پرياگ راج: گائے اسمگلر نکلا دینک جاگرن کا صحافی ’”یوگیندر نارائن شکلا”‘

Share Article

 

پرياگراج پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے گئو اسمگلنگ اور گوشت سپلائی کے دھندے کا بھانڈاپھوڑ کیا ہے۔ اس میں پانچ لوگوں کو موقع پر گرفتار کرکے دھندے سے منسلک 14 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس میں RSS کی مہم بیداری کا ایک رپورٹر بھی شامل ہے۔

 

Image result for cow supplier in up by truck

اس گروہ کے تار دہلی سے لے کر کولکاتہ، لکھنؤ تک منسلک ہیں۔ نواب گنج کے جھوكھري (آدم پور) کے رہنے والے یوگیندر نارائن شکلا کی شناخت گائے- بیل، بھینس- بھینسا جیسے مویشیوں کی اسمگلنگ کرنے والے بدنام مجرم کے طور پر ہے۔

 

Image result for cow meat supplier in india

RSS کے دینک جاگرن الہ آباد یونٹ نے اسے اٹرامپور سے رپورٹر مقرر کر دیا۔ سنگین مجرم کے طور پر اس پر نصف درجن سے زیادہ مقدمے مختلف تھانوں میں درج ہے اس کے باوجود RSS کے دینک جاگرن نے اسے صحافی کا چولا پہنا دیا۔
شیطانی مجرم نے صحافی کے طور پر علاقائی شناخت بنانے کی بعد پولیس محکمہ میں دخل جماني شروع کر دی۔ مقامی لیڈر بھی اخبار میں نام تصویر چھپوانے کی غرض سے اس شیطانی کے ساتھ گہرے رشتے بنا لئے۔ پولیس اور بعض لیڈروں کے چھپنے سے علاقے میں جانوروں کے اسمگلنگ کے دھندے بھیتیزی پکڑ لی۔شروع میں پولیس نے دھدھےبازوں سے سمجھوتہ کرنے میں ہی بھلائی سمجھی۔ نیشنل ہائی وے NH-2 دہلی – کولکاتہ سڑک کے ذریعے روزانہ مویشی لدے درجنو ٹرک بے روک ٹوک گزرتے رہے۔
ہنڈيا كوكھراج بائی پاس پر بولیرو سوار اسمگلروں کا سرغنہ دس سے بیس ہزار روپے فی ٹرک وصولی کرتا اور اپنے کارندوں کے ذریعے آگے کا راستہ کلیئر کرا دیتا۔آس پاس کی پولیس تھانوں میں اس کے نزدیکی لوگوں کی زبان پر ہے۔ ایک نومبر کو ایس ٹی ایف الہ آباد ٹیم نے دھومن گج کے ہیپیہوم کے پاس ڈی سی ایم آيشر منی ٹرک پر 18 كوئنٹل گائے کے گوشت کے ساتھ پانچ لوگ پکڑے۔ منی ٹرک کے ذریعے 40 پیٹی میں گائے کا گوشت رکھ کر چوری چھپے باہر بھیجا جا رہا تھا ۔ ایس ٹی ایف کی چھان بین میں گینگ سے منسلک 14 افراد کے نام سامنے آئے۔ سب کے خلاف الہ آباد کے دھومن گج تھانے میں اے آئی آر کرائی جا چکی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ شروع میں پولیس نے تیزی دکھائی اور الہ آباد کی میڈیا میں یہ مسئلہ نمایاں طورپر اٹھایا گیا۔

 

Image result for cow meat supplier in india

لیکن تین چار دن کے بعد معاملہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔ میڈیا نے اس اہم خبر پر اپنےپیروی کرنا بھی مناسب نہ سمجھا اور پولیس بھی بالکل آرام میں نظر آنے لگی۔ نتیجے کے طور پر ایک طرف جہاں ایس ٹی ایف کا دعوی ہے کہ کیس سے منسلک لوگوں کی تلاش کی جا رہی ہے وہیں دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ نواب گنج کا یہ شیطانی جانوروں اسمگلر کھلے عام تھانے کے ارد گرد ٹہلتے دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق معاملے کو رفع دفع کرنے کے لئے پولیس محکمہ کے سربراہ افسروں پر دباؤ ڈالنے کی شروعات بھی ہو چکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *