ملک مشکل دورسے گزررہا ہے :پرنب مکھرجی

Share Article
pranab
انتظامیہ اور اداروں کے کام کاج کو لے کر خراب صورتحال کی طرف دھیان دلاتے ہوئے سابق صدرجمہوریہ ہند پرنب مکھرجی نے کہاکہ انسٹی ٹیوٹ قومی کردار کا آئینہ ہیں اورہندوستان کی جمہوریت کوبچانے کیلئے انہیں لوگوں کا بھروسہ دوبارہ جیتنا چاہئے۔پرنب مکھرجی دہلی میں’’امن، آہنگی اورخوشی، تبدیلی کی منتقلی‘‘ کے موضوع پرقومی اجلاس کے افتتاح کے موقع پرخطاب کررہے تھے۔ انہوں نے آئینی اداروں اورریاست کے درمیان طاقت کے مناسب توازن کی ضرورت پرزوردیاجیسا کہ آئین میں فراہم کردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی خود اعتمادی بحالی کے لئے سدھاراداروں کے اندرسے ہونے چاہئے۔

پرنب مکھرجی فاونڈیشن اورسینٹرفارریسرچ ان رورول ڈیولپمنٹ کے ذریعہ منعقدہ تقریب میں سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ ’’ہمارے آئین نے مختلف اداروں اورریاست کے درمیان طاقت کا ایک مناسب توازن فراہم کیا ہے۔ یہ توازن بنائے رکھا جانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 برسوں میں ملک نے ایک کامیاب پارلیمانی جمہوریت، ایک آزاد عدلیہ اورالیکشن کمیشن، کمپٹرولراورآڈیٹرجنرل، سینٹرل ویجیلنس کمیشن اورسینٹرل انفارمیشن کمیشن جیسے مضبوط ادارے قائم کئے ہیں، جوہمارے جمہوری ڈھانچے کوزندہ رکھتے ہیں اورانہیں مضبوط کرتے ہیں۔


پرنب مکھرجی نے کہا کہ ملک کوایک ایسی پارلیمنٹ کی ضرورت ہے جوبحث کرے اورفیصلے کرے، نہ کہ رکاوٹ ڈالے، ایک ایسی عدلیہ کی ضرورت ہے جوبغیرتاخیرکے فیصلہ اورانصاف فراہم کرے۔ ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جوقوم کے تئیں وقف ہواوران اقدارکی ضرورت ہے، جوہمیں ایک عظیم تہذیب یافتہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جولوگوں میں اعتماد پیدا کرے اورجوہمارے سامنے پیدا ہوئے چیلنجزسے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔انہو ں نے کہاکہ حالیہ ماضی میں یہ ادارے سنگین دباؤ میں رہے ہیں اوران کی اعتماد پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ اجودھیا میں متنازعہ مقام پررام مندرتعمیرکولے کرتیزہوتی آوازکے درمیان سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی نے ملک کے حالات کولے کرتشویش کا اظہارکیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت برے ،خراب اورمشکل دورسے گزررہا ہے، جہاں تعصب اورتنگ نظری میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ سابق صدرجمہوریہ نے کہا کہ جس سرزمین نے دنیا کوخاندان کے اقداراوررواداری، تہذیب وثقافت کے تصورکوفروغ دیا، وہ اب تعصب، غصے کا اظہاراورحقوق انسانی کی خلاف ورزی کولیکرخبروں میں ہے۔سابق صدرجمہوریہ نے کہا کہ امن اوربھائی چارہ تب ہوتا ہے جب کوئی ملک دوسروں کا احترام کرتا ہے، عدم تعصب کواپناتا ہیاورمختلف طبقات اورمذاہب کے دوران بھائی چارہ کو فروغ دیتا ہے۔سابق مرکزی وزیراوربی جے پی رکن پارلیمنٹ مرلی منوہرجوشی نے اس موقع پرخطاب کیا اورپرامن، ہم آہنگی اور خوشگوار معاشرے بنانے کی سمت میں کام کئے جانے پر زور دیا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *