گجرات میں سیاسی پارٹیاں انتخابات میں مسلمانوں سے بچتی رہیں

Share Article

ریاست گجرات میں2017 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج ملک کے سامنے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق 9.67 فیصد مسلم آبادی والی ریاست میںدونوںبڑی سیاسی پارٹیوںبی جے پی اور کانگریس کے اپنے اپنے احتیاط کے باوجود گزشتہ بار کے دو کامیاب امیدواروں کے مقابلے اس بار 4 مسلم امیدوار اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ یقیناً خوشی کی بات ہے ۔ کیونکہ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ گجرات اسمبلی میںمسلم نمائندوںکے کم ہوتے ہوئے گراف پر کسی حد تک روک لگی ہے اور یہ گزشتہ بارکے مقابلے دوگنا ہوگیا ہے۔
سیاسی پارٹیوںکا رویہ
واضح ہو کہ یہ وہی ریاست ہے جہاں1980 میں کانگریس نے 17 مسلمانوں کو ٹکٹ دیے تھے جن میںسے 12 کامیاب ہوئے تھے۔ اسی طرح 1985 میں8، 1990 میں2، 1995 میںایک، 1998 میں5، 2002 میں 3، 2007 میں 5اور 2012 میں 2 امیدوار اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ کانگریس کم و بیش مسلمانوںکو چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی کھڑا کرتی رہی ہے۔ اس نے گزشتہ بار کے 7 کے بالمقابل اس بار صرف 6 مسلمانوںکو ٹکٹ دیے تھے جن میںسے 4 جیتے۔ جہاںتک بی جے پی کا سوال ہے،اس نے 1995 اور 1998 کے انتخابات میںایک ایک مسلمان کو کھڑا کیا تھا مگر اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہے۔
اس بار 2017 میںکانگریس کے کھڑے کیے گئے کل 6 مسلم امیدواروں میں سے 4 کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دریا پور سے کانگریس کے امیدوار شیخ غیاث الدین ہیں، جنھیںکل ووٹ 63 ہزار 712 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی کے بھرت باروت نے 57 ہزار 525 ووٹ حاصل کیے۔ دوسرے کامیاب مسلم امیدوار وانکانیر سیٹ سے کانگریس کے پیر زادہ محمد جاوید عبد المخاطب ہیں، جنھوںنے 72 ہزار 588 اور بی جے پی کے جتیندر کانتی لا ل کومانی نے 71 ہزار 227 ووٹ پائے ہیں۔جبکہ تیسرے جیتنے والے ڈاسڈا سے کانگریس کے سولنکی نوشاد جی بالا بھائی ہیں۔ انھیں74 ہزار 9 ووٹ ملے ہیں اوران کے حریف رام لال ایشور لال وورا نے 70 ہزار 281ووٹ پائے ہیں۔ چوتھے کامیاب مسلم امیدوار جمال پور کھڑیا سے کانگریس کے عمران یوسف بھائی ہیں جنھیں 75 ہزار 346 اور ان کے بی جے پی کے حریف بھوشن اشوک بھٹ کو 46 ہزار 7 ووٹ ملے ہیں۔
یہ تو ہوئی گجرات اسمبلی میں1980 سے لے کر اب تک کے نشیب و فراز کی کہانی۔ اب آئیے،ذرا جائزہ لیتے ہیںکہ گجرات میںکل 203 مسلم امیدواروںکو ووٹ فیصد اس بار صرف اور صرف 1.6 فیصد یعنی 5 لاکھ 4 ہزار ہی کیوںملا جبکہ 2017 میں اترپردیش میںہوئے اسمبلی انتخابات میںکل مسلم امیدواروں نے 13.36 فیصد ووٹ حاصل کیا تھا اور وہ بھی تب جب وہاں گجرات کے مقابلے بی جے پی کی لہر بہت زیادہ تھی۔
اس کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ گجرات کا مسلمان انتخابات میںسیاسی پارٹیوں کے طرزعمل اور مفاد پرستانہ حکمت عملی کے سبب دلچسپی کھوتا جا رہا ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جو کبھی دہلی میںہوئی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے بڑی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کو چھوڑ کر سیاست میںنووارد عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا اور یہاں کی 70 سیٹوں میںسے 67 سیٹوں پر اس کے امیدواروں کو جتانے میںاہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ریاست گجرات کے اس تجربہ سے کانگریس کو بیدار ہوجانا چاہیے اور کسی غلط فہمی میںنہیںرہنا چاہیے۔ جب ووٹروں میںسے کوئی طبقہ اس سے بد ظن ہوجائے گا تو بیزاری کے نتیجے میںاپنا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لے گا اور اس سے دور چلا جائے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

شارٹ ٹرم فائدہ
دراصل سیاسی پارٹیاں اپنا فوراً فائدہ دیکھتی ہیں،وہ دور تک نہیںدیکھ پاتی ہیں۔ ریاست گجرات میںیہ تو دکھائی پڑا کہ وہاںفی الوقت مسلم امیدوار کھڑے کرنے میںفائدہ کم ہے مگر وہ یہ نہیںدیکھ پائیں کہ مسلم ووٹرس ان کے مسلم امیدواروں میںدلچسپی کیوںکھوتا جارہا ہے۔ غور طلب ہے کہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میںکل 1828 امیدوار کھڑے ہوئے تھے جن میںسے 203 مسلمان تھے جو کہ کل امیدواروںکا 11.1 فیصد ہوئے مگر انھیں کل ووٹ ملا محض 1.6 فیصد۔
یہ بات یقینا چونکانے والی ہے کہ اس بار 2017 کے گجرات اسمبلی انتخابات میںمسلم امیدواروںکو ملا 1.6 فیصد ووٹ 2002 کے بعد سب سے کم ووٹ فیصد ہے ۔ عیاںرہے کہ 2002 کے پرتشدد واقعات کے چند ماہ بعدہوئے اسمبلی انتخابات میںکل 57 مسلم امیدواروں کو صرف 2 لاکھ 87 ہزار ووٹ ملے تھے۔ یعنی 1.4 فیصد جو کہ 2017 میںملے 1.6 فیصد ووٹ سے بھی کم تھا۔ مسلم امیدواروں کا ووٹ شیئر 2007 میںبڑھ کر 4 لاکھ 13 ہزار اور 2012 میںبڑھ کر 6 لاکھ 51 ہزار ہوگیا۔ قابل ذکر ہے کہ 2007 میں116 امیدوار اور 2012 میں192 مسلم امیدوار میدان میںتھے۔
ذہن نشین رہے کہ گجرات اور اترپردیش کی مسلم تعداد یا فیصد میںجو فرق ہے،وہ بڑا اور واضح ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، اترپردیش میں مسلم آبادی 19.26 فیصد ہے۔ وہاں بی جے پی کے حق میںلہر کے سبب بی جے پی 403 سیٹوںمیں سے312 پر قابض ہوئی جبکہ مسلم امیدواروںکو کل 13.36 فیصد ووٹ ملے۔اس کے بالمقابل 2017 کے گجرات انتخابات میں ہر مسلم امیدوار کو اوسطاً 2 ہزار 487 ووٹ ملے جبکہ ہر غیر مسلم امیدوار نے18 ہزار 292 ووٹ حاصل کیے جو کہ 7 گناہ سے بھی زیادہ ہوا۔ وہیںکانگریس کے ذریعہ 2017 میںکھڑے کیے گئے 6 مسلم امیدواروں کے لیے خلیج مزید کم ہوئی۔ کیونکہ ان میںسے ہر ایک نے اوسط طور پر 64 ہزار 598 ووٹ اسی پارٹی کے 170 غیر مسلم امیدواروں کے اوسط ووٹ کے ہر ایک امیدوار کے 70 ہزار 890 کے مقابلے پائے۔
یہ بھی غورطلب ہے کہ کانگریس نے بی جے پی کے پولرائز یشن کے خوف سے مسلمانوں اور مسلم علاقوں سے بچنے کی جو حکمت عملی بنائی،اس سے اسے نقصان ہوا ۔ مثال کے طور پر گودھر اکو ہی لیں جو 2002 کے سانحہ کے سبب سینٹر اسٹیج پر آگیا تھا اور 2002 کا گراؤنڈ زیرو بھی بن گیا تھا۔ یہاںکانگریس کے باغی لیڈر سی کے راؤلجی کے میدان میںکھڑے ہونے اور کا نگریس کے حق میںذات برادری کا تال میل ہونے سے یہ طے تھا کانگریس آگے ہے مگر 5 اقلیتی امیدواروں کے کھڑے ہوجانے سے صورت حال اچانک بدل گئی۔ بی جے پی نے راؤلجی کو کھڑا کیا تھا جبکہ کانگریس کے امیدوار راجندر سنگھ پرمار تھے۔ کانگریس کو مسلمانوں سے بچنے کی پالیسی بنانے کے باوجود امید تھی کہ اقلیتوں اور او بی سی کا ووٹ انھیںہر حال میںملے گا ہی کیونکہ اس کے خیال میںمسلمانوں کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیںتھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا اور مسلم ووٹ کی تقسیم ہونے سے بی جے پی کے امیدوار راؤلجی محض 258 ووٹ سے ہی صحیح لیکن جیت گئے۔ دوسری طرف پانچوں آزاد اقلیتی امیدوار مختار منصوری ایکا پینٹر لالہ، مہندیشا دیوان، عنایت خاں پٹھان،واسن بھانہ اور زبیر عمر جی نے کل ایک لاکھ 78 ہزار 911 ووٹ میںسے محض 4 ہزار 331 ووٹ حاصل کیے۔ مگر اتنے کم ووٹ بھی کانگریس کے راجندر سنگھ کو شکست دینے کے لیے کافی تھے۔ ا س کے علاوہ بھی ایک اور وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اقلیتی کمیونٹی کے دو ہزار سے زائد ووٹ بی جے پی کے راؤلجی کو ملے کیونکہ انھوںنے اس دوران ان مسلمانوں سے روابط بنائے اور رکھے جو کہ قبل ان کے کانگریس میںرہتے ہوئے ان سے قریب تھے جبکہ کانگریس پولرائزیشن کے خوف سے مسلمانوں کے پاس جاہی نہیں رہی تھی اور ان سے ووٹ کی خوامخواہ توقع کررہی تھی۔
دراصل گودھرا کا یہ واقعہ کانگریس و دیگر سیکولر کہلانے والی پارٹیوںکے لیے ایک زبردست الٹی میٹم ہے کہ انھیںاقلیتوں و او بی سی ووٹروں کو اعتماد میںرکھنے کے لیے ان سے روابط رکھنا پڑے گا، محض یہ سمجھ لینے یا سوچ لینے سے کہ ان کا ووٹ بی جے پی کے خوف سے انھیںہر حال میںملے گا ہی،کسی طرح صحیح نہیں ہے اور یہ خام خیالی ہے۔

ارّیلیوینٹ بنا دیے گئے گجراتی مسلمان کسی تیسری سیاسی قوت کے منتظر
ریاست گجرات میں2011کی مردم شماری کی روشنی میںمسلمان کل آبادی کا 9.67 فیصد ہیں۔ یہ آبادی کے لحاظ سے ریاست میںپاٹیداروں سے 4 فیصد کم اور دلتوںسے چار فیصد زیادہ ہیں۔ لیکن گجرات اسمبلی انتخابات میںدونوںبڑی سیاسی پارٹیوں کا مسلمانوں کے تئیںجو رویہ رہا، وہ بڑا ہی افسوسناک ہے۔ جہاں تک بی جے پی کا معاملہ ہے،1998 کے بعد اس نے کسی مسلمان کو نہ ٹکٹ دیا اور نہ ہی ان کا اپنے انتخابی منشور میںکوئی تذکرہ کیا جس سے یہ محسوس ہوا کہ مسلمانوں کی 9.67 فیصد آبادی کو یہ اپنے لیے خاطر میںنہیںلاتی ہے مگر یہ ضرور چاہتی ہے کہ ان کا ووٹ منتشر رہے تاکہ کانگریس اس سے فائدہ نہ اٹھالے۔ دوسری طرف کانگریس نے ان کے ساتھ احتیاط کا معاملہ رکھا تاکہ ریاست میںبی جے پی انتخابات میں مذہبی بنیاد پر پولرائزیشن کرکے فائدہ نہ اٹھالے۔ اسی کے پیش نظر کانگریس نے 2012 کے 7 مسلم امیدواروں کے بالمقابل صرف 6 مسلم امیدواروںکو ٹکٹ دیے اور انتخابی منشور میں بھی مسلمانوںکے تعلق سے کوئی باضابطہ ایجنڈا نہیںرہا۔ مگر کانگریس کے ان تمام احتیاط کا اسے کوئی فائدہ نہیںملا کیونکہ رپورٹوں کے مطابق بعض مسلم اکثریتی علاقو ںمیںمسلم ووٹ تقسیم ہوا کیونکہ ان کا کانگریس سے باضابطہ کوئی ربط نہیںرہا تھا،کانگریس پولرائزیشن کے خوف سے ان سے نہ ربط رکھ رہی تھ اور نہ ہی انتخابی مہم کے دوران ان کے علاقے سے گزررہی تھی اور نہ ہی اپنی انتخابی تقریروں میںان کے ایشوز کو چھیڑ رہی تھی۔ حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی اور ان کی صاحبزادی پرینکا گاندھی انتخابی مہم سے دور رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے کانگریس کا یہ احساس تھا کہ 2007 کی انتخابی مہم کے دوران سونیا گاندھی کے نریندر مودی کو ’موت کا سوداگرکہہ دینے سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی فائدہ اٹھا لے گئے تھے۔ نیز احمد پٹیل کو بھی اس بار دور رکھا گیا کیونکہ ماضی میںبی جے پی ان کے مسلم چہرے سے اپنے حق میںفائدہ اٹھاتی رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

گجرات کے مسلمان ناراض
ظاہر سی بات ہے کہ ان دونوںپارٹیوںکے طرز عمل سے ریاست کا مسلمان اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے اور ان دونوں پارٹیوں سے مجموعی طور پر سخت ناراض ہے۔ اب آئیے، ذرا یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بی جے پی اور کانگریس سے ان کی ناراضگی کی وجہ کیا ہے؟ اس میںتو کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ حکمراں پارٹی بی جے پی کو کچھ ریاستوں کی طرح گجرات میںبھی ایسا کوئی مسلمان نہیںملا جو کہ اسمبلی کے لیے اس کے ٹکٹ کا مستحق ہو۔ وہیں مسلمانوں کی حمایتی سمجھی جانے والی کانگریس کا رویہ بھی بی جے پی سے کم سوتیلا نہیںرہا۔ کانگریس نے کل 182 سیٹوں میںسے 41 سیٹیں پاٹیداروں اور 13 دلتوں کو دیں جبکہ مسلمانوں کو محض 6 سیٹوں کے قابل سمجھا۔گجرات کے ماہر سماجیات گورانگ جانی نے ’چوتھی دنیاسے بتایا کہ کانگریس اگر واقعی چاہتی تو وہ 12-13 مسلمانوںکو ٹکٹ دے سکتی تھی اور وہ جیت بھی سکتے تھے ۔ ا ن کی اس بات میںوزن محسوس ہوتا ہے کیونکہ کانگریس کے 6 امیدواروںمیںسے 4امیدواروں نے جیت کر یہ ثابت بھی کردیا ہے کہ وہ اس لائق ہیں۔
اس کے علاوہ جب ایک شخص اس بار کے کانگریس کے انتخابی منشور پر نظر ڈالتا ہے تو اسے حیرت ہوتی ہے کہ اس کے 70 نکات میںمسلمانوں کے ایشوز سرے سے غائب رہے۔ ’چوتھی دنیا کو یہ بھی معلوم ہوا کہ گجرات کے مسلم علاقوں میںکانگریس کی خاص ہدایت تھی کہ مسلمان ٹوپی اور برقعہ میںراہل گاندھی کی ریلیوںمیںنظر آنے سے پرہیز کریں اور ووٹ ڈالنے کے لیے دوپہر کا وقت منتخب کریںتاکہ انھیںدیکھ کر ہندو ووٹرس بدک نہ جائیں۔ کانگریس کی اس حکمت عملی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات کے موقع پر لکھنؤ سے گجرات کا دورہ کرنے والے رہائی فورم کے ترجمان شہنواز عالم نے ’چوتھی دنیا کو بتایا کہ کانگریس کو اب یہ محسوس کرنا چاہیے کہ اس کا اس طرح کا احتیاط فضول ہے اور اس سے مسلمانوں میںغلط پیغام جاتا ہے جو کہ کانگریس جیسی پارٹی کو زیب نہیں دیتا ہے۔
گجرات کا مسلمان خود کو تنہا کیوںمحسوس کرتا ہے،اس سلسلے میںاظہار خیال کرتے ہوئے احمد آباد کے ویجل پور اسمبلی حلقہ سے سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار کوثر علی جو کہ انتخاب ہار گئے نے ’چوتھی دنیا کو بتایا کہ کانگریس نے ہمیںشروع سے دھوکہ میںرکھا۔ اسے اس بات سے سمجھایا جاسکتا ہے کہ گجرات میںاقلیتی وزارت تک اس نے اپنے دور میںنہیںبنائی۔ دوسری طرف حکمراں بی جے پی نے اسمبلی میںمسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنے اور ان کے ووٹ کی اہمیت کو بے وقعت اور بے وزن بنانے کے لیے 2012 میںمسلم اکثریتی علاقوںکی اس طرح کی حد بندی کردی کہ مسلمانوںکے ووٹ منتشر ہوجائیں اور یہ فیصلہ کن حالت میںنہ رہیں یا کم رہیں جبکہ کانگریس نے اس کے خلاف کوئی آواز نہیںاٹھائی۔
کوثر علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2002 کے تشدد کے واقعات کو لے کر کانگریس نے کبھی بھی کھل کر جانچ کا مطالبہ نہیںکیا۔ ایک ایک کرکے عدالت نے کئی ملزمین کو رہا کیا لیکن کانگریس کبھی بھی ان بے قصوروں کے حق میںنہیںبولی اور نہ ہی تشدد کے متاثرین کی بازآبادکاری میںکوئی دلچسپی دکھائی۔ بہت ہی دکھ بھرے انداز میںانھوںنے یہ بھی کہا کہ ’’2002 کے تشدد کے واقعات کے دوران ہلاک کیے گئے احسان جعفری تو کانگریس کے ہی تھے لیکن کانگریس نے گزشتہ 15 برسوں میںان کی تصویر تک کو اپنے کسی پوسٹر میںجگہ نہیںدی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کا مسلمان اب ان دونوںبڑی پارٹیوں کے طرزعمل سے تنگ آکر اپنی راہ خود بنانے کو سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ تبھی تو سیلف امپلائمنٹ کا رجحان ان میںبڑھتا جارہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اس انتظار میںہے کہ کسی غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی قوت کے ابھرنے کی صورت میںاس کا ساتھ دے اور پھر دہلی میںکجریوال جیسی صورت حال کو وہاں آزمائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *