں تعمیر نو کا عہد کیا گیا تھا لیکن اب تک حکومت نے اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے اور اس کے برعکس نے اس وقت شدت پسند بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر آمادہ نظر آرہے ہیں جو کہ نہ صرف سپریم کورٹ کی توہین ہے بلکہ آئین کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے کہاکہ بابری مسجد سے تمام مسلمانوں کی وابستگی ہے اور مسلمان کسی قیمت پر اس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ انہیں مندر بنانے سے کون روکتا ہے مودی کی حکومت دہلی میں اور یوگی کی حکومت اترپردیش میں ہے ،پارلیمنٹ میں آرڈیننس لاکر رام مندر کی تعمیر کا جرات مندانہ قدم اٹھائیں مگر بھارت کی شانتی کو برباد کرنے سے باز رہیں ،مسٹر صدیقی نے احتجاج اور دھرنے کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے معروف عالم دین آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی کو میڈیا کے سامنے خطاب کرنے کی دعوت دی مولانا قاسمی نے بابری مسجد کے انہدام کو ہندوستان کی روشن تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیا ۔
انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب داؤ پر لگ گئی ہے اور دنیا میں ملک کی بدنامی ہورہی ہے ،بابری مسجد کا مقدمہ عدالت میں ہے تمام مسلمانوں اور تنظیموں کی طرف سے باربار یہ اعلان آچکا ہے کہ عدالت عالیہ کا فیصلہ ہرحال میں منظور ہوگا اس کے باوجود رام مندر بنانے کی تیاری اور برملا دھمکی دے کر دعوے کئے جارہے ہیں ،ملک کے امن کو برباد کیا جارہا ہے،اشتعال انگیز تقریریں کی جارہی ہیں ابھی چند دنوں پہلے بی جے پی کے ایک اہم لیڈر نے یہ بیان داغ ڈالا کہ اگر دارالعلوم دیوبند نہیں ہوتا تو دہشت گردی بھی نہیں ہوتی،دارالعلوم دیوبند کے امن وشانتی کی شبیہ کو برباد کی جارہی ہے اور ماحول میں بارود بھرنے کی کوشش ہورہی ہے جبکہ دنیا جانتی ہے کہ یہ وہی دارالعلوم ہے جس نے آزادی کامل کا نعرہ دیا تھا ہندو اور مسلمانوں میں بھائی چارگی کی لہرپھونک دی تھی،گاندھی کو مہاتما بنایا اور جس کا قیام کا مقصد ہی استخلاص وطن ہے جبکہ اس طرح کے ماحول کو خراب کرنے والوں یا ان کی پارٹی کا ملک کی آزادی سے کوئی واسطہ نہیں رہا ہے بلکہ انہوں نے انگریزوں کی دلالی کرکے مجاہد ین آزادی کے ساتھ غداری کی ہے اور دارالعلوم دیوبند نے ہندو مسلم سکھ عیسائی کو وطن سے محبت ،ملک میں رہنے والے تمام افراد واشخاص کو بھائی چارگی اور الفت و مروت کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے، ملک کی آئین ،سیکولرزم اور جمہوریت کی اقدار کوباقی رکھنے کا پیغام دیا ہے ۔ان کے علاوہ دیگر علماء کرام اور دانشوران ملت نے بھی خطاب کیاہر طبقے کے افراد واشخاص کی شرکت اس احتجاجی پروگرام میں موجود رہی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *