سیاسی پارٹیاں الیکٹورل بانڈ کے ذریعے چندے کی معلومات الیکشن کمیشن کودیں: سپریم کورٹ

Share Article

 

نئی دہلی، 12 اپریل (ہ س)۔ سپریم کورٹ نیسبھی سیاسی جماعتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ الیکٹورل بانڈ کے ذریعے چندے کی معلومات الیکشن کمیشن کو دیں۔ جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ یہ اطلاع 31 مئی تک الیکشن کمیشن کو سیل بند لفافے میں دی جائے۔

 

Image result for election commission of india

 

سپریم کورٹ نے کہا کہ 15 مئی تک انہیں الیکٹورل بانڈ کے ذریعے جو بھی چندہ ملا ہے اس کی معلومات 31 مئی تک سونپیں۔ یہ سیل بند لفافے الیکشن کمیشن کے پاس اس وقت تک رہیں گے جب تک سپریم کورٹ اس معاملے میں آخری فیصلہ نہیں کر لیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈ پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں چندہ دہندگان، اکاؤنٹ، رقم سب کی تفصیلات دیں۔کورٹ نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ اس حکم کے مطابق الیکٹورل بانڈ کے بارے میں اہم نوٹیفیکیشن میں تبدیلی کریں۔ کورٹ آخری سماعت کے لئے تاریخ کا اعلان بعد میں کرے گا۔ گزشتہ 11 اپریل کو عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ گزشتہ 10 اپریل کو سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے اپنے پہلے کے موقف سے یو ٹرن لے لیا تھا۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ وہ پارٹیوں کی فنڈنگ کے لئے الیکٹورل بانڈ کے خلاف نہیں ہے، بلکہ وہ چندہ دینے والوں کے نام خفیہ رکھنے کے خلاف ہے۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اس بات کی یاد دلائی تھی کہ اس نے مرکز کو لکھے گئے خط میںالیکٹورل بانڈ کو ایک اچھا قدم نہیں مانا تھا۔ کورٹ نے پوچھا تھا کہ کیا آپ کا موقف بدل گیا ہے۔

 

Image result for supreme court of india

 

اس پر الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ الیکٹورل بانڈ میں کچھ بھی غلط نہیں ہے لیکن الیکٹورل بانڈ میں فنڈ دینے والوں کے نام عام ہونے چاہئیں کیونکہ الیکشن کمیشن اور لوگوں کو سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ وکیل پرشانت بھوشن نے اس پر فوری طور پر روک لگانے کا بھیمطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ 5 اپریل کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ اپنے مطالبہ کی حمایت میں ثبوت دیں، ہم اس پر غور کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے حلف نامہ دائر کرکے الیکٹورل بانڈ کی مخالفت کی تھی جبکہ مرکزی حکومت نے اس کی حمایت کی تھی۔ گزشتہ 2 فروری کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ پٹیشن سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے بھی دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست کو ایک این جی او کی طرف سے دائر ایک اسی طرح درخواست کے ساتھ ٹیگ کر دیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *