فحش سیاست سے شرمسار جمہوریت؟

Share Article

ڈاکٹر مہتاب امروہوی
سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک بار نیوز چینل ’’آج تک‘‘ پر انٹرویو دیتے وقت پربھو چاؤلہ کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ کنوارے ہیں، لیکن برہمچاری نہیں۔ اس انٹرویو کو لے کر کافی وبال ہوا تھا۔ ملک اور بیرون ممالک میں بھی اس کا کافی چرچا رہا، حالانکہ واجپئی جی نے یہ بات بھلے ہی مذاق میں کہی ہو یا پھر اپنی زندگی کی حقیقت کا اظہار کیا ہو، یہ تو وہ ہی بتاسکتے ہیں، لیکن بات بے حد سنجیدہ تھی کہ سیاست میں آکر انسان عیاشی کی طرف ضرور راغب ہوجاتا ہے۔ الیکشن کے دوران عوام سے کیسے کیسے وعدے کیے جاتے ہیں؟ کیسے کیسے سبز باغ دکھاکر ان کے ووٹ حاصل کر کے یہ ہمارے نمائندے کیا گل کھلاتے ہیں؟اب بالکل پوشیدہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں کسی ایک پارٹی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، بلکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔
کانگریس پارٹی کے قد آور لیڈر اور یوپی اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ رہ چکے نرائن دت تیواری کا نام سیکس اسکینڈل میں سب سے زیادہ چرچا میں رہا۔ آندھرا پردیش کے گورنر رہتے ہوئے ان کی غیر عورتوں کے ساتھ برہنہ تصویروں نے ان کی گورنر شپ کو داغ لگا دیا اور انہیں واپس بلالیا گیا۔ ان کی مبینہ محبوبہ اجولا شرما کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر غور ہے، جس میں شیکھر روہت نامی نوجوان ان کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ حالانکہ اس کا کہنا ہے کہ اسے صرف باپ کا نام چاہیے، اسے زمین جائیداد سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ این ڈی تیواری نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ سیاست کے بام عروج پر پہنچ کر عمر کے آخری ایام میں یہ کرکری ہوگی۔
ملک کے مختلف صوبوں میں عوامی نمائندوں پر جسمانی استحصال کے معاملوں میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے، جس کو لے کر جمہوریت پر خطرہ منڈلانے لگا ہے۔عوام میں یہ تاثر بڑھتا جارہا ہے کہ آخر وہ کس پیمانے کو بنیاد بنا کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ گزشتہ دنوں پورنیہ بہار کے ایک ممبر اسمبلی(بی جے پی) راج کشور کیسری کو ایک اسکول کی ٹیچر پورنیما پاٹھک نے دن دہاڑے تیز دھار دار ہتھیاروں سے ہلاک کردیا، اس عورت نے الزام لگایا ہے کہ کیسری ان کا گزشتہ تین سال سے جسمانی استحصال کررہے تھے۔ اس نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے لے کر تھانہ سطح تک اپنی درخواستیں دے کر اپنی آپ بیتی بیان کی تھی، لیکن اقتدار کے نشے میں چور اس لیڈر کے خلاف معمولی سی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوسکی تھی۔ روپم کا واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ جب انسانی ظلم و زیادتی بڑھ جاتی ہے تو اس کا انجام بے حد بھیانک ہوتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ پولس اور قانون کو سیاست دانوں نے اپنے دروازے کی لونڈی بنانے پر مجبور کردیا ہے، جو جمہوری ملک کے آئین کی توہین ہے۔
اسی طرح اترپردیش کے باندہ کے ایم ایل اے پرشوتم دویدی پر ایک نابالغ لڑکی کو باندھ کر زبردستی زنابالجبر کیے جانے کا الزام لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نامرد ہیں۔ بی ایس پی کے اس ممبر اسمبلی نے خود کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے اپنی میڈیکل جانچ کرانے کا دعویٰ بھی کرڈالا۔ میڈیکل جانچ میں دویدی کو مرد پایا گیا اور پولس نے معاملہ درج کرلیا، جس کے بعد وزیراعلیٰ مایاوتی نے چار پولس والوں اور ایک جیلر کو معطل کردیا نیز کئی افسران کو بھی معطل کیا گیا اور اے ڈی جی برج لال کو معاملہ کی تفتیش کا حکم دیا گیا ہے۔
اترپردیش کے ہی سلطان پور صدر کے ممبر اسمبلی انوپ سنڈا پر ایک مسلم لڑکی ثمرین نے الزام لگایا ہے کہ اس کی بیٹی کو اغوا کرلیا گیا اور اس کے بیوٹی پارلر پر حملہ کر کے اس کو ممبراسمبلی کے پٹرول پمپ پر حملہ کر کے نقصان پہنچانے کا ملزم بنا دیا گیا۔ اترپردیش کے مشہور ممبراسمبلی امرمنی ترپاٹھی کا معاملہ اب بھی لوگ نہیں بھولے ہوںگے۔ لکشمی پور کے اس ممبر اسمبلی نے ایک شاعرہ مدھومیتا شکلا کا 2003 میں جسمانی استحصال کرنے کے بعد اس کا قتل کردیا تھا، جس میں ممبراسمبلی عمرقید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ بلند شہر کے ڈبائی کے ممبراسمبلی بھگوان داس شرما پر بھی آگرہ یونیورسٹی کی ایک طالبہ کا اغوا اور زنابالجبر کی رپورٹ 2008 میں درج ہوئی تھی۔ ایک معاملے میں انہیں ضمانت مل گئی، جب کہ دوسرے معاملے میں اب بھی جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ فیض آباد سے بی ایس پی کے ممبراسمبلی آنند سین یادو پر ایک دلت طالبہ کے ساتھ زنا بالجبر اور قتل کا معاملہ بھی روشنی میں آیا ہے۔ گزشتہ دو سال سے وہ جیل میں بند ہیں۔ مہراج گنج(اترپردیش) سے سماجوادی پارٹی سے ایم ایل اے منتخب ہونے والے شری پت آزاد پر بھی الزام لگا ہے کہ انہوں نے اپنی ایک کارکن ساوتری دیوی کا جسمانی استحصال کیا۔ پولس نے آزاد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا اور بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہوگئے۔ بلند شہر ضلع کے ایک اور ممبراسمبلی پر بھی کچھ ایسے ہی الزامات لگے ہیں، جن کی تفتیش ہورہی ہے۔ اتراکھنڈ کے ایک وزیر پر بھی عورتوں کے جسمانی استحصال کی خبریں میڈیا میں آئیں، جس کے بعد وزیر موصوف کو اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی عوامی نمائندوں پر عورتوں کے جسمانی استحصال کی خبریں آرہی ہیں۔ یہ صورت حال بے حد خطرناک ہے، کیوں کہ ہم نے جس جمہوری ملک کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا عہد لیا تھا، وہ تقریباً بکھرتا جارہا ہے۔ اب ملک کے عوام کو اس پر بے حد سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ وہ کیسے نمائندے منتخب کریں تاکہ جمہوری ملک کی اقدار و روایات کو داغدار ہونے سے بچایا جاسکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *