p-2’’ہم دستخط کنندگان یہاں اعلان کرتے ہیں کہ ہم اسلامی شریعت کے تمام احکام خصوصاً نکاح، وراثت، طلاق، خلع، فسخ نکاح اور وقف سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ہم ان میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی کی ضرورت یا گنجائش سے انکار کرتے ہیں۔ہم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور قانون شریعت کے تحفظ کی اس کی کوششوں میں اس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ہم اس بات کو بالکل واضح کردینا چاہتے ہیں کہ قانون شریعت کو کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ سماجی برائیوں کو دور کیاجائے، اچھی عادتوں کو پیدا کیا جائے، کمزوریوں پر قابو پایا جائے اور ایمانداری سے قانون شریعت پر عمل کیا جائے۔‘‘
یہ ایک حلف نامہ ہے جو کہ دستخط کرکے سافٹ اور ہارڈ کاپی میں ملک کے مسلمانوں کی طرف سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور لاء کمیشن آف انڈیا کو بھیجا جارہا ہے۔یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب چند دنوں قبل اس تعلق سے سپریم کورٹ کی ہدایت پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مرکزی حکومت نے اسے اپنا اپنا ایفی ڈیوٹ پیش کیا ہے اور اسی کے فوراً بعد لاء کمیشن آف انڈیا نے ملک کے شہریوں کی یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں رائے جاننے کے لئے ایک سوالنامہ جاری کیا ہے۔ اسی دوران مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر اہتمام 13 اکتوبر کو پریس کلب آف انڈیا میں متعدد مسلم تنظیموں اور مکاتب فکر کے حاملین کے ساتھ ساتھ سرکردہ شخصیات نے ایک خصوصی پریس کانفرنس میںمرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایفی ڈیویٹ میں کئے گئے موقف کی مخالفت اور لاء کمیشن کے سوالنامہ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
ان سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دنوں ایک بار پھر یونیفارم سول کوڈ موضوع بحث بن گیاہے۔حالانکہ یونیفارم سول کوڈ ملک کے تمام شہریوں کے لئے ہوگا لیکن مسلم کمیونٹی کی جانب سے جو رد عمل آرہا ہے وہ کسی اور کمیونٹی حتی کہ کسی اور مذہبی اقلیت کی طرف سے دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔اس لئے اس بحث کا فوکس مسلم کمیونٹی ہوگئی ہے۔اس کمیونٹی میں ان سب باتوں کو لے کر خوف بھی پیدا ہوگیا اور یہ خوف تشخص اور شناخت کو لے کر ہے۔ویسے یہ خوف بے بنیاد محسوس ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں ہندوستان ایک ایسا جمہوری ملک ہے جہاں اقلیتوں کو آئینی طور پر تحفظ کے ساتھ ساتھ حقوق و اختیارات حاصل ہیں۔وقتاً فوقتاً عدالتوں کے متعدد فیصلوں نے بھی انہیں مزید تقویت اور استحکام پہنچایا ہے۔
اس کے برعکس اسی برصغیر میں ہندوستان سے الگ ہوکر وجود میں آئے دو ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش ہیں جہاں اقلیتوں کو ہندوستان جیسے آئینی حقوق و اختیارات حاصل نہیں ہیں۔پاکستان میں کسی اقلیتی کمیونٹی کا کوئی فرد صدر مملکت نہیں بن سکتا ہے گرچہ حال میں ہندو کمیونٹی کے آنجہانی رانا بھگوان داس وہاں کے سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس بن چکے ہیں۔ علاوہ ازیں اقلیتی کمیونٹی کے ایک اور شخص نے بھی سپریم کورٹ کی سربراہی کی ہے۔ یہاں 2004 میں وزارت برائے اقلیتی امور قائم ہوئی ہے مگر وہ عملی طور پر غیر موثر ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کا آئین کسی اقلیت کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں اقلیتوں کے تحفظ کا کوئی خصوصی پروویژن نہیں ہے ۔حالانکہ 1975 میں شیخ مجیب الرحمن کی ہلاکت کے بعد اسلام آئینی طور پر وہاں کا سرکاری مذہب بنا دیا گیاتھا اور پھر 2010 میں اس کی یہ حیثیت ختم کر کے اسے سیکولر جمہوری اسٹیٹ کا درجہ دے دیاگیا لیکن اس کے باوجود اقلیتوں کو آئینی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ پڑوس کے ملک مالدیپ میں بھی یہی صورتحال ہے۔ 2008 میں بنے آئین کے مطابق، کوئی غیر مسلم یہاں کا شہری نہیں بن سکتا ہے۔
ابھی حال میں 5اکتوبر کو وگیان بھون ،نئی دہلی میں قومی کمیشن برائے اقلیت کے زیر اہتمام منعقد نویں سالانہ لیکچر بعنوان ’ہندوستان میں اقلیتی حقوق اور جمہوریت ‘دیتے ہوئے مشہور آئیڈیا لاگ اور سینٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز اور 2015سے 2017 تک راجیہ سبھا میں ڈاکٹر سروپلّی رادھا کرشنن چیئر کے پروفیسر پیٹر رونالڈ ڈیسوزا نے بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کو مسائل درپیش تو ہیں مگر انہیں آئین اور عدالتوں نے جو تحفظات دے رکھے ہیں، ان کی رو سے وہ ہر طرح سے محفوظ ہیں۔
پروفیسر ڈیسوزا نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے تعلق سے چار اہم زاویئے ہیں۔ ایک قوانین ہیں تو دوسرے ادارے، تیسرے پالیسیاں اور چوتھا عوامی بحث۔ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک قوانین کا معاملہ ہے،اس کا آغاز تو آئین ساز اسمبلی میں مباحثے سے اس وقت ہوگیا تھا جب اس کے ارکان نے ڈرافٹ پروویژنوں پر اظہار خیال کیا اور پھر یہ ڈرافٹ پروویژن آئین کے دفعات 29,26,25 اور 30 بنے جو کہ اقلیتوں سے متعلق بہت ہی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔فاضل مقرر کے خیال میں اقلیتوں کے حقوق پرہوئی اس بحث سے تین اہم نکات سامنے آئے۔ پہلا یہ کہ کلچرل اور مذہبی تکثیریت ملک کے لئے خطرہ نہیں بلکہ سرمایہ ہے جوکہ یہ تقسیم وطن کے بعد اس وقت واقعی بڑی ہی جرأت مندانہ بات تھی۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کلچرل اٹانومی کو جاری رکھا جائے تاکہ افراد اپنے کلچرل ذرائع کا استعمال پوری طرح کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو ڈیولپ کرسکیں۔تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اس خیال کو صرف قانونی ہی نہیں بلکہ آئینی حیثیت عطا کی جائے۔ اس طرح دراصل اس آئینی تحفظ سے ہی اقلیتی حقوق کی بائونڈریوں پر قوانین بن کر سامنے آئے۔
پروفیسر ڈیسوزا کے پُر مغز لیکچر میں دوسرا زاویہ ان اقلیتی حقوق کی حفاظت کے لئے قومی کمیشن برائے اقلیتی، قومی کمیشن برائے قلیتی تعلیمی اداروں اور وزارت اقلیتی امور کا قیام اور مختلف کمیوں اور خامیوں کے باوجود اس کا آگے بڑھنا ہے۔ اسی طرح تیسرا زاویہ یہ ہے کہ ان اداروں نے ہماری جمہوریت کو تقویت پہنچائی ہے۔ ان قلیتی اداروں کے قیام کے تعلق سے پروفیسر ڈیسوزا اس وقت کے اپوزیشن رہنما لال کرشن اڈوانی کی 4 مئی 1992 کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کے حوالے سے کہتے ہیں کہ وہ 1977 میں قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام میں اپنی دی گئی حمایت پر مطمئن نہیں تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ جنتا پارٹی نے 1977 کے انتخابی منشور میں سول رائٹس کمیشن کے قیام کی بات کی تھی جبکہ حکومت بننے کے بعد اقلیتی کمیشن بنا دیا۔یہاں پر اڈوانی کے خیال سے وہ شدید اختلاف کرتے ہیں۔ اسی زاویہ کے تحت جو بات سامنے آتی ہے،وہ ہندوستان کی پبلک پالیسی سے متعلق ہے۔دراصل اس سے اس بات کا جواب ملتاہے کہ ملک کی پالیسیوں سے اقلیتوں کا امپاورمنٹ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ اس ایشو کو ڈاکٹر گوپال سنگھ کمیٹی اور راجندر سچر کمیٹی کی رپورٹ نے ڈیل کیا ہے۔ وزیر اعظم کا 15نکاتی پروگرام ایسا ایک پالیسی پروگرام ہے جس کے مثبت اور منفی نکات کے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ فاضل مقرر پبلک مباحثہ کو چوتھا زاویہ بتاتے ہیں۔ ان کے خیال میں ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق پر بحث اس لحاظ سے بہت ہی دلچسپی کی ہے کہ یہ پرسنل لاز جیسے طلاق ثلاثہ سے لے کر روایتی کلچرل رسومات جیسے مندر میں داخلہ تک کے ایشوز کو کُور کرتا ہے۔
پروفیسر ڈیسوزا ہندوستان میں ڈائیورسٹی پر بہت زور ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس ملک میں مرنے کے بعد کی رسومات میں بھی ڈائیورسٹی پائی جاتی ہے جیسے کسی کو مرنے کے بعد دفن کیا جاتا ہے تو کسی کو جلایا جاتاہے یا چیل کے حوالے کردیا جاتاہے۔
مسلم پرسنل لاء کے تعلق سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈیسوزا کئی دلچسپ سوالات اٹھاتے ہیں: کیا قوانین شریعت اسلام کے مذہبی دائرے میں آتے ہیں؟اور اگر آتے ہیں تو مذہب کی آزادی کی گارنٹی دینے والے آئین کی دفعہ 25 کی رو سے آتے ہیں۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر یہ قوانین الہامی ہیں تو پھر ایک سیکولرادارے کی یہ اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ مذہبی قوانین پر کوئی فیصلہ کرے۔ ان الہامی قوانین کی جو معتبر مذہبی اتھارٹیز ہیں، وہی اس سلسلے میں کوئی حتمی بات کہہ سکتی ہیں۔ سیکولر ادارے الہامی قوانین کی تشریح کے اہل نہیں ہیں اور اس سلسلے میں ان کی کوئی پہنچ مداخلت سمجھی جائے گی۔ عدالت بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ اس تعلق سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں مختلف الخیال پرسنل لاز دراصل اس ملک کی قانونی تکثیریت کی پونجی ہیں۔ فاضل مقرر کے خیال میں اس لحاظ سے یکسانیت کی جانب بڑھنا یعنی یونیفارم سول کوڈ کی بات کرنا عالمی جمہوری رجحان کے خلاف قدم ہوگا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں دیئے گئے ایفی ڈیویٹ کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اگر اسے کلچرل اٹانومی سے جوڑ کر دیکھا جائے تو معاملہ بڑا اہم ہوجاتا ہے۔ مگر یہ دریں اثنا خواتین کی ناانصافی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسے کسی معاملہ میں پہلے مخصوص کمیونٹی کو چاہئے کہ وہ اس سے بحسن و خوبی خود ہی نمٹ لے اور ان کی شکایت کو دور کرے اور پھر یہ مسئلہ تب بھی حل نہ ہو تو آخر میں متاثرہ کو عدالت کا رخ کرنا چاہئے۔
ہندوستان میں اقلیتوں کے محفوظ مستقبل کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہ ریاست کیرل کی ایک مثال کو پیش کرتے ہیں کہ بیجوئی ایما نوئیل ورسس ریاست کیرل مقدمہ میں عدالت نے جو فیصلہ دیا تھا وہ مثالی ہے۔اسکول میں تین بچے صبح کی اسمبلی میں دیگر بچو ں کے ساتھ بڑے ادب و احترام سے کھڑے تو ہوئے مگر قومی ترانہ کو نہیں گایا ۔تب مقامی ایم ایل اے نے اسے حب الوطنی کے خلاف عمل قرار دیا اور ان بچوں کو اسکول سے برخاست کرنے کو کہا۔ پھر ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولس کے حکم پر ہیڈ مسٹریس نے انہیں اسکول سے نکال دیا۔ یہ واقعہ 26 جولائی 1985 کا ہے۔ ان بچوں کے خاندان نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا کہ مذکورہ ترانہ گانا ان کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہے۔ تب عدالت نے آئین ہند کی دفعہ 25کے تحت یہ فیصلہ دیا کہ ان تینوں بچوں کی اسکول سے اس تعلق سے برخاستگی آئین کی فراہم کردہ بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے جو کہ مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے سے متعلق ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here