بہار میں ایک طرف سیلاب تو دوسری طرف بارش کے لئے مانگی جارہی ہیں دعائیں

Share Article

 

ریاست بہار عموماً ہر سال قدرتی آفت کا شکار ہوتا ہے لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف جہاں بہار کے 13 اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں، وہیں کم و بیش ہندوستان کی تمام ریاستوں کے کسان معمول سے کم بارش ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔بہار کی ستم ظریفی یہ ہے کہ نیپال میں ہو رہی لگاتار بارش سے ریاست کا ایک بڑا حصہ سیلاب کے سبب پانی میں ڈوب گیا ہے تو وہیں باقی اضلاع کے لوگ قحط سے پریشان ہیں اور بارش کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں۔

Image result for floods in bihar 2019
نیپال کے ترائی علاقوں میں ہو رہی بارش کی وجہ سے نیپال سے آنے والی ندیوں میں تغیانی آئی ہوئی ہے۔ بہار کی کوسی ندی کے علاوہ باگمتی، بوڑھی گنڈک، للبکیا، کملا بلان میں تقریباً ہر سال سیلاب آتا ہے جس کے سبب ہر سال وہاں کے لوگوں کا جان و مال کا بھاری نقصان ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کی بات کریں تو بہار کے 38 اضلاع میں سے سیمانچل علاقہ میں آنے والے 13 اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں۔

Image result for floods in bihar 2019
محکمہ موسمیات کے مطابق بہار کی راجدھانی پٹنہ، گیا، نوادہ، نالندہ، جموئی، اورنگ آباد اور بیگو سرائے سمیت کل 14 اضلاع قحط کی مار جھیل رہے ہیں۔ ان میں سے بیگوسرائے قحط سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ جون مہینے میں لو اور قحط کی وجہ سے کئی اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ ان اضلاع میں حالات تاحال بہتر نہیں ہو سکے ہیں۔محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق 21 جولائی تک بیگو سرائے میں معمول سے 60 فیصد کم بارش ہوئی، جبیہ شیخ پورہ اور روہتاس میں 56 فیصد، ارول میں 48 فیصد، بانکا میں 47 فیصد، اورنگ آباد میں 44 فیصد، نوادہ میں 42 فیصد اور گیا میں معمول سے 42 فیصد کم بارش ہوئی۔ اس کے علاوہ جہان آباد، جموئی، لکھی سرائے اور منگیر میں کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

Image result for floods in bihar 2019
موسمیاتی مرکز کا کہنا ہے کہ مانسون ابھی فعال ہے اور کچھ مقامات پر بہتر بارش کی امید ہے۔ دھان کا کٹورا کہے جانے والے روہتاس اور اورنگ آباد میں بھی اس سال بارش کم ہوئی ہے۔کھیت میں دھان کی بوائی بھی ہو گئی ہے لیکن ڈر ہے کہ کہیں مانسون دغا نہ دے دے۔‘‘ادھر بہار کا شمالی حصہ گزشتہ تقریباً 15 دنوں سے بے حال ہے۔ سڑکوں پر پانی بہہ رہا ہے اور کھیت ڈوب گئے ہین۔ گھروں کے اندر پانی بھر گیا ہے اور بازار و گلیاں پانی کی وجہ سے بند ہیں۔ ’’بہارکے 13 اضلاع شیوہر، سیتامڑھی، مظفرپور، ایسٹ چمپارن، مدھوبنی، دربھنگہ، سپول، کشن گنج، ارریہ، پورنیہ، کٹیہار اور ویسٹ چمپارن میں سیلاب سے اب تک 127 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *