لکھنؤکے ایک مدرسہ میں پولس کا چھاپہ

Share Article
raid-in-madrasa
ریاست اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے ایک مدرسہ میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کامعاملہ سامنے آیاہے۔مدرسے میں رہنے والی بچیوں پرجنسی زیادتی کی جاتی تھی۔ 29اور30دسمبرکی درمیانی رات میں پولس نے چھاپے ماری کرکے مدرسہ سے 51بچیوں کوآزادکرانے کے ساتھ مدرسہ کے منیجرکوگرفتارکیاہے۔
لکھنؤکے سعادت گنج کے یاسین گنج میں واقع مدرسہ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات میں طالبات سے جنسی زیادتی کاپولس نے پردہ فاش کیاہے۔ایس ایس پی دیپک کمارکے مطابق،مدرسہ کے اندرہاسٹل میں رہنے والی طالبات کی جنسی زیادتی کی شکایت ملی تھی۔معاملے کی سنگینی کودیکھتے ہوئے ایک ٹیم بناکرگذشتہ شب وہاں چھاپے ماری کی گئی ہے،اس دوران طالبات نے بھی جنسی زیادتی کے بارے میں لیٹرلکھ کرپولس سے اس کی شکایت کی، جس کے بعدملزم منیجرقاری طیب ضیاء کوگرفتارکرلیاگیا۔
طالبات کا الزام ہے کہ ملزم قاری طیب ضیاء ان کے ساتھ مارپیٹ کرتاتھا۔وہ اپنے کمرے میں طالبات کوبلاکرپیردبواتاتھا اورچھیڑچھارکرتاتھا۔ ایس ایس پی نے دیرشب اے ایس پی مغرب وکاس چندترپاٹھی ،اے ڈی ایم سٹی سنتوش کمارویشے،محکمہ اقلیت اورچائلڈویلفیئرکمیٹی کی ایک ٹیم بناکرچھاپے ماری کاحکم دیے۔بتایاجاتاہے کہ مدرسے میں کل 151طالبات رہتی تھیں۔چھاپے ماری کے دوران وہاں 51طالبات موجودملیں۔طالبات نے ملزم پریرغمال بناکربھی رکھنے کا الزام لگایاہے۔
مدرسہ کے سرپرست سیدمحمدجیلانی اشرف نے ایس ایس پی سے معاملے کی شکایت کی تھی۔انہی کی تحریرپرملزم منیجرکے خلاف سعادت گنج تھانے میں ایف آئی آردرج کی گئی تھی۔وہیں طالبات نے بھی پولس تحریردی ہے،جس کے تحت چھیڑچھاڑسمیت دیگردفعات میں ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔متاثرہ لڑکیوں کو فی الحال ناری نکیتن میں رکھا گیا ہے۔ مدرسہ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جانچ کے بعد آگے کی کارروائی کی جائے گی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *