حکومت کے تعلیمی مشن کی طرح فروغ اردو کے لیے اردو مشن کو عام کرنے کی ضرورت: ڈاکٹر شیخ عقیل احمد

Share Article

 

قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں ماس میڈیا پینلکی میٹنگ

موجودہ عہد انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کاہے۔اب بات ٹیلی ویژن، موبائل، انٹرنیٹ اور واٹس ایپ سے ہوتی ہوئی ویب چینل تک پہنچ گئی ہے۔عصری تقاضوں کوسامنے رکھتے ہوئے قومی اردو کونسل روایتی ڈگر سے ہٹ کرجدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔یہ باتیں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹرڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے قومی کونسل کے صدر دفترمیں منعقدہ میٹنگ برائے ماس میڈیا میں کہیں۔انھوںنے کہا کہ آج کی میٹنگ میں اردو کے فروغ کے لیے کئی اہم فیصلے لیے گئے ہیں، جن میں سائبر لائبریری کی تشکیل کا عمل بھی شامل ہے۔ انھوںنے کہا کہ یہ ایک ایسی لائبریری ہوگی جس میںاردو کے حوالے سے مختلف موضوعات پر مشتمل مواد وافر مقدار میں دستیاب ہوگا ۔ساتھ ہی اس میں کونسل سے شائع ہونے والے رسالوں کے گزشتہ دس برس کے شماروں کے علاوہ کونسل کی شائع کردہ بیشترکتابیں بھیہوںگی۔ انھوںنے مزید کہا کہ کونسل جلد ہی ایک موبائل ایپ بھی تیار کرے گی جس میں اردو لرننگ سے متعلق کہانیاں، نظمیں اور دیگر ضروری چیزیں ہوںگی ، ساتھ ہی صحیح تلفظ کے لیے آڈیو ویژول سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔اس موبائل ایپ میں فونیٹک ٹولس کا بھی اہتمام کیا جائے گا جس کی مدد سے اردو کے تقریباً دس ہزار الفاظ کوصحیح مخرج و تلفظکے ساتھ اداکیا جاسکے گا۔ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے مزید کہا کہ افسانے، نظمیں، غزلیں، مشاعرے اور اردو کوئز کے حوالے سے مسابقاتی پروگرام کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس میں دس بہترین شاعروں کا انتخاب کر کے ان کی صلاحیتوں کے مطابق ان کی ہمت افزائی کی جائے گی اور ان کو انعام و اکرام سے بھی نوازا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اردو اسکپرٹ رائٹنگ کے لیے کونسل ایک کتاب شائع کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد اردو اسکرپٹ رائٹنگ سے دلچسپی پیدا کرنا ہے۔ اسکرپٹ رائٹنگ کے تئیں عوام الناس میں بیداری لانے کے لیے کونسل فلمی دنیا کے تمام اسکپرٹ رائٹرس، موسیقاروں، اداکاروں اور اداکاراؤں کے ساتھ ایک Interactive Sessionکا بھی انعقاد کرے گی تاکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اردو کی تشہیر ہو سکے۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ جس طرح حکومت تعلیمی مشن چلا رہی ہے، اسی طرح اردو مشن بھی چلانے کی ضرورت ہے اور اس میں خاص طور سے خواتین کو شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے ذریعے نئی نسل کو اردو سے بہتر طور پر روشناس کرایا جاسکتا ہے۔

 

اس میٹنگ کی صدارت پروفیسر این اے کے درّانی نے کی ۔انھوںنے کہا کہ ماس میڈیا کے ذریعے اردو کے فروغ کی راہ ہموار کرنے کے لیے کونسل کے تحت میڈیا افراد کے لیے ایک تربیتی پروگرام منعقدکیاجائے گا۔پروفیسر اقبال احمد نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے کونسل کے زیر قیادت ملکی سطح پراردو کارواں نکالا جائے ۔ اس سے نہ صرف اردو کا فروغ ہوگا بلکہ خوشگوار ماحول بھی قائم ہوگا اور یہ آج کی ضرورت بھی ہے۔ عبدالسمیع بوبیرے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے حوالے سے کونسل نے جتنی بھی کوششیں کی ہیں وہ سب کی سب کامیاب رہیں، تاہم موجودہ حالات میں یہ سوال بھی کم اہم نہیں ہے کہ ہم اردو کو عام گھروں تک کیسے پہنچائیں؟ اس تعلق سے کام کرنے کی ضرور ت ہے۔ سلیم عارف اورپروفیسر المینہ عباسی نے بھی اردو کے فروغ کے لیے کئی اہم تجاویز پیش کیںجن پر غور وخوض کیا گیا۔ میٹنگ میں جن دیگر حضرات نے شرکت کی ان میں پروفیسر غیاث الرحمن سید، ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر)، ڈاکٹر جاویداقبال، ڈاکٹرفیاض عالم اور ڈاکٹر شاہد اختر کے نام خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *