بے اُصول… با اُصول

Share Article
Karnataka Rebel Lawmakers Flew On Plane Of Firm Run By BJP Leader

 

از:مدثراحمد ایڈیٹر،روزنامہ آج کاانقلاب، شیموگہ۔ کرناٹک۔ 9986437327

 

کہتے ہیں کہ طوائفوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور وہ اپنے اصولوں کے پابند ہوتے ہیں، حالانکہ اس پیشےسے جڑی ہوئی عورتیں نہ تو حلف لیتی ہیں اور نہ ہی عہد کرتی ہیں، باوجود اس کے وہ اپنے دھندےکے اصولوںکی پابند ہوتی ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے سیاسی حلقے میں جو تماشے دیکھے جارے ہیں وہ نہایت بیہودہ ،بے حیائی اور ضمیر فروشی کی مثالیں قائم کررہے ہیں۔ خصوصاً کرناٹک اور گوا میں جس طرح سے اراکین اسمبلی اپنے ضمیروں کو بیچ رہے ہیں اُس کی مثال ہندوستان کے جمہوری نظام میں شائد ہی کبھی دیکھا گیا ہو۔اپنے آپ کو غیر مطمئن کہلانے والے اراکین اسمبلی کو اپنے عہدوںکا حلف لئے ایک سال ہی گزرا تھا کہ انہوںنے عہدے،اقتدار اور پیسوںکی لالچ میں اپنے آپ کو بیچنے کا سلسلہ شروع کردیا۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ لوگ کس بات سے غیر مطمئن ہیں،کیا انہوںنے کبھی اپنی رعایا کے تعلق سے سوچا ہے؟

Image result for rebel leaders in karnataka

اپنے اپنے حلقوںمیں بیشمار مسائل ہیں،کہیں خشک سالی کے حالات پیدا ہوئے ہیں تو کہیںسیلاب جیسے حالات پیدا ہورہے ہیں،کسانوں کےمسائل نہیں ہوپارہے ہیں،ریاست کے مسائل جوں کے توں ہیں،معاشی بحران پیدا ہونے کے حالات ہیں،ریاست میں ترقیاتی کام پوری طرح سے ٹھپ ہوچکے ہیں۔یہ لوگ عوام کومطمئن کرنے کے بجائے خود کو مطمئن کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔ریاست کے جے ڈی ایس و کانگریس کے اراکین اسمبلی اپنے مفادات کی خاطر بی جے پی سے ہاتھ ملانے کی تیاری کررہے ہیں۔کل تک ووٹرکو یہ کہا جاتا تھا کہ اپنا ووٹ کانگریس یا جے ڈی ایس کو دیں،اگر ان کو ووٹ نہیں دینگے تو بی جے پی اقتدار پر آجائیگی۔جب اس بات پر عمل کرتے ہوئے ووٹروں نے کانگریس یا جے ڈی ایس کے امیدواروں کو ووٹ دیکر کامیاب بنایا تو خود امیدوار ہی بی جے پی میں جانے لگے ہیں۔تو اب ہم ای وی ایم مشینوں کو کیونکر دوش دیں۔دراصل موجودہ دورکی سیاست،سیاست کم ضمیر فروشی کا بازار ہوچکا ہے،یہاں ووٹ جس طرح سے بکتے ہیں اُسی طرح سے ووٹ لینے والے بھی اپنے قیمتیں طئے کرتے ہیں،جس کا خمیازہ عام ووٹروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

Image result for rebel leaders in karnataka

ریاست میں ایک طرف غیر مطمئن اراکین اسمبلی نے اپنی حیثیت دکھا دی ہے تو دوسری طرف ریاست کی حکومت کے سربراہ وزیر اعلیٰ کمارسوامی اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا بھی ان حالات کے ذمہ دار ہیں۔جے ڈی ایس سے تعلق رکھنے والے کمارسوامی نے حکومت کی تشکیل کے بعد اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق اراکین اسمبلی کووزارت یا دوسرے عہدوں پر فائز کیا ہے جبکہ ان پارٹیوںمیں برسوں تک وفاداری کی تسبیح گنے والوں کو سرے سے نظرانداز کردیا۔اس کی ایک مثال اقلیتی لیڈر آرروشن بیگ بھی ہیں۔کمارسوامی نے اپنے پاس وزیر اعلیٰ کا عہدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان واپنی ذات سے جڑے ہوئے لوگوں کو وزارت میں شامل کیا تودوسری جانب سدارامیا نے بھی اپنی سوچ کو اچانک بدل کر مفادات کی خاطر پارٹی کے ضوابط کو پامال کیا ہے۔اگر کرناٹک میں حکومت تحلیل ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار صرف غیر مطمئن اراکین اسمبلی نہ ہونگے بلکہ کمارسوامی اور سدارامیا جیسے لیڈران بھی ہونگے۔

Image result for rebel leaders in karnataka

ان تمام باتوں کے درمیان مسلمانوں کو بھی اب اپنی سیاسی سوچ کو بدلنا ہوگا۔جس جے ڈی ایس و کانگریس پر اعتبار کرتے ہوئے اپنی رائے دہی یعنی ووٹنگ کا استعمال کیا تھا،وہی کانگریس و جے ڈی ایس اپنے اپنے فائدے کیلئے ووٹروں کو نقصان پہنچایا ہے۔اس میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہوا ہے،کیونکہ مسلمانوںکی90 فیصد آبادی نے کانگریس و جے ڈی ایس کو اپنارفیق کار مانا ہے،جبکہ بی جے پی کو اپنا دشمن مان کر اس سے کنارہ کشی کی ہے۔اب جبکہ کانگریس وجے ڈی ایس دونوں کے اعتبار کے قابل نہیں رہے،دونوں نےہی مسلمانوں کےجذبات و ووٹوں کے ساتھ کھلواڑکیا ہے تو مسلمانوں کو بھی آنے والے دنوں میں کیا لائحہ عمل اختیارکرناہے اس کیلئے ابھی سے تیاری کرنی ہوگی۔ہاں یہ بات اور ہے کہ لائحہ عمل تیار کرتے وقت مسلمان اپنی دلالی والی سوچ کو چھوڑ کر صحیح فیصلے لیں،اب تک قوم کو جو نقصان پہنچا ہے وہ دلالی کی وجہ سے ہی ہو اہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *