وارانسی میں مودی کو گھیرنے کی پروین توگڑیا نے کی تیاری، وزیر اعظم کے خلاف میں لڑ سکتے ہیں الیکشن

Share Article

togadiya-Vs-modi-banaras

بنارس: کبھی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیحد خاص رہے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سابق رہنما پروین توگڑیا نے اب انہیں ہی گھیرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ان کے قریبوں کی مانیں تو خود پروین توگڑیا وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف وارانسی سے انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ توگڑیا نے جمعہ کو اعلان کیا کہ، ان کی نو تشکیل شدہ پارٹی ملک بھر میں تقریبا 100 لوک سبھا سیٹوں پر الیکشن لڑے گی، جن میں گجرات کی 15 نشستیں بھی شامل ہیں۔

وشو ہندو پریشد کے لیڈر توگڑیا نے حال میں ہندوستان نرمان دل (ایچ این ڈی) پارٹی بنائی ہے اور پارٹی نے اپنے 41 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتر پردیش میں وارانسی، ایودھیا یا پھر متھرا سے آئندہ انتخابات لڑ سکتے ہیں۔ وارانسی لوک سبھا سیٹ کی نمائندگی وزیر اعظم نریندر مودی کرتے ہیں اور اس بار بھی وہ اسی سیٹ سے انتخاب لڑنے والے ہیں۔

توگڑیا نے کہا کہ ایچ این ڈی کا بنیادی مسئلہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کرانا، زرعی مصنوعات کے لئے بہتر قیمت اور زراعت پر مرکوز روزگار پیدا کرنا ہے۔
togadiya-Vs-modi
پروین توگڑیا لگاتار مودی پر حملہ آور ہیں اور اس سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ نریندر مودی حکومت نے رام مندر معاملے میں ملک کے ہندوؤں کا بھروسہ توڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے کسانوں اور نوجوانوں کے ساتھ بھی چھلاوا کیا ہے۔

جے پور میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں توگڑیا نے کہا، ’’مودی جی مندر نہیں بنا سکتے ہیں تو استعفیٰ دے دیں۔ ہمیں تو ملک میں رام، کسانوں کو فصلوں کی قیمت اور نوجوانوں کو کام دینے والی حکومت چاہیے تھی اس لئے لوگوں نے ووٹ دیا تھا۔ملک کو نہ تو رام ملے، نہ کسانوں کو دام ملا اور نہ ہی نوجوانوں کو کام ملا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے آج کہا کہ ملک میں نئی تعلیمی پالیسی تیار ہے۔ آر ایس ایس حکومت سے تعلیمی پالیسی تیار کروا سکتی ہے تو ساڑھے چار سالوں میں آر ایس ایس نے وزیر اعظم نریندر مودی سے رام مندر قانون کیوں نہیں بنوایا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساڑھے چار سال کی حکومت میں 52 ہزار کسانوں نیخودکشی کی اور کسانوں پر 12 لاکھ کروڑ کا قرض ہے۔ اسے دور کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا مرکز میں اکثریت کی حکومت ہونے کے باوجود کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرنے کے لئے بی جے پی کو ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *