Prof-Arun-Kumar
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اقتصادیات میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سنٹر برائے اقتصادی مطالعات و منصوبہ بندی کے سابق سربراہ پروفیسر ارون کمار نے ’’نوٹ بندی کے ایک سال بعد کا ہندوستان‘‘ موضوع پر لیکچر دیا۔ اس لیکچر کا اہتمام شعبہ کی ’’اکنامکس سوسائٹی‘ ‘نے کیاتھا۔ پروفیسر ارون کمار نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ ہندوستان کی سیاہ دولت کا صرف 10؍فیصد حصہ ملک کے باہر جاتا ہے اور 90؍فیصد ملک میں ہی چلن میں رہتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہے کہ سیاہ دولت سے نپٹنے کے لئے ملک کے اندر دھیان دیا جائے اور پالیسی نافذ کی جائے۔ انھوں نے کہاکہ سیاہ دولت کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی، سماجی اور اقتصادی طریقے اپنائے جائیں۔ انھوں نے حال میں ہی منظر عام پر آئے پناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز کا بھی ذکر کیا۔
پروفیسر ارون کمار نے کہا کہ ملک کی شرحِ نمو میں غیرمنظم سیکٹر کو شامل نہیں کیاجاتاجو جی ڈی پی کا 45فیصد ہے اور غیر منظم سیکٹر سے ہی 93فیصد لوگ وابستہ ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ سرکاری اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ نوٹ بندی کا سب سے زیادہ اثر غیرمنظم سیکٹر پر ہی پڑا۔ پروفیسر ارون کمار نے کہاکہ ہندوستان میں عام طور سے مالیاتی خواندگی کی کمی ہے اور اس محاذ پر بیداری لانے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل شعبۂ اقتصادیات کے صدر پروفیسر سید نعمان احمد نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ پروفیسر ارون کمار ملک میں سیاہ دولت کے موضوع کے ایکسپرٹ ہیں۔ وہ ’’ دا بلیک اکنامی اِن انڈیا‘‘ کے مصنف ہیں اور نوٹ بندی کے اثرات کے موضوع پر ان کی کتاب جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔ پروفیسر اشوک متل نے شکریہ کی قرارداد پیش کی۔ نظامت کے فرائض ریسرچ اسکالرذوالفقار سیٹھ نے انجام دئے۔ ایم اے کے طالب محمد عمیر خاں نے ’’اکنامکس سوسائٹی‘‘کی کارگزاری پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر اکنامکس سوسائٹی کے انچارج ڈاکٹر محمد آصف سمیت کثیر تعداد میں اساتذہ و طلبہ موجود تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here