پرچار نہیں عوام کے سپنے پورے کیجئے

Share Article

مودی سرکار کے دو سال پورے ہو گئے ہیں۔ دو سال پورے ہونے پر جشن منانے کی ایک روایت بھی ہے اور مرکز میں پہلی بار مودی کی قیادت میں بنی حکومت کا جوش بھی ہے۔ ہم بھی اس جشن میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ شاید ملک کا ہر شخص اس جشن میں شامل ہونا چاہتا ہے، لیکن جشن میں شامل ہونے کے حالات موافق نہیں دکھائی دے رہے ہیں اور یہ حالات ہمارے لیے تکلیف دہ ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کامیاب ہو ،یہ نہایت ضروری ہے۔ اس لیے کیونکہ پچھلے پینسٹھ سالوں میں جتنی حکومتیں آئیں، انہوں نے ایک فطری رفتار سے ترقی کا کام تو کیا، لیکن ملک کے اکثریتی عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں سجھایا۔ لوگوں کو رعایتیں تو دیں لیکن لوگوں کی زندگی میں ، زندگی گزارنے کے حالات میں تبدیلی آئے ،ایسا کچھ نہیں کیا۔ نرنیدر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد یہ ڈر تو تھا کہ ملک فرقہ ورانہ پولرائزیشن کی طرف مڑنے لگے گا، لیکن یہ بھی خطرہ اٹھا یا جا سکتا تھا۔ اگر ملک کے لوگوں کے مسائل، ان کے خواب، روزی روزگار، تھالی میں روٹی، تعلیم میں سدھار یا بیماری سے لڑنے کے ذرائع سامنے دکھائی دئے ہوتے تو۔ یہی امید تھی کہ حکومت ایسے ہی وعدے کرکے آئی ہے اور انہیں پورا کرنے کی سمت میں آگے بڑھے گی۔

اب اس سے آگے بڑھنے کی سمت میں جن لوگوں سے وعدے کیے گیے تھے وہی لوگ فیصلہ ساز بھی ہیں، ابھی بھی نریندر مودی سے ان کا یقین ہلانہیں ہے اور یقین نہیں ہلنے کے پیچھے کمزور، لنج پنج اور سوچ کی کمی والی اپوزیشن کھڑی ہے۔ پینسٹھ سال کے بعد بھی جب دینا میں انفارمیشن انقلاب ہو رہا ہے۔ لوگوں کے پاس جانکاریاں آدھی ادھوری، پوری یا جھوٹی پہنچ رہی ہیں، اس وقت بھی سرکار سمجھ رہی ہے کہ وہ پرچار کا سیلاب پیدا کرکے اب لوگوں کو بہلا سکتی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن یہ سمجھ رہی ہے کہ ہم جو بھی کریں گے اسے سرکار کے تئیں غصے سے پیدا ناپسندیدگی کو اپنا مستقبل مان کر عوام ان کی حمایت کریں گے۔ نہ سرکار سمجھ رہی ہے اور نہ ہی اپوزیشن سمجھ رہی ہے کہ لوگوں کا یقین اب دھیرے دھیرے جمہوری طریقہ کار سے ڈگمگانے لگا ہے۔ اب بہتوں کو لگنے لگا ہے کہ جمہوری نظام حکومت مسئلوں کو بڑھانے ، مسئلوں کو استحصال کے ہتھیار کے روپ میںاستعمال کرنے کا نظام حکومت ہے۔ شاید یہ بات نہ حکومت کو سمجھ میں آئے گی، نہ اپوزیشن کی سمجھ میں آئے گی۔ سمجھ میں تب آئے گی جب بے اطمینانی کا یہ راکشس سڑکوں کے اوپر سیلاب کے روپ میں زلزلہ لاتا ہوا دکھائی دے گا۔ پرچار نے اور ٹیلی ویژن نے کئی سرکاروں کو کھایا ہے۔ پہلی سرکار نرسمہا راو¿ کی سرکار تھی ،جس سرکارنے دوردرشن کو پرچار کا سب سے بڑا ہتھیار بنایا اور وہ ہتھیار نرسمہا راو¿کے خلاف گیا۔ اس کے بعد اٹل بہاری واجپائی سرکار کے خلاف پرچار دوردرشن، پرائیوٹ چینل اور اگر یاد آئے تو یاد کیجئے شائننگ انڈیا کا وہ چمتکاری نعرہ جس نے چاروں خانے زمین پر اٹل بہاری واجپائی سرکار کو گرا دیا تھا۔ اس کے بعد منموہن سنگھ سرکار پرچار کے لالچ میں اتنا پھنس گئی کہ اسے اپنے کئے ہوئے غلط کام یاد ہی نہیں آئے اور مودی سرکار جو جشن میں اور پرچار میں بری طرح الجھی ہوئی ہے۔
ہم صرف سمجھانے کی مودبانہ کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کتنا بھی پرچار کریں، کتنی بھی امیدیں پیدا کریں، کتنے بھی سپنے دکھائیں، لیکن اب ملک میں اکثریتی طبقہ کو اگر تعلیم کی نئی امید، بیماری سے لڑنے کی سہولت، بے روزگاری کے راکشس سے پریشان نوجوان اور سب سے بڑا طبقہ جسے ہم محروم طبقہ کہتے ہیںاور کسان اگر اسے کوئی امید نہیں دکھائی دیتی، تو یہ پرچار بالکل بے معنی اور بے کار ثابت ہوگا۔ اس ملک میں خشک سالی سے لڑنے کے لیے کوئی اسکیم سرکار کے پاس نہیں ہے۔ پانی کو روکنے کی کوئی مہم سرکار کے پاس نہیں ہے۔ کسانوںکی خودکشی روکنے کا کوئی حل سرکار کے پاس نہیں ہے اور سرکار نئی اسکیموں کی لمبی فہرست ٹیلی ویژن اور اخباروں کے ذریعہ خوشحالی کا پرچار کرکے اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ لوگوں کو بھرما لے گی تو مجھے اس میں شک ہے۔
ہم پھر وزیراعظم نریندر مودی سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کیوں اپنی ہی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے ملک میں کتنا کام ہوا ہے، اس کی جانکاری نہیں لیتے؟ کیوں وزیراعظم نریندر مودی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے ملک میں پھیلے ہوئے کروڑوں کارکنوں سے اس بات کی جانکاری نہیں لیتے کہ وہاں کتنا کام ہوا ہے؟ان کی اپنی اسکیمیں سب سے اہم اسکیم بجلی کی پیداوار کی تھی۔ اعدادو شمار میں ان کے وزیر پیوش گوئل کہتے ہیں کہ ہم نے تین سال پہلے ہی تمام ہدف حاصل کرلئے ہیں، لیکن گاﺅں میں تو بجلی نہیں دکھائی دیتی۔ پیداوار کے لئے بجلی کی فراہمی کے ساتھ جو بنیادی سہولتیں بڑھنی چاہئےں تھیں ،وہ تو بڑھتی نہیں دکھائی دیتیں۔ اس کے برعکس بنیادی سہولتوں کے ابتدائی نکات جن میں سڑک، پانی ، اسپتال ، بجلی،مواصلات یہ سب منتشر دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے سدھار کا اگر کوئی امکان نہیں ہے، تو پھر ہم کس بات کا جشن منائیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اسٹاف کے لوگ بھی اگر کسی کو فون کرتے ہوںگے اور کال بیچ میں ایک دو بار ڈراپ نہ ہو تو یہ کرشمہ ان کے ساتھ تو ہو سکتا ہے ،لیکن ملک کے کروڑوں لوگوں کے ساتھ یہ کرشمہ نہیں ہو رہا اور مواصلاتی کمپنیاں پرانی زبان میں کھربوں روپے اس کال ڈراپ کے جنجال کو پھیلا کر کما رہی ہیں۔ اس کے اوپر نہ وزیر اعظم کا دھیان جاتاہے اور نہ ان کے وزیر برائے مواصلات کا دھیان جارہا ہے۔ آخر میں ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں ،دو سال کا جشن منائیے ،آنے والے تین سالوں کے بھی جشن کی ابھی سے منصوبہ بندی کر لیجئے۔ لیکن کم سے کم اپنے ہی ذرائع سے، اپنی ہی پارٹی کے ذریعہ لئے گئے فیڈبیک سے اپنی آنکھوں کے سامنے پڑے اس پردے کو ہٹا دیجئے کہ ملک جہاں جانا چاہئے تھا، وہاں جا بھی رہا ہے یا نہیں جارہا ہے۔ فطری ترقی کو اپنی کامیابی مت مانیے ۔ اپنی کامیابی اسے مانیے جو فطری ترقی کی رفتار کو تیز کرے، لوگوں کی زندگی میں بدلاﺅ لائے۔ اور جب ہم لوگ کہتے ہیں تو ملک کے 70فیصد لوگوں کو اس میں شامل کرتے ہیں، صرف تیس فیصد لوگوں کو شامل نہیں کرتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم آپ کے سامنے ملک کی حقیقی صورت حال لائیں۔ہماری اس کوشش کو آپ اپنی مخالفت نہ سمجھیں اتنی گزارش تو آپ سے ہم کر ہی سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *