پروفیسرشہنازنبی اورڈاکٹرنجمہ رحمانی کے ریجوآئنڈرز:خواتین تنظیم بنات سوالات کے گھیرے میں

Share Article
shahnaz-nabi-and-najma-rehmani

گذشتہ دنوں اردوخواتین رائٹرس کی تنظیم بنات کے قیام کاعلمی وادبی حلقوں میں بڑے جوش وخروش سے خیرمقدم کیاگیاتھا۔’چوتھی دنیا‘نے بھی 31اکتوبرکونئی دہلی کے غالب اکیڈمی میں اس کے پہلے اجلاس کی تفصیلی خبراس کے ذریعہ بھیجی گئی پریس ریلیزکی بنیادپرشائع کی تھی۔اس پربھی متعددخواتین ودیگرافرادنے اظہارخیال کرتے ہوئے خوشی کا اظہارکیاتھا۔
دریں اثناء کچھ ایسے فون اورمراسلے آئے جس سے اس تنظیم کے تعلق سے کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔سب سے بڑاسوال اس کے ذمہ داروں کے آن لائن انتخاب اوران کے آمرانہ طرزعمل کے بارے میں ہے۔ذیل میں ’چوتھی دنیا‘ملک کی ممتازشاعرہ ،ادیبہ ودانشوراورکلکتہ یونیورسٹی کی شعبہ اردو کی سینئرپروفیسرشہنازنبی اوردہلی یونیورسٹی سے وابستہ اردوکی استادنجمہ رحمانی کے ریجوآئنڈرزشائع کررہاہے جوکہ نوزائیدہ تنظیم بنات کوسوالات کے گھیرے میں لاتے ہیں۔
ان ریجوآئنڈرزکے شائع کرنے کامقصدیہی ہے کہ اردوخواتین رائٹرس کی اس انوکھی کوشش کو کسی کی نظرنہ لگ جائے اوریہ کاررواں تمام خواتین قلم کاروں کولیکراتفاق رائے سے آگے بڑھتارہے اورمتحدہ خواتین فورم کی ایک بہترین اورآئیڈیل مثال قائم کرے۔

ڈاکٹرنجمہ رحمانی،شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی
آپ کے موقر اخبار ’چوتھی‘ دنیا میں بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم (بنات)کے بارے میں شائع ہوئی خبر کے تعلق سے میری رائے یہ ہے کہ یہ تصویرکا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ وہ ہے جسے چھپانے کی خاطر میڈیا کو افتتاحی اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کے بجائے پریس ریلیز بھیجنا مناسب سمجھا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنے تمام بلند و باگ دعوؤں کے باوجود یہ تنظیم کسی بھی قسم کی ذہنی آزادی یا مختلف نقطۂ نظر کے لو گوں کی بات سننے کے بجائے انہیں نکال دینے میں یقین رکھتی ہے ۔اس تنظیم سے وابستہ کم از کم دو خواتین محض اس لئے تنظیم سے باقاعدہ نکال دی گئیں کہ انھوں نے اس کے غیر جمہوری طریقۂ کار پر اپنا اعتراض جتایا۔ا ن میں سے ایک مشہور شاعرہ اور نقاد اور کلکتہ یونیورسٹی کی پروفیسر شہناز نبی ہیں اور دوسری شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی سے وابستہ ناچیزہے۔ ان کے انکار کے باوجودان کو بینر پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے سخت عتراض کے بعد انھیں یہ کہہ کر واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا گیا کہ تنظیم کو ایکٹی وزم کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری طریقۂ انتخاب پر زور دینے پر جنرل سکریٹری تسنیم کوثرصاحبہ کا فرمانا ہے کہ’’جمہوری طرز انتخاب جو ہمارے ملک میں رائج ہے، اس سے بد تر اور بدبو دار کرپٹ نظام دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہے۔‘‘
توسوال یہ ہے کہ کیا دنیا کو ایک ایسے جہادی نظام کے سپرد کر دیا جائے جس میں ہر اعتراض اور سوال کا جواب سر کو قلم کر دینا ہو؟ اپنے رویے سے تو تسنیم کوثر صاحبہ نے یہی ثابت کیا ہے۔
دراصل عہدے داران کے انتخاب میں نہایت چالاکی کے ساتھ صدر اور اور جنرل سکریٹری نے صرف اپنا نام پیش کراکے ووٹ حاصل کر لئے حالانکہ ناچیزنے بار بار اس پر اعتراض کیا ۔دراصل مشورہ یہ دیا گیاتھا کہ افتتاحی اجلاس تک ایک کنوینر مقرر کرکے افتتاحی اجلاس کے موقع پر تمام شرکا ء کی موجودگی میں چند نام پیش کیے جائیں اور ان پر موجود لوگوں سے ووٹنگ کرا لی جائے۔ واضح رہے کہ ناچیز جو دہلی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی منتخب رکن اور ڈیوٹا کی خازن کی ذمہ داریاں سنبھال رہی ہے نیز مختلف ادبی اور سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ہے، نے گروپ میں شامل ہونے سے قبل ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ اپنی دیگر مصروفیتوں کے سبب وہ عملی طور پرتنظیم میں بہت فعال نہیں رہ سکیں گیں مگر ان کے مشورے کو نہ صرف مسترکردیا گیا بلکہ اسے منفی فکر کہہ کر اس کا نام لئے بغیر گروپ سے نکالنے کی دھمکی بھی اس کے نو منتخب صدرنے دے ڈالی۔ اس کے بعد جب جب ناچیز نے کسی ادبی گفتگو کا آغاز کرنا چاہا تواس کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ اس مسلسل توہین کے باوجود اس نے جواب میں کوئی سخت جملہ نہیں لکھا بلکہ بات کو مذاق میں ٹالنے کی کوشش کی۔

اس پرستم یہ کیا گیا کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نام بینر پہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ اپنے نام کے اس استعمال پر اعتراض کیے جانے کے بعد نام تو پوسٹر سے ہٹا لیا گیا مگر یہ اعتراض جب پروفیسرشہناز نبی نے کیا تو ممبر شپ فیس ادا کرنے اور گروپ میں شامل رہنے کے ان کے اصرار کے باوجود پروفیسرشہناز نبی کے ساتھ ناچیز کا نام بھی گروپ سے ہٹا دیا گیا۔ اور باوجود استفسار کے وجہ بتانے سے انکار کیا گیا۔ناچیز نے جنرل سکریٹری کے ا س جارحانہ ، غیر جمہوری اور یک طرفہ فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے نائب صدر سے فون پر بات کی اور کہا کہ کہ انھیں واٹس ایپ گروپ میں دوبارہ شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنی بات اس پلیٹ فارم پر رکھ سکیں۔ مگر اس طرف سے بھی کوئی جواب نہیں آیا۔واٹس ایپ گروپ پر کافی لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ ناچیز کو گروپ سے کیوں نکالا گیا؟ مگرنام نہاد عہدے داران میں سے کسی نے ان کے سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں سمجھی بلکہ یہ کہا کہ اس پر بات نہیں کی جائیگی،آگے بڑھئے۔
مجبوراً ناچیز کو اپنی بات سب کے سامنے رکھنے کے لئے اس افتتاحی اجلاس میں احتجاجاً اسٹیج سے سوال کرنا پڑا۔ مگر جواب دینے کے بجائے جنرل سکریٹری صاحبہ نے فرمایا کہ ہم نے شامل کیا تھا اور ہم نے ہی ہٹا دیا۔لہٰذا اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ خود جنرل سکریٹری کی ادبی شناخت کیا ہے اور ان کا ادبی قد کتنا بلند ہے ۔نیز یہ کیسی ادبی تنظیم ہے جو ادب پر بات چھیڑنے کو غیر ادبی سر گرمی سمجھتی ہے،جو ملک کے جمہوری اقدار کو گالیاں دیتی ہے اور اپنے جارحانہ رویوں کو آزاد ذہنوں پر تھوپنے کی کوشش کرتی ہے۔ کہیں یہ خوف تو دامن گیر نہیں کہ ان چند ناموں کے آگے ان کا چراغ نہ جل سکے گایا پھر اس تنظیم کے قیام کے پیچھے کوئی اور مقصد ہے جس سے عام ممبران اور شاید کچھ عہدے داروں کو بھی بے خبر رکھا گیا ہے۔

پروفیسرشہنازنبی ،شعبۂ اردو، کلکتہ یونیورسٹی
بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم(بنات) کے پہلے جلسے میں ڈاکٹر نجمہ رحمانی ، اسسٹنٹ پروفیسر (اردو) ، دہلی یونیورسٹی ، جو کہ تنظیم کی ایک ممبر ہیں، کے احتجاج کی خبر مجھے ملی ہے جوکہ تنظیم کے غیر جمہوری رویے کے خلاف کیا گیا ہے۔ دراصل عورتوں کی ایک نسائی ادبی تنظیم کا تصور میں نے ہی بہار اردو اکادمی کے منعقدہ ایک سیمینار میں اپنے صدارتی خطبے کے دوران دیا تھا۔اس کے بعد اس پر عمل در آمد کے لئے واٹس ایپ پر ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔ دھیرے دھیرے خواتین قلم کاروں نے واٹس ایپ میں موجود گروپ کو جوائن کرنا شروع کیا۔
اس درمیان گروپ کی ایڈمن تسنیم کوثر نے فون پر رابطہ بنائے رکھنے کے علاوہ الگ اکاؤنٹ پر بھی مجھ سے رابطہ رکھا۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ میرا ’برین چائلڈ‘ ہے اس لئے گروپ میں میری کمی محسوس کی جارہی ہے۔ ان کا یہ مخلصانہ انداز مجھے بہت پسند آیا تاہم میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ میرا اس گروپ کی گفتگو میں لگاتار شامل رہنا ممکن نہ ہو سکے گا۔ہاں کبھی کبھار میں ضرور شامل ہو جاؤں گی۔ دھیرے دھیرے مجھے یہ محسوس ہوا کہ فورم کے اندر فورم چل رہا ہے نیز اس ادبی تنظیم کا کوئی ڈھکا چھپا ایجنڈا بھی ہے۔ میں نے انتہائی صاف دلی سے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے تسنیم کوثر سے اس کے متعلق بات بھی کی۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
ا س دوران کئی معروف قلم کاروں نے بھی کچھ اعتراضات کرتے ہوئے گروپ سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ وجوہات مجھے معلوم نہیں کیونکہ میرا گروپ میں ہر ریمارک کو پڑھنا ممکن نہیں تھا۔ میں نے لگاتار لا یعنی گفتگو میں شامل رہنے سے اپنی معذوری کا اظہار پہلے ہی کر دیا تھا۔ میں نے گروپ میں شامل خواتین کو اس بات کی مبارک باد بھی دی تھی کہ کام آگے بڑھ رہا ہے۔ مجھے اعتراض اس وقت ہوا جب مجھ سے پوچھے بغیر میرا نام ’ مرکزی کابینہ‘ میں شامل کیا گیا او ر میرے نام کے آگے قوسین میں مغربی بنگال لکھ کر مجھے مغربی بنگال کی صوبیداری بخشی گئی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس بینر کو فوراً سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا گیا۔اس پر میں نے واٹس ایپ پہ گروپ کے اندر اس غیر جمہوری رویے کے خلاف آواز اٹھائی۔
محترمہ تسنیم کوثر، خود ساختہ جنرل سکریٹری، نے مجھے جمہوریت کے معنی بتانے چاہے جسے میں نے ماننے سے انکار کردیا۔ میں نے ان سے صاف صاف کہا کہ میں گروپ نہیں چھوڑ رہی ہوں، میں عام ممبر بنے رہنا چاہتی ہوں۔ مجھے کوئی عہدہ نہ دیا جائے۔تاہم انہوں نے اسی وقتمجھے بلاک کر دیاتاکہ میں جمہوریت سے متعلق ان کی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش نہ کرسکوں۔ صرف یہی نہیں، انہوں نے بلا وجہہ ڈاکٹرنجمہ رحمانی کو بھی بلاک کیا۔ اس سے بڑی شرمناک بات اور کیا ہو سکتی ہے؟آخرکیا وجہ ہے کہ اس احتجاج کے لئے تنظیم کی پہلی میٹنگ میں جاکر نجمہ کو ہی منہ کھولنا پڑا۔سوال یہ ہے کہ باقی خواتین جن میں کچھ قد آورادبی شخصیتیں بھی شامل ہیں، وہ آخرکیا کر رہی تھیں؟
سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی یہ خواتین کی ادبی تنظیم ہے یا اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے۔؟ جہاں غیر جمہوری رویہ رکھنے والی خواتین اس کی سر براہی کرنے کی ذمہ داری اٹھا لیں اور دوسروں کو جمہوریت کے مضر اثرات بتانے لگیں، ان کی سر براہی میں اس تنظیم سے جڑے رہنا، غیر صحت مند عناصر کو فروغ دینا ہے۔
اس تنظیم کی بہت سی ممبران اسے ادبی تنظیم مان کر ہی اس میں شامل ہوئی ہیں۔ ان میں سے ہر ممبر کا حق بنتا ہے کہ وہ اس غیر جمہوری طریقہٗ کار کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ہمارا مقصد تنظیم کو نقصان پہنچانا نہیں ہے بلکہ اسے صحیح راہ پر گامزن کرنا ہے۔
اس وقت یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ مرد اساس معاشرے میں عورتیں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پہ کسی تنظیم کی سر براہی کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں یا کرائے کے مشوروں پر تنظیم کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔؟ اگر کسی ادبی تنظیم میں عورتیں ہی عورتوں کی زبان بندی کرنے پر تل جائیں تو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ’ کون معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں۔؟‘
read more  اردوکی خواتین رائٹرس کی نوزائیدہ تنظیم بنات کاپہلااجلاس غالب اکیڈمی میں منعقد
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *