شہزادوں اور اشرافیہ کی گرفتاریاں بدعنوانی پر لگام یا انتقامی کارروائی ؟

Share Article

سعودی عرب کی سیاست میںبھونچال آیا ہوا ہے۔ شہزادوں، وزرا اور معروف کاروباری افراد کو گرفتار کر کے ان پر کارروائی کا پیش خیمہ تیار کیا جارہاہے۔ ان تمام گرفتار شدگان پر بدعنوانی کا الزام لگا ہے اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے گیے ہیں۔ حالانکہ یہ خبر بھی آرہی ہے کہ ان سب کے صرف بینک اکائونٹ منجمد کئے گئے ہیں اور جو کمپنی یا دوسرے ذرائع آمدنی ہیں ان پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ان گرفتاریوں کے پیچھے 32 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں جو حال ہی میں بنائی گئی انسدادِ بد عنوانی کمیٹی کے سربراہ بنے ہیں۔
حیران کن عمل
شہزادے کے اس عمل نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے عالم اسلام کو حیران کردیا ہے کیونکہ سعودی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں شہزادوں اور نامور شخصیتوں کے اوپر بدعنوانی کا الزام لگا ہو اور انہیں گرفتار کیا گیا ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس گرفتاری کا پس منظر کیا ہے؟ کیا واقعی بدعنوانی کو روکنا غرض ہے یا اس کے پیچھے مقصد کچھ اور ہے؟ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں۔کیونکہ حالیہ کچھ برسوں سے سعودی عرب میں بدعنوانی تیزی سے بڑھی ہے۔ رشوت اور کسی کام کے عوض خطیر رقم بطور تحفہ دینا سعودی عرب میں کاروبار کرنے کا ایک لازمی جزو بن گیا ہے۔ اہم عہدوں پر تعینات رہنے والے افراد میں سے بہتوں نے خوب دولت جمع کی ہیں۔ظاہر ہے اس بدعنوانی کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا ہے ۔کیونکہ وہاں تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے نئی حکومت کو بامقصد ملازمتیں پیدا کرنی ہوں گی اور ان منصوبوں پر پیسہ خرچ کرنا ہوگا جہاں انھیں ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں۔لیکن بدعنوانی نے جس طرح سے جڑ پکڑ لی ہے ،اس کو ختم نہیں گیا تو ملک سے بے روزگاری کو ختم کرنا مشکل ہوگا۔
ولی عہد اپنے اس عمل سے واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کاروبار کرنے کا پرانا انداز اب قابل قبول نہیں ہوگا۔ اگر سعودیوں کو 21 ویں صدی میں کامیاب قوم کے طور پر رہنا ہے تو ملک کی اصلاح کرنی ہوگی اور اسے جدید بنانا ہوگا۔اس کارروائی کے پیچھے وہ 8 سو ارب ڈالر ز کے ذاتی اثاثے بھی ہوسکتے ہیں جو شہزادوں نے آف شور اکاؤنٹس یا دیگر ملکوں میں جمع کر رکھے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ کہاں ختم ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ ’پہلا مرحلہ‘ مکمل ہو چکا۔ بیان سے لگتا ہے کہ مزید گرفتاریاں ہونے والی ہیں۔

 

 

 

 

 

بدعنوانی کے علاوہ ولی عہد کی ایک اور منشا ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ وہ سعودی عرب کو مذہبی شدت پسندی سے اعتدال پسندی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔اس کے لئے انہیں پرانی روایت کو توڑنا ہوگا۔اب تک ایسا ہوتا رہاہے کہ حکمراں السعود خاندان نے کبھی ظاہر نہیں کیا کہ قوم کے تیل کا کتنا پیسہ کن شہزادوں اور ان کے خاندان کو جاتا ہے جبکہ شہزادے اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ایسے میں کئی سعودی شہری امرا اور اشرافیہ کے خلاف صفائی کی مہم چلا کر ایک طرف وہ ملک کو اعتدال پسندی کی طرف لے جاجانے کا پیغام دے رہے ہیں تو دوسری طرف شہزادوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اب قدیم روایت نہیں چلے گی۔
سعودی اقتصادیات کے ماہر راشد حسین کے مطابق کرپشن حقیقت میں سعودی عرب کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔’سعودی عرب میں چونکہ دولت کی فراوانی رہی ہے اس لیے کرپشن سرِ عام نظر نہیں آتی ہے جس طرح دوسرے ملکوں میں نظر آتی ہے۔ لیکن کرپشن کو استعمال کر کے غالباً محمد بن سلمان نے نوجوان نسل کو جو کہ ملک کی اصل طاقت ہے، یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہیں کہ دیکھو میں ان تمام بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈال رہا ہوں جن پر اب تک کسی کو ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں ہوسکی۔
ان گرفتاریوں کے پیچھے ایک اور وجہ ہوسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ انہیں شاہی خاندان کی روایت کے برخلاف ولی عہد بنایا گیا ہے۔ ترتیب کے مطابق ابھی نائف بن عبد العزیز کو یہ حق ملنا چاہئے لیکن نہ صرف انہیں برطرف کیا گیا بلکہ کئی شہزادے جو محمد بن سلمان سے بڑے ہیں ،ان کو نظر انداز کرکے انہیں اس عہدہ پر فائز کیا گیا ہے۔ لہٰذا انہیں ان مستحق شہزدوں اور اشرافیہ جن کی حمایت ان شہزدوں کو مل سکتی تھی،ان سب پر لگام کس کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ضروری تھا۔انہیں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ قصر شاہی سے تمام ایسے شہزدوں اور اشرافیہ کو نشانہ بنایا جائے جن سے ’ست بھیا ‘یعنی شاہ سلمان کے اقتدار کویا پھر محمد بن سلمان کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے۔ایسی صورت میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ سب اختیارات کا کھیل ہے۔
اختیارات کا کھیل
اگر غور سے دیکھا جائے تو پکڑے گئے شہزادوں کا تعلق ان کے حسب نسب سے بھی نکلتا ہے کہ کون کس کا بیٹا ہے اور اس کے باپ کے ساتھ ماضی میں کیا کچھ ہوا تھا۔ چند مثالیں سامنے ہیں۔
شہزادہ الولید بن طلال
62 سالہ ارب پتی شہزادے ولید بن طلال دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے پوتوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے والد طلال بن عبدالعزیز السعود ایک آزاد سوچ کے مالک تھے اور ان کے دوسرے سعودی بادشاہوں کے ساتھ تعلقات اکثر سرد رہے تھے ۔ ایک موقع تو ایسا تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل نے، جو ان سے سخت ناراض تھے، طلال بن عبدالعزیز کی والدہ کے کہنے پر انھیں ملک میں واپس تو آنے دیا اور ان کے اثاثے بھی منجمد نہیں کیے لیکن انھوں نے کبھی انھیں معاف نہیں کیا۔
شہزادہ ولید بن طلال بھی اپنے والد کی طرح لبرل خیالات کے مالک ہیں۔ اگرچہ وہ کسی سرکاری عہدے پر تو فائز نہیں لیکن اپنے کاروباری اثر و رسوخ کی وجہ سے سعودی پالیسی بنانے میں ان کا بڑا عمل دخل مانا جاتا ہے۔سعودی عرب کے امور کے متعلق تجربہ رکھنے والے تجزیہ کار راشد حسین کہتے ہیں کہ کرپشن یا بدعنوانی کے متعلق تو مقدمات کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن ولی عہد محمد بن سلمان، شہزادہ ولید بن طلال سے اس وجہ سے بھی خطرہ محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ ولید بن طلال کو مغربی دنیا بہت جانتی ہے اور وہ انھیں ایک لبرل شخصیت کے طور پر جانتی ہے۔ان کے مغربی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی بڑے قریبی تعلقات ہیں ۔چناچہ اگر کبھی مغربی دنیا کو سعودی عرب میں کسی لبرل شخصیت کی طلب ہو سکتی تھی تو وہ ولید بن طلال کی شکل میں موجود تھی۔

 

 

 

 

 

شہزادہ مطعب بن عبداللہ
65 سالہ شہزادہ مطعب مرحوم شاہ عبداللہ کے 34 بچوں میں سے ایک ہیں۔ وہ حراست سے پہلے سعودی عرب کی طاقتور نیشنل گارڈ کے سربراہ تھے جو کہ ملک کی تقریباً آدھی فوج پر مشتمل ہے۔ باقی آدھی فوج براہ راست محمد بن سلمان کو جوابدہ تھی۔ لیکن اب ان کا کنٹرول تقریباً پوری فوج پر ہے۔راشد حسین کے مطابق ،مطعب بن عبداللہ بھی بادشاہت کے خواہاں رہے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ نیشنل گارڈز کے سربراہ تھے جو شمری قبائل پر مشتمل ہے اور شمری قبائل عبداللہ کا قبیلہ ہے۔ اس قبیلے میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ لوگ ہیں اور یہ عبداللہ اور ان کے خاندان کے بڑے وفادار ہیں۔
اس کارروائی کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے مطعب بن عبداللہ ہی وہ شخصیت تھے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب سعودی الیجیئنس کونسل میں یہ معاملہ پیش ہوا کہ محمد بن نائف کو سلطنت کے ولی عہد کی پوزیشن سے ہٹا دیا جائے اور ان کی جگہ محمد بن سلمان کو لایا جائے تو جن چند لوگوں نے اس کی مخالفت کی جرات کی تھی ،ان میں سے ایک مطعب بن عبداللہ بھی تھے۔اب ان کی گرفتاری سے محمد بن سلمان کے لیے ایک اور بڑا خطرہ سائیڈ لائن ہو گیا۔
شہزادہ ترکی بن عبداللہ
46 سالہ شہزادہ ترکی سابق شاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں۔ وہ صوبے ریاض کے گورنر رہے ہیں اور انھیں ریاض میٹرو پراجیکٹ کا بانی بھی کہا جاتا ہے اور اطلاعات کے مطابق یہی وہ پراجیکٹ ہے جس میں کرپشن کا ان پر الزام ہے۔عرب تجزیہ نگار خالد المینا کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا کہ اتنے بڑے پیمانے پر اہم عہدوں پر فائز لوگوں کو ایک ساتھ پکڑا اور نکالا گیا ہو۔ان کا کہنا ہے کہ یہ شاہی خاندان کے لیے ‘ویک اپ’ کال ہے کہ جو آدمی بھی اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرے گا چاہے اس کا تعلق شاہی خاندان سے ہی کیوں نہ ہو، اس کا یہی حشر ہو گا۔
ابراہیم بن عبدالعزیز العساف
68 سالہ ابراہیم العساف حراست کے وقت وزیرِ خزانہ تھے۔ اس سے قبل وہ تدریس کے شعبے سے بھی منسلک رہے ہیں اور انھوں نے سعودی عرب کی آئی ایم ایف میں بھی نمائندگی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان پر مکہ کی بڑی مسجد یعنی خانہ کعبہ کی وسعت کے پراجیکٹ میں کرپشن کا الزام بتایا جاتا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو کبھی محمد سلمان کے فیصلوں سے اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ خالد التویجری، سابق سربراہ ایوان شاہی، شہزادہ ترکی بن ناصر، سابق سربراہ محکمہ موسمیات اور کئی دیگر اہم عہدوں پر فائز شخصیات اور سرمایہ دار شامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق سعودی شاہی خاندان میں بڑے زبردست اختلافات ہیں اور ان اختلافات کا اثر محمد بن سلمان کی بادشاہت پر پڑ سکتا ہے اس لیے اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب کچھ کیا جائے اور مخالفین کو راستے سے ہٹا دیا جائے تاکہ 81 سالہ سلمان بن عبد العزیز کے بعد ان کی بادشاہت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔بہر کیف سعودی عرب فی الوقت سیاسی بھونچال میں گرفتارہے اور دیکھنا کہ اب سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *