خدارا مہنگائی پر کنٹرول کیجئے اور غریب عوام کو جینے دیجئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
غیر معمولی مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور اس کے باوجود حکومت اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث کے لئے آمادہ نہیںہے۔ ‘‘ یہ بیان ہے کمیونسٹ رہنا برندا کرات کا۔
’’حکومت مہنگائی کے مسئلہ پر بحث سے دامن بچانا چاہتی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عام آدمی اور اپوزیشن سے منہ چھپا رہی ہے۔‘‘یہ بیان ہے سی پی آئی قائد ڈی راجا اور گروداس گپتا کا۔
’’ہم مہنگائی کے خلاف پارلیمنٹ میں اور اس کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘ یہ بیان ہے سیتارام یچوری کا۔
اور یہ سب ہنگامہ آرائی ، یہ سب بیانات تب دئے جا رہے ہیں جب برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون ہندوستان کے دورے پر ہیں اور یقینا ان کی آئو بھگت اور ان کے اعزاز میں منعقد کی جانے والی تقریبات میں بے پناہ پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے اور ان کے اعزاز میں دئے جانے والے عشائیہ میں انواع واقسام کے کھانے پیش کئے جا رہے ہیں۔ عام آدمی کا دستر خوان خالی ہے اس کا باورچی خانہ سونا ہو گیا ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور اس مہنگائی سے جو سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے وہ متوسط طبقہ اور نچلہ طبقہ ہے، کیونکہ ان ہی طبقوں میں روز کمانا روز کھانا جیسے حالات رہتے ہیں۔ متوسط طبقہ میں بھی زیادہ تر روز کی مزدوری اور روز کی آمدنی پر ہی گزر بسر ہوتی ہے۔ ایسے میں جبکہ تنخواہیں وہی کی وہی ہیں اور بہت زیادہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں تنخواہوں میں اضافے نہیں ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہر ہفتے اشیائے خوردنی پر قیمتوں کا بڑھ جانا یقینا تشویشناک ہے ۔ اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں75سے 150فیصد تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔خوردنی اشیاء کے دام آسمان چھو رہے ہیں۔ اناج، دالیں، سبزیاں، پھل غرض کہ ہر چیز کی قیمتوں میں گزشتہ دو سالوں کے دوران10فیصد اضافہ ہو چکاہے۔ گیس سیلنڈر کے دام یک لخت 35روپے بڑھ گئے ہیں۔ دودھ کی قیمتوں میں تو پہلے ہی اضافہ ہو چکا تھا رہی سہی کسر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے کردی ۔ با وجود اس کے ہمارے وزیرپٹرولیم مرلی دیوڑا کا کہنا ہے کہ حکومت نے عام آدمی پر کوئی زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے اور انھوں نے بی جے پی پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج جب پٹرولیم مصنوعات کے دام بڑھے ہیں تو اپوزیشن کو اتنی تکلیف کیوںہو رہی ہے جبکہ بی جے پی نے خود اپنے دور اقتدار میں کیروسین کی قیمت 2روپے سے 9روپے  فی لیٹرکر دی تھی۔ ہم نے تو صرف ا س میں3روپے فی لیٹر کا اضافہ ہی کیا ہے اور اسی طرح رسوئی گیس میں بھی صرف ایک روپے کا ہی اضافی بوجھ عوام پر ڈالا ہے۔مہنگائی کم کرنے میں حکومت کتنی ایماندار ہے اور مہنگائی کا مسئلہ اٹھانے میں اپوزیشن کتنی دردمند ہے اس کا اندازہ ایک جاہل اوران پڑھ بھی لگا سکتا ہے، نہ تو حکومت کو ہی عام انسان کے دکھ درد سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو، بلکہ اگر سرکاری اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو ایک طرح سے مہنگائی کم ہی ہو رہی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے لحاظ سے مہنگائی کی شرح کا یہ سال سب سے نچلی سطح کا ہے۔ یہ خبر حیران کرنے والی ہے ،لیکن یہ حقیقت ہے !اوروہ بھی ہماری یا آپ کی نہیں سرکاری حقیقت ،اورسرکار کے مطابق17جولائی 2010کو ختم ہونے والے ہفتہ میں اشیائے خوردنی کی مہنگائی کی شرح9.67رہ گئی ہے، جبکہ اس کے ٹھیک ایک ہفتہ قبل مہنگائی کی شرح12.47تھی ،لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ نہ تو بازار میں اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں کمی کے اشارے مل رہے ہیں اور نہ ہی تھوک قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سرکار کے مطابق محض کچھ سبزیوں کو چھوڑ کر اشیائے خوردنی کاانڈکس جو گزشتہ ہفتے 297.6پوائنٹس پر تھا،وہ اسی ہفتہ 299.3فیصد پر آ گیا ہے، لیکن اسی کے برعکس مہنگائی کی شرح گزشتہ ہفتے کے مقابلہ تقریباً3فیصد کم ہو گئی ہے۔حکومت کے مطابق دراصل مہنگائی کی شرح میں کمی دکھانے کی اہم وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال 2009میں جولائی کے اسی ہفتہ میں تھوک قیمت انڈکس کافی کم تھا اور مہنگائی کی شرح اسی انڈکس کے مطابق لگائی جاتی ہے۔18جولائی 2009کو اشیائے ضروریہ کا تھوک قیمت انڈکس 272.9 فیصد کی سطح پر تھا۔ اس لحاظ سے اس وقت ا شیائے خوردنی کی مہنگائی کی شرح 8.18فیصد پر تھی ،چونکہ گزشتہ برس انڈکس نیچے تھا اسی لئے مہنگائی کی شرح بھی کم تھی۔ اسی انڈکس کو بنیاد مان کر اس ہفتہ مہنگائی کی شرح نکالی گئی ہے،جس کی وجہ سے یہ 9.67فیصد پر آ گئی ہے۔اس ہفتہ اگر اشیائے خوردنی کے انڈکس کا بیورہ دیکھیں تو اناج کی قیمتوں میں0.1فیصد ،دالوں کی قیمتوں میں0.5فیصد، پھلوں کی قیمتوں میں0.5فیصد ، دودھ کی قیمتوں میں 1.5فیصد ، گوشت،مچھلی اور انڈوں کی قیمتوں میں0.7،مصالحوں کی قیمتوں میں0.4اور دیگر اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں0.4فیصد کا اضافہ ہوا ہے، یعنی تھوک بازار میں بیشتر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن گزشتہ سال کے اعداد و شمار کی وجہ سے مہنگائی کی شرح دہائی سے اترکر اکائی میں چلی گئی ہے۔
ان تمام اعداد و شمار سے تو یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے۔ اب حکومت کی مانیں یا عوام کی خستہ حالت کو دیکھیں۔ مگر ان تمام اعداد وشمار سے ایک بات ضرور واضح ہو رہی ہے کہ قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کے لئے تھوک میں خریدنے والے ذمہ دار ہیں۔ وہ بھولے بھالے صارفین کو ٹھگ رہے ہیں۔ غریب کسانوں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں مل پا رہا ہے اور سارا منافع تاجروں کو جا رہا ہے۔سرکار کے ذریعہ چلائے جا رہے اسٹورس مختلف سرکاری مراکز اور مدرڈیری وغیرہ پر حالانکہ دال ، چاول، سبزیاں، آٹا وغیرہ سستے داموں پر مل رہا ہے مگر ایک تو ان پر بے تحاشہ بھیڑ ہوتی ہے جس کی وجہ سے خواتین تو اس بھیڑ میں گھس ہی نہیں پاتیں اور مرد حضرات بھی بے تحاشہ بھیڑ دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پھر ان اسٹورس پر وافر مقدار میں اشیائے خوردنی بھی نہیں ہوتی ہیں۔محدود ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ بھی جلد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ مہنگائی کے بڑھنے کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن تکلیف اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب وہ اناج جس کے لئے غریب عوام ایک ایک مٹھی کے لئے ترس رہے ہیں اور جس اناج کے لئے، جس مہنگائی کے لئے بی جے پی ،صدر جمہوریہ کو 10کروڑ شہریوں کے دستخطوں پر مشتمل میمورنڈم یو پی اے حکومت کو مہنگائی پر روک لگانے کی کوششوں پر ناکامی ثابت کرتے ہوئے دیتی ہے، وہی بی جے پی مہنگائی کے خلاف ’’بھارت بند‘‘ کر ا کے احتجاج درج کراتی ہے اور شاید اپنا ووٹ بینک مضبوط کرتی ہے اور آنے والے انتخابی عمل میں خود کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اس طرح مرکزی حکومت اور اپوزیشن برسرپیکار نظر آتی ہیں اور ایسے میں کسی کی نظر گو داموں میں سڑ رہے اناج کی طرف نہیں جاتی، جہاں تقریباً7,066ہزار ٹن اناج پنجاب میں سڑ جاتا ہے اور پورے ملک میں تقریباً 100لاکھ ٹن اناج کے سڑنے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ خود مرکزی حکومت نے اناج کے سروے کے اعداد و شمار دجاری کیے ہیں ، جس کے تحت ایف سی آئی کے گوداموں میں11,708ٹن اناج خراب ہو گیا ہے۔ بنگال میں1,846ٹن اناج، گجرات میں1,457ٹن اور بہار میں485ٹن اناج خراب ہوا ہے۔ لوک سبھا میں ادھیر رنجن چودھری اور ہریش چودھری کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر زراعت شرد پوار نے کہا کہ یکم جولائی 2010تک اناج کے خراب ہونے کی رپورٹ ملی ہے اور86لاکھ روپے کی قیمت کے 11,708ٹن اناج کے خراب ہو نے کی رپورٹ ملی ہے،جس میں2,486ٹن گیہوں، 9,141ٹن چاول اور 81ٹن دھان شامل ہے۔اب جس ملک میں اتنا اناج سڑ جائے ،وہاں مہنگائی کا آسمان کو چھونا لازمی ہے۔ اب اگر حکومت کوئی قدم نہیں اٹھاتی تو پھر عوام سڑکوں پر اتر آئیں گے اور قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں گے، تب شاید حکومت بیدار ہو گی، کیونکہ جہاں حق نہ ملے وہاں لوٹ ہی سہی کے مطابق جب عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر فاقہ کشی کی حد میں داخل ہو جائیں گے تو پھر اخلاقیات، ملک ، قوم ،تہذیب و تمدن سب بالائے طاق رکھا رہ جائے گا، کیونکہ بھوکے پیٹ انسان صرف بغاوت ہی کر سکتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *