اتر پردیش کے عوام کو زبردست بجلی کا جھٹکا لگا ہے۔ اتر پردیش کی یوگی حکومت نے بجلی کی شرحوں میں 12 فیصد کا اضافہ کیا ہے۔ اتر پردیش پاور ریگولیٹری کمیشن نے خرچ میں اضافہ اور خزانہ میں کمی کی حالت کو دیکھتے ہوئے ریاست میں بجلی کی شرحوں میں 12 فیصد تک کے اضافہ کو منظوری دے دی ہے۔ سرکاری ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ کہ شرحوں میں اضافہ ہوگا اور نئی شرحیں حکومت کے ذریعہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی تاریخ سے لاگو ہو جائیں گی۔
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کر کے لکھا ہے ’’پہلے مہنگے پیٹرول ڈیزل کا بوجھ اور اب مہنگی بجلی کی مار۔ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت عوام کی جیب کاٹنے میں لگی ہے۔ کیوں؟ خزانہ کو خالی کر کے بی جے پی حکومت اب وصولی جنتا پر مہنگائی کا چابک چلا کر کر رہی ہے۔ کیسی حکومت ہے یہ؟‘‘۔
ادھر بی ایس پی سپریمو مایاوتی مایاوتی نے بھی بجلی کی شرحوں میں اضافہ کی مخالفت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ بجلی کی شرحوں کو بڑھانے کو منظوری دینا پوری طرح سے عوام مخالف فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست کے کروڑوں خاص طور سے محنت کش عوم پر مہنگائی کا اور زیادہ بوجھ بڑھے گا اور ان کی زندگی اور بھی مشکل ہو جائے گی۔ حکومت اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here