jih-pic
جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی و ہریانہ کی جانب سے گروگرام میں ’’رحم مادر میں بچیوں کا قتل ،اسباب اور تدارک ‘‘کے موضوع پر پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں بڑی تعداد میں مرد ،خواتین اور بچوں نے شرکت کی ۔پروگرام کی صدار ت چیف اڈیٹر پرواز رحمانی نے کی ۔پروگرام کا افتتاح آصف اقبال کی تلاوت و ترجمہ قرآن پاک سے ہوا۔وارث حسین نے پروگرام کا تعارف کرایا۔صدارتی خطاب میں پرواز رحمانی نے کہا کہ رحمِ مادر میں بچیوں کا قتل عصر حاضر کے ان نازک اور سنگین مسائل میں سے ہے، جن سے نہ صرف ہمارا ملک، بلکہ پوری دنیا دوچار ہے۔ اس کی وجہ سے صنفی توازن بگڑ رہا ہے اور لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔اس برائی کے انسداد کے لیے قوانین بنائے جا رہے ہیں، مگر وہ موثر ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔
لڑکیوں کے ساتھ نامنصفانہ رویہ ہندوستان میں نہیں دنیا کے اور ملکوں میں بھی ہو رہا ہے۔ چین دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی اس وبا سے پوری طرح متاثر ہے۔ اور دنیا کیدیگر خطوں میں بھی یہ وبا موجود ہے۔ جہاں اس کے اثرات نہیں ہیں وہاں بھی عورتوں کی حالت کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے بلکہ مرد کی ہوسناکی کا عفریت وہاں دوسری وبا کھڑی کیے ہوئے ہے۔لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا حل اگر کہیں ہے تو اسلام کے جلو میں ہے۔ اور جہاں جہاں اسلام کی برکات ہیں وہاں یہ وبا اس تناسب سے کم ہو گئی ہے۔ اسلام کا سب سے پہلا تجربہ عرب میں کیا گیا اور وہاں قرآن مجید کی آیات اور احادیث مبارکہ کے ذریعہ لوگوں کی ذہن سازی کی گئی کہ وہ اس گھناؤنے جرم کو ترک کر دیں اور اسلام اس میں پوری طرح کامیاب رہا۔ لڑکیوں کی پیدائش جن کے لیے ننگ و عار تھی ان کے لیے خیر و برکت اور حصول جنت کا ذریعہ بن گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام نے مجموعی طور پر اولاد کے قتل کو حرام قرار دیا۔ قرآن مجید میں تین مقامات پر اولاد کو قتل کرنے کی ممانعت کی گئی۔ دو جگہ سورہ انعام میں اور ایک جگہ سورہ بنی اسرائیل میں۔ ایک آیت میں ہے ۔ترجمہ: اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔اسلام کی تعلیمات نے آج سے ڈیڑھ ہزار برس قبل بیٹیوں کے ساتھ ہونے والے اس ظلم اور ناانصافی کا حل نکالا تھا جس کے اثرات آج تک موجود ہیں اور اسلام کی روشن ہدایات ہی آج بھی اس مسئلہ کا پائیدار حل تلاش کر سکتی ہیں جس نے بہت سے معاشروں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی سنگینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔علاقے کے پارشد سنجئے پردھان بھی پروگرام میں شامل ہوئے اور اسی موضوع پر تقریر کی ۔پروگرام کی نظامت امیر مقامی گلزار احمد نے کی ۔پروگرام کے بعد محمد اشتیاق ناظم علاقہ ہریانہ نے پارشد سنجئے کمار کو قرآن مجید کا ہندی ترجمہ تحفہ میں دیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here