ڈاکٹر قمر تبریز
اگر صحیح پوچھا جائے تو لفظ ’انڈین مجاہدین‘ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، بلکہ یہ پولس کے پراگندہ ذہن کی پیداوار ہے، جس نے ملک کے اب تک سیکڑوں مسلم خاندانوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اس لفظ کا سب سے پہلے استعمال تین سال قبل اس وقت ہوا تھا جب گجرات کے ایک ڈی آئی جی نے احمدآباد میں جولائی 2008 میں ہوئے ایک بم دھماکہ میں ’انڈین مجاہدین‘ کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہونے کی بات کہی تھی۔ اس پولس افسر نے میڈیا والوں کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا تھا کہ SIMI کے شروع سے S اور اخیر سے آئی (I) کو ہٹا دیجئے تو IM یعنی انڈین مجاہدین بن جاتا ہے، اس پولس والے کا دماغ اس لیے چلا کیوں کہ اس وقت سیمی پر پابندی عائد تھی، لہٰذا وہ اپنے خرافاتی ذہن سے یہ دلیل دینے میں کامیاب ہوگیا کہ سیمی کے لوگ اب آئی ایم کے نام سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ہزاروں مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کے پروردہ ایسے پولس افسران سے اس کے علاوہ بھلا اور کیا امید کی جاسکتی تھی کہ جس طرح گجرات کے مسلمانوں پر دنیا تنگ کردی گئی، اسی طرح ہندوستان کے بقیہ مسلمانوں کا بھی جینا محال کردیا جائے۔ 2008 سے آج تک انڈین مجاہدین کے نام پر یہی سب کچھ ہوتا چلا آیا ہے، اور اب جب کہ پولس نے مبینہ انڈین مجاہدین کے چھ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق بہار سے ہے، تو ایسے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ بہار کے مسلمانوں کو نتیش کمار کے ذریعے دکھائے گئے خواب سے باہر نکل آنا چاہیے۔
گزشتہ چند سالوں سے اگر دیکھا جائے تو، ملک کے اندر جب بھی الیکشن کا وقت آتا ہے، یا پھر مرکزی حکومت، چاہے وہ بی جے پی کی رہی ہو یا کانگریس کی، جب بھی کسی بڑی مصیبت میں پھنسی ہے، تو اس نے ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کو دہشت گردی کے نام پر بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج کل مسلمانوں کے نام سے دہشت گردی کا کھیل ایک بار پھر کھیلا جانے لگا ہے۔ حالیہ دنوں میں انڈین مجاہدین کے نام پر بہار کے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ اور ایک بار پھر مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔
بڑی عجیب سی بات ہے کہ جس قوم نے اس ملک پر تقریباً آٹھ سو سالوں تک حکمرانی کی، جس قوم نے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے میں اپنی جانوں تک کی پروا نہیں اور جس نے مادرِ وطن کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے میں کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیا، اسی کو آج دہشت گرد کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ ملک میں کہیں بھی کوئی دہشت گردانہ واقعہ رونما ہو جائے، پہلا شک مسلمانوں پر کیا جاتا ہے۔ مسلم نوجوانوں کو بڑی تعداد میں بغیر کسی ثبوت کے گرفتار کرکے جیلوں میںڈال دیا جاتا ہے اور پوری قوم کے حوصلے کو توڑنے کی سازش کی جاتی ہے۔ پہلے مسلم دشمن عناصر ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ ہندوستان کا کوئی بھی مسلمان سر اٹھا کے نہ جی سکے، ہمیشہ یاس و ناامیدی اور ذلت کا شکار ہوتا رہے، لیکن اب ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو ڈرا دھمکاکر اُن کا ووٹ حاصل کیا جاسکے، کیوں کہ سیاسی پارٹیوں کو اب اس بات کا پختہ یقین ہو چلا ہے کہ مسلمانوں کا مجموعی ووٹ جس کے پلڑے میں پڑے گا، انتخاب میں جیت اسی پارٹی کی ہوگی۔ ان سیاسی پارٹیوں کو اس بات کا بھی پختہ یقین ہو چلا ہے کہ اس ملک کا مسلمان چونکہ اب بیدار ہو چکا ہے اور وہ آسانی سے کسی پارٹی کی جھولی میں اپنا ووٹ ڈالنے والا نہیں ہے، بلکہ اب وہ ووٹ کے بدلے اپنے مسائل کو حل کروانے کا مطالبہ کر رہا ہے، اس لیے سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ ان کے اوپر دہشت گردی کا الزام لگا دیا جائے، ان کے نوجوانوں کو گرفتار کرکے پوری قوم کی ہمت توڑ دی جائے، پھر وہ بڑی آسانی سے اس پارٹی کو اپنا ووٹ دینے پر مجبور ہو جائیں گے، جو اُن کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے گا، ان کے بے قصور گرفتار نوجوانوں میں سے ایک دو کو رہائی دلوا دے گا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مالیگاؤں دھماکہ کی تفتیش آنجہانی ہیمنت کرکرے سے کراکر اور سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اینڈ کمپنی کو سلاخوں کے پیچھے ڈال کر کانگریس حکومت نے 2009 کے پارلیمانی انتخاب سے قبل ہندوستانی مسلمانوں کو یہی پیغام دیا تھا کہ کانگریس ہی ان کے اِس درد کا مداوا کر سکتی ہے، لہٰذا مسلمانوں نے کانگریس کو مرکزی حکومت پر قابض ہونے میں کافی مدد کی۔ آج جب 2014 کا پارلیمانی انتخاب قریب آرہا ہے، کانگریس نے ایک بار پھر اسی کوشش کو دہرانا شروع کردیا ہے۔ کانگریس ایک بار پھر انڈین مجاہدین کے نام پر مسلمانوں کے اندر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔ حالانکہ پی چدمبرم کے وزیر داخلہ رہتے ہوئے، اور قومی تفتیشی ایجنسی یعنی این آئی اے کے وجود میں آنے سے مسلمانوں کا کانگریس پر اعتماد کچھ وقت کے لیے بحال ہوا تھا کہ مسلمانوں کی ہمدرد ہے، لیکن اچھا ہوا کہ اس کی پول جلد ہی کھل گئی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اب وہ کانگریس کی اس سازش کا شکار ہونے سے بچیں۔
انڈین مجاہدین اگر حقیقت میں کوئی دہشت گرد تنظیم ہوتی تو اس تنظیم کے نام پر جتنے لوگوں کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے، کیا اُن کا بدلہ لینے کے لیے کسی بڑے دہشت گردانہ حملے کو انجام نہیں دیا جاتا، کیا اُن پولس والوں کا جینا محال نہیں ہو جاتا جنہوں نے اس تنظیم سے وابستہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے، کیا ایسے دہشت گردوں کو عدالت لے جاتے وقت انہیں چھڑانے کی کوشش نہیں کی جاتی؟ لیکن ایسا اب تک کچھ بھی نہیں ہوا ہے، جو اپنے آپ میں خود ایک بڑا سوال کھڑا کرتا ہے اس دہشت گرد تنظیم کے فرضی ہونے پر۔ ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب بھی دنیا کی کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے تو فوراً اس تنظیم کے مکھیا کی طرف سے دھمکی آمیز خط یا ویڈیو جاری کیے جاتے ہیں، لیکن انڈین مجاہدین کا نہ تو کوئی مکھیا ہے اور نہ ہی کوئی علاقہ۔ اس فرضی دہشت گرد تنظیم کی طرف سے اب تک ایسا کوئی دھمکی آمیز خط نہیں ملا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ واقعی اس کا کوئی وجود ہے اور یہ ہمارے ملک کی سیکورٹی کے لیے کوئی بڑا خطرہ ہے۔
اگر اس کی گہرائی میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ پورے ہندوستان کی پولس اس قسم کے پروپیگنڈے پھیلاکر اپنا ذاتی مفاد پورا کرنا چاہتی ہے۔ پولس والے اپنا پروموشن کرانے کے لیے فرضی انکاؤنٹر اور فرضی گرفتاریوں کو انجام دیتے ہیں۔ اگر آپ مزید تفصیل میں جائیں اور انڈین مجاہدین کے نام پر گرفتار کیے گئے نوجوانوں سے جیل میں جاکر ملاقات کریں، تو آپ پر یہ حقیقت بھی افشا ہو جائے گی کہ پولس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا ہے، ان کے اصلی نام وہ نہیں ہیں جو پولس بتا رہی ہے۔ اپنے من سے پولس والے ان فرضی دہشت گردوں کے کچھ بھی نام رکھ دیتے ہیں، بہت سے تو ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پاکستانی دہشت گرد ہے، لیکن اس کے گھر کا پتہ پولس کی ڈائری میں کہیں نہیں ملے گا۔ اس کے علاوہ بہت سے واقعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک دہشت گرد کو ایک ہی تاریخ میں بنگال سے بھی گرفتار کیا گیا ہے اور آندھرا پردیش سے بھی۔ اب بھلا ایک شخص ایک ہی تاریخ کو ان دو مقامات پر کیسے موجود ہو سکتا ہے۔ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پولس نے کسی سیمینار میں آئے لوگوں کو پکڑ لیا اور ان کے پاس سے جو کتابیں یا اس سیمینار کے لیے ان کے ذریعے تیار کی گئی تقریروں کو دہشت گردی کا لٹریچر بتا دیا اور عدالت کو گمراہ کیا کہ یہ لوگ فلاں جگہ پر اپنی میٹنگ کرکے فلاں شہر میں ایک بڑی دہشت گردانہ کارروائی کو انجام دینے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ پولس والوں کے اس فرضی کام کو انجام دینے میں میڈیا میں موجود اُن کے ساتھی اُن کی بڑی مدد کرتے ہیں۔ میڈیا، خاص کر الیکٹرانک میڈیا والے پولس کے ذریعے گڑھی گئی فرضی کہانی کو پورے جوش و خروش کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے کہ واقعی میں وہ شخص ایک بڑا دہشت گرد ہے۔
اب ذرا انڈین مجاہدین کے اُن چھ مبینہ دہشت گردوں پر ہی نظر ڈالیں جنہیں دہلی پولس نے حال ہی میں بہار سے گرفتار کیا ہے، تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ پولس کا یہ فرضی نیٹ ورک کتنا مضبوط ہے۔ ایک شخص بیچارہ بہار میں کسی ٹیوب ویل پر غسل کر رہا تھا، دہلی پولس کے اسپیشل سیل کے کچھ لوگ آئے اور اسے وہاں سے اٹھاکر لے گئے۔ اب پولس یہ کہہ رہی ہے کہ بنگلور کے چینا سوامی اسٹیڈیم، دہلی کی جامع مسجد اور دیگر مقامات پر بم دھماکہ کرنے میں انہی لوگوں کا ہاتھ ہے، جب کہ گرفتار کیے گئے ان مسلم نوجوانوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ان بچوں نے مدرسوں سے تعلیم حاصل کی ہے اور بہار چھوڑ کر وہ کبھی کسی دوسرے صوبے میں گئے ہی نہیں ہیں، پھر بھلا ان کا دہشت گردی کے واقعات میں ہاتھ کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر وہ نوجوان جو ٹیوب ویل پر غسل کر رہا تھا، واقعی میں ایک بڑا دہشت گرد ہے، تو بھلا وہ اتنی بے فکری سے زندگی کیسے جی رہا ہوتا، اس کی بھی وضاحت پولس والوں کو کرنی چاہیے۔
یہ بات بھی عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہے کہ پولس والے جیسے ہی کسی نام نہاد دہشت گرد کو گرفتار کرتے ہیں تو ان کے پاس فوراً ہی اس کے اور اس کی نام نہاد دہشت گرد تنظیم کے بارے میں اتنی ساری تفصیلات کیسے جمع ہو جاتی ہیں۔ اگر پولس والے واقعی میں ایماندار ہوتے، تو وہ ان کے بارے میں پہلے سے جانکاری حاصل کرکے کسی بھی دہشت گردانہ واقعہ کو روکنے میں اپنی تیزی دکھا سکتے تھے، لیکن ایسا وہ واقعہ کے انجام ہو جانے کے بعد کرتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ان کی متعصبانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
لہٰذا، آج اگر ملک کا مسلمان اپنے لیے سرکاری نوکریوں میں، پولس میں، فوج میں ریزرویشن کا مطالبہ کررہا ہے، تو اس کا یہ مطالبہ واجبی ہے، کیوں کہ اگر ان محکموں میں مسلمانوں کی مناسب نمائندگی ہوگی تو پولس کی روایتی متعصبانہ ذہنیت پر لگام لگے گی اور پھر اس کے بعد انڈین مجاہدین جیسی فرضی دہشت گرد تنظیموں کا نام سننے کو نہیں ملے گا۔ سرکار ، چاہے وہ کسی کی بھی ہو، اگر واقعی میں مسلمانوں کی ہمدرد ہے تو اسے چاہیے کہ مسلمانوں کی پیشانی پر لگے دہشت گردی کے اس الزام کو فوراً ختم کرے، اپنے انتخابی منشور میں اس بات کو شامل کرے کہ اگر مسلمانوں نے اسے انتخاب میں جیت دلائی تو وہ کسی بھی بے قصور مسلمان کو دہشت گردی کے نام پر گرفتار نہیں ہونے دے گی۔ بڑا عجیب سا المیہ ہے کہ جو لوگ تخریبی اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں اور جن کے خلاف سارے ثبوت و شواہد موجود ہیں، وہ تو کھلے عام اس ملک میں گھوم رہے ہیں، مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، تقریریں کر رہے ہیں، مضامین لکھ رہے ہیں، لیکن انہیں دہشت گرد کہنے والا نہ تو کوئی پولس کا آدمی ہے اور نہ ہی ملک کی کوئی عدالت، لیکن وہ لوگ جن کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے، انہیں دہشت گرد قرار دے کر ملک کی جیلیں بھری جا رہی ہیں۔ کیا ہمارے اس جمہوری ملک کی یہی شان ہے؟ اگر نہیں، تو پھر مرکزی حکومت کوئی ایسا سخت قانون پاس کرکے ان تمام پولس والوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتی، جو بے قصور مسلمانوں کا جینا حرام کیے ہوئےہیں۔ آخر ایسے پولس والوں کو کوئی سزا کیوں نہیں ملتی، جنہوں نے دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگا کر مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا؟ ملک کے تمام مسلمانوں کو اس سوال کے جواب کا اب بھی انتظار ہے۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here