اسلامک کانفرنس میں خنزیر کا گوشت 

Share Article


جرمنی کے شہر برلن میں اسلام کے بارے میں کانفرنس میں دیے گئے کھانے میں سور کے گوشت سے تیار کردہ ڈش پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ تنازع کے بعد وزارتِ داخلہ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جرمن اسلامک کانفرنس میں کھانے کا انتخاب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔وزارتِ داخلہ نے اس واقعے کہا ہے کہ’ اگر کسی شخص کے مذہبی جذبات مجروع ہوئے ہیں تو اس پر معافی مانگتے ہیں۔

 

اس کانفرنس کا انعقاد وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے کیا تھا اور انھوں نے مارچ میں کہا تھا کہ’ اسلام کا تعلق جرمنی سے نہیں ہے۔‘مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کانفرنس کے شرکا میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔
کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے کھانے میں کل 13 پکوان تھے اور ان میں سبزیاں، گوشت اور مچھلی شامل تھی جبکہ بوفے میں رکھے گئے پکوانوں کے بارے میں واضح الفاظ میں لکھا گیا تھا۔مگر سوال یہ ہے کہ جب منتظمہ کو معلوم تھا کہ مذہب اسلام میں سور کا گوشت حرام ہے تو پھر اسے رکھا ہی کیوں گیا تھا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *