فلسطین کی اسلامی تحریک کے ممتاز رہنما انتقال کرگئے

Share Article

 

فلسطین کی اسلامی تحریک کے ممتاز رہ نما الشیخ احمد نمرحمدان 81 سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ الشیخ نمرحمدان کی وفات نے پوری مسلم امہ کو سوگوار کردیا۔ان کی وفات سے بالعموم پوری مسلم امہ بالخصوص فلسطینی قوم اس وقت صدمے سے دوچار ہے۔ الشیخ نمر جیسے عظیم المرتبت علمائ￿ ، دعات، مجاھدین اور اصحاب عزیمت کا اٹھنا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔الشیخ نمرحمدان کی پوری زندگی قابض صہیونی ریاست کے مظالم کے خلاف جدو جہد سے عبارت رہی۔ بار بار انہیں حراست میں لیا جاتا اور جیلوں میں غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا۔ کئی بار انہیں فلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے بھی حراست میں لیا مگراس کے باوجود ان کے جذبہ حریت، جوش اور ولولیمیں کوئی کمی نہیں آئی۔غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس کا بچہ بچہ الشیخ نمرحمدان کی جوش خطابت کا اسیر رہا ہے۔طویل عرصے تک انہوں نے جنوبی غزہ میں خان یونس کی جامع مسجد میں امامت اور خطابت کے فرائض انجام دیئے۔ پہلی تحریک انتفاضہ کے دوران انہیں اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا اور اس کے بعد انہیں بار بارحراست میں لیا جاتا رہا۔ثابت قدمی، استقامت اور جرات وبہادری کی زندہ علامت الشیخ نمرحمدان نے صہیونی دشمن کے تمام وحشیانہ حربے صبر کے ساتھ برداشت کیے مگردشمن کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔الشیخ نمرحمدان سنہ 1938ء کو بشیت کے مقام پر پیدا ہوئے۔ وہاں سے وہ اپنے خاندان کے ہمراہ غزہ ھجر کرگئے۔ غزہ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈورکس ایجنسی’اونروا’ کے اسکولوں سے تعلیم حاصل کی۔تعلیم سے فراغت کے بعد وہ غزہ میں اسکولوں میں درس وتدریس کے عمل سے وابستہ ہوگئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دعوت وجہاد کے میدان میں بھی اپنی خدمات انجام دینا شروع کیں۔

سنہ 1992ء کو اسرائیل نے اسلامی جہاد اور اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ کے 415 رہ نمائوں کو مرج الزھور بدر کردیا۔ ان میں الشیخ نمر حمدان بھی شامل تھے۔سنہ 1993ء میں فلسطینی اتھارٹی کیقیام اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے تحریک فتح کے فیصلے کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں الشیخ حمدان بھی پیش پیش رہے۔الشیخ نمر حمدان کی وفات پر اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *