آسام کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کلدھر سیکیا نے کہا ہے کہ جمعہ کو ہوئے رہزنی کے واقعہ میں شامل آسام پولیس کے دو اور ہوم گارڈ کا ایک نوجوان جلد معطل کیا جائے گا۔ ان کی معطلی کا عمل جاری ہے۔
ہفتہ کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پولیس ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات چل رہی ہے۔ اگر اور بھی پولیس اہلکار اس میں قصوروار پائے جاتے ہیں تو انہیں بھی فوری معطل کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں پولیس ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس ڈاکہ زنی کے واقعہ میں ملوث تمام لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔
جمعہ تین پولیس اہلکاروں نے ایک نوجوان کے ساتھ مل کر ایک میزو خاتون سے دارالحکومت گوہاٹی کے خانپارا میں 20 لاکھ روپے لوٹ لئے تھے۔ اس واقعہ سے منسلک تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ڈکہ زنی میں استعمال کی گئی گاڑی انووا کارکو قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ خاتون نقلی نوٹ خریدنے کے لئے 20 لاکھ روپے نقد لے کر میزورم سے گوہاٹی آئی تھی۔ گوہاٹی شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی ان سے روپے لوٹ لئے گئے۔ اس واقعہ میں بنیادی طور پر شامل تینوں پولیس اہلکار گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ اس واقعہ کی اطلاع آتے ہی شہر میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس کا کام ڈکہ زنی کو روکنا ہے، اگر پولیس ہی لوٹ مار کرنے لگے تو پھر عوام کا کیا ہوگا یہ آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here