پوپ فرانسس کا دورہ میانمار کتنا موثر ہوگا قیام امن میں ؟

Share Article

میانمار میں گزشتہ کچھ برسوں میں مسلم طبقہ پر جو زیادتیاںہوئی ہیں ، اس نے پوری دنیا میں وہاں کی حکومت خاص طور پر آنگ سان سوچی کی شبیہ کو بہت خراب کیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت یوروپین اور عرب ممالک اگست سے اب تک 6 لاکھ سے زیادہ افراد کے ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش کی سرحد پر پناہ لینے والوں کی زبوں حالی پر نہ صرف افسوس کا اظہار کرتے رہے ہیں بلکہ ان کی بازیابی کی اپیل بھی شد و مد سے کئے ہیں مگر وہاں کی حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ابھی حال ہی میں عیسائیوں کے کے روحانی پیشوا80سالہ پوپ فرانسس نے میانمار اور بنگلہ دیش کا چار روزہ دورہ کیا۔میانمار کا آج تک کسی بھی پوپ نے دورہ نہیں کیا تھا ۔ یہ پوپ فرانسس کا پہلا دورہ ہے جبکہ سابق پوپ جان پال دوم نے 1986 میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا ۔
اس دورے کے دوران انہوں نے اگرچہ اپنی اہم تقریر میں مسلم روہنگیا کمیونٹی کی اصطلاح کا استعمال نہیں کیا مگر دوران تقریر انہوں نے ہر نسلی گروہ کے احترام کا مطالبہ کیا ۔حالانکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے پوپ پر زور دیا تھا کہ وہ اس کمیونٹی کی حمایت میں اس کے لئے متعین اصطلاح کا استعمال کریں۔لیکن اس کے باوجود انہوں نے مسلم روہنگیائی طبقہ کی اصطلاح کا استعمال کرنے سے گریز کیا ۔اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ملک میں کیتھولک چرچ نے ان سے کہا تھا کہ اس اصطلاح کے استعمال سے ملک میں کیتھولک عیسائیوں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔بس یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کسی ایسی اصطلاح کے استعمال سے گریز کیا۔ یاد رہے کہ پوپ فرانسس نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے دفاع میں کئی بار اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور حالیہ دورہ میں اگرچہ مخصوص اصطلاح کے استعمال سے گریز کیا مگر انہیں جو پیغام دینا تھا ، وہ انہوں نے دے دیا۔
دراصل میانمار کی حکومت نے ان افراد کے لیے(روہنگیائی مسلمانوں کے لئے ) روہنگیا کی اصطلاح کے استعمال سے انکار کرتے ہوئے انھیں ’بنگالی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد غیرقانونی طور پر نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش سے آئے تھے، اس لیے انھیں ملک کے نسلی گروہوں کی فہرست میں شامل نہ کیا جائے۔حالانکہ پوپ فرانسس نے روہنگیا مسلمانوں کا براہ راست کوئی حوالہ نہیں دیا لیکن ان کی تقریر نسلی گروہوں کے حقوق کے دفاع کے بارے میں تھی۔
انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میانمار کا مستقبل امن ہونا چاہیے، وہ امن جس میں معاشرے کے ہر رکن کے وقار اور حقوق کا احترام ہو، ہر نسلی گروہ اور اس کی شناخت کا احترام ہو، قانون کی بالادستی کا احترام ہو اور ایک ایسی جمہوری حکومت جس میں ہر فرد اور ہر گروپ کا احترام ہو اور اس میں سب کو جائز حصہ دیا جائے۔پوپ فرانسس نے کہا کہ ’میانمار کا سب سے بڑا خزانہ اس کے لوگ ہیں۔ انھیں بہت مصائب اٹھانے پڑے اور طویل سول تنازع اور دشمنیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تفرقے کی وجہ سے وہ مصیبتیں اٹھاتے رہیں گے‘۔
اب جبکہ قوم امن کی بحالی کے لیے کام کررہی ہے، ان زخموں کی شفا یابی ایک اہم سیاسی اور روحانی ترجیح ہونی چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ’مذہبی اختلافات کو تفریق اور بداعتمادی کا ذریعہ بنانے کے بجائے اتحاد، برداشت اور عقلمندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اسے قومی تعمیر کے لیے طاقت بنانے کی ضرورت ہے‘۔

 

 

 

 

 

 

قابل ذکر ہے کہ ماضی میں پوپ فرانسس روہنگیا کی اصطلاح استعمال کرچکے ہیں اور اس وقت انھوں نے انھیں اپنے روہنگیا بھائیوں اور بہنوں کے الفاظ سے خطاب کیا تھا۔ پوپ نے میانمار میں ایک انتہائی قوم پرست بودھ راہب اور مسلح افواج کے کمانڈر سے بھی ملاقاتیں کی اور ان کے سامنے اپنی رائے کو زیادہ واضح انداز میں ظاہر کیا۔انھوں نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر آنگ سان سوچی نے اپنی تقریر میں براہ راست روہنگیا مسلمانوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ریاست رخائن کی صورتحال نے دنیا میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔
انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ رخائن میں سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل نے مختلف کمیونیٹز کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم، ہم آہنگی اور تعاون کو خراب کیا ہے۔
آنگ سان سوچی نوبل امن یافتہ ہیں لیکن روہنگیائی مسلمانوں پر نسل کشی کے تعلق سے ان کی خاموشی نے پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا اوران پر تنقید کی جاتی رہی ۔ نیز امن ایوارڈ واپس لینے کا مطالبہ بھی ہوتا رہا۔ اسلامی تعاون تنظیم سے وابستہ تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی ادارے آئسسکو نے نوبل انعام سے نوازنے والی ناروے کی کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ میانمار حکومت کی سرپرست آنگ سانگ سوچی سے امن کا نوبل انعام جلد سے جلد واپس لے۔آئسسکو نے اپنے بیان میں کہا کہ آنگ سانگ سوچی ، امن کا نوبل انعام رکھنے کاحق کھوچکی ہیں کیونکہ ان کی زیرقیادت حکومت روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف غیرانسانی اقدامات کر رہی ہے۔اسی دوران آکسفورڈ کی سٹی کونسل نے آنگ سان سوچی کو 1997 میں دیا گیا ’’فریڈم آف آکسفورڈ ایوارڈ ‘‘ ایوارڈ مستقل طور پر واپس لینے کے سلسلے میں متفقہ طور پر ووٹ دیا گیااور کہا گیا کہ تشدد کے معاملے پر آنکھیں بند کرنے والے افراد کو اعزاز دینے سے آکسفورڈ پر کلنک کا ٹیکہ لگ رہا ہے۔
واضح رہے کہ میانمار کی 5 کروڑ30 لاکھ آبادی میں اندازے کے مطابق صرف ایک اعشاریہ تین فیصد افراد کیتھولک ہیں۔ ملک میں 88 فیصد آبادی بودھ مت سے تعلق رکھتی ہے جبکہ کل 6 فیصد افراد عیسائی ہیں۔میانمار کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پوپ فرانسس نے بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک چھوٹے سے گروپ سے ملاقات کی اور انہیں ان کے حقوق ملنے کی خواہشات کا اظہار کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *