یوپی -اتراکھنڈ میں زہریلی شراب کاقہر،جانیں اب تک اموات کی تعداد

Share Article
deoband-sharab
اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی تعدادلگاتاربڑھ رہی ہے۔بتایاجارہاہے کہ ابھی بھی درجن بھرسے زائد افراد کی حالت نہایت نازک بنی ہوئی ہے۔ دونوں صوبوں میں اتنے بڑے پیمانے پر زہریلی شراب سے ہوئی اموات سے لکھنؤ اور دہرہ دون تک کھلبلی مچ گئی ہے۔’آج تک‘ کے مطابق، سہارنپور، میرٹھ، روڑکی اورکشی نگرمیں زہریلی شراب پینے سے کل مرنے والوں کی تعداد 82ہوگئی ہے۔ جس میں میرٹھ میں 18، سہارنپورمیں 36، روڑکی میں 20اورکشی نگرمیں 8لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔
ضلع سہارنپور کے کوتوالی دیوبند، تھانہ ناگل اور تھانہ گاگلہیڑی علاقوں میں کل 22؍ لوگوں کی زہریلی شراب پینے سے موت ہوگئی تھی۔ جبکہ دس لوگوں کی حالت نہایت نازک بتائی گئی تھی، اطلاع پر پولیس اعلیٰ افسران موقع پر پہنچے اور واقعات کے بابت تفصیلی معلومات حاصل کی۔ بتایا جارہاہے کہ ان تمام لوگوں کی موت شراب پینے کی وجہ سے ہوئی ہے، پولیس نے تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجا ہے۔کوتوالی کے دیوبند کے تھانہ ناگل کے اماہی گاؤں میں زہریلی شراب پینے سے عمران(48)پنٹو(32)کنور پال (32)اور اروند (30)جبکہ دیوبند کوتوالی کے گاؤں ڈنکووالی کے باشندہ بجندر ولد مولہڑ(32)بلاس پور کے باشندہ رتن (62 ) کی موت ہوگئی تھی ۔ علاقہ میں میں اتنے بڑے پیمانے پر رونما ہوئے واقعات سے لکھنؤ اور دہرہ دون تک کھلبلی مچ گئی ۔ اتراکھنڈ سرکار نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین افسران سمیت 13؍ آبکاری اہلکاروں کوسسپنڈ کردیا ہے جبکہ یوپی سرکار نے بھی آبکار ی محکمہ سمیت تھانہ ناگل کے انسپکٹر اور دیگر دس پولیس افسروں کو سسپنڈ کردیاہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پورے معاملہ کی جانچ کی ہدایت دے دی ہے۔ وہیں ڈی جی پی اترپردیش اوپی سنگھ نے تمام واقعات کے لئے لوکل پولیس کو ذمہ داربتاتے ہوئے کہاکہ تمام واقعات کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جارہی ہے اور لاپرواہی برتنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
ادھر ایس ایس پی سہارنپور دنیش کمار نے موقع پر پہنچ کر واقعات کی معلومات حاصل کرتے ہوئے مرنے والوں کے لئے دو دو لاکھ روپیہ کے معاوضہ کااعلان کیاہے۔ ڈرائی ایریا ہونے کے باوجود دیوبندعلاقہ میں زبردست طریقہ سے جام اچھالا جارہاہے،جس کے سبب دس سال بعد ایک مرتبہ پھر علاقہ میں زبردست موت کی وارداتیں سامنے آئی ہیں،آپ کوبتادیں کہ دس سال قبل سال 2009ء میں بھی دیوبند علاقہ میں زہریلی شراب پینے سے بڑی تباہی ہوئی تھی، اس وقت بھی علاقہ میں تقریباً 40؍ لوگوں کی موت زہریلی شراب سے ہوگئی تھیں۔ لیکن پولیس کی ملی بھگت سے یہ دھندہ آج بھی زوروں پر ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *