وزیر اعظم منموہن سنگھ اب سونیا گاندھی کی باتوں کو نظر انداز کرنے لگے ہیں۔ منموہن سنگھ کے لیے اب سونیا گاندھی کی باتوں کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات تھوڑی تعجب خیز ہوسکتی ہے، لیکن سچ یہی ہے۔ اب یوپی اے سرکار میں 10جن پتھ کی مداخلت قبول نہیں کی جاتی۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ وزیر اعظم ایسا کوئی کام نہیں کرتے، جو یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کو پسند نہ ہو۔ اپوزیشن نے انہیں اب تک کا سب سے کمزور وزیراعظم تک کہا، لیکن اب شاید وقت بڑی خاموشی سے کروٹ بدل رہا ہے۔ منموہن سنگھ اب اپنے بارے میں قائم کیے گئے مفروضہ کو توڑ رہے ہیں۔ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کٹھ پتلی وزیر اعظم نہیں رہے، جس کی ڈور سونیا گاندھی کے ہاتھوں میں تھی۔ منموہن سنگھ یہ بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اقتدار کا اصلی مرکز 10جن پتھ نہیں، پی ایم او ہی ہے۔ شاید تبھی انہوں نے پہلی بار ایک ایسا کام کیا، جس کی امید خود سونیا گاندھی کو بھی نہ رہی ہوگی۔ دراصل اس پوری کہانی کی شروعات ایک قانون میں ہونے والی ترمیمی تجویزسے جڑی ہے۔ حق اطلاعات قانون(آرٹی آئی ایکٹ) یوپی اے-1 حکومت کے اہم کارناموں میں سے ایک ہے۔ خود راہل گاندھی نے اس قانون کے تئیں کافی دلچسپی دکھائی تھی اور اب بھی دکھا رہے ہیں۔ مرکزی سرکار گزشتہ کئی سالوں سے اس قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ اسی معاملے میں سونیا گاندھی ایک خط کے ذریعہ منموہن سنگھ سے یہ کہتی ہیں کہ حق اطلاعات قانون میںترمیم نہیں کی جانی چاہیے، کیوںکہ اس قانون کو بنے ہوئے ابھی 4سال ہی ہوئے ہیں اور اتنے کم وقت میں یہ قانون عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی لایا ہے۔ اب آپ تصور کیجئے کہ منموہن سنگھ نے اس خط کے جواب میں کیا لکھا ہوگا؟
وزیراعظم منموہن سنگھ نے جواب دیا کہ وہ آرٹی آئی قانون کے اثرات کے سلسلہ میں ان (سونیا گاندھی) کے خیالات سے متفق ہیں اور اس بات سے بھی اتفاق رکھتے ہیں کہ یہ قانون انتظامیہ کے طور طریقوں میں تبدیلی لا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ ایسے ایشوز بھی ہیں، جن کے لیے اس قانون میں ترمیم کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے وزیر اعظم کا یہ جواب اپنے آپ میں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ آنکھ بند کر کے سونیا گاندھی کی ہر بات نہیں مان سکتے۔
ہم دونوں خطوط شائع کر رہے ہیں، جنہیں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی نے ایک دوسرے کو بھیجے ہیں۔ قانون میں ممکنہ ترمیم کے پیچھے کی کہانی یہ ہے کہ سرکار کی مختلف وزارتوں کے بڑے بڑے افسران یہ نہیں چاہتے ہیں کہ حق اطلاعات قانون کے تحت فائل نوٹنگ کو عام کیا جائے۔ انہیں اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر فائل نوٹنگ کو عام کیا گیا تو لیڈر، وزراء اور افسران کے درمیان کی ملی بھگت ظاہر ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر افسران کسی بھی فائل پر کچھ لکھنے سے پہلے وزیر سے غیررسمی طور پر بات کرتے ہیں، جو اپنے آپ میں غلط ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں حق اطلاعات کے ذریعہ سرکاری اخراجات کا تخمینہ، سرکاری کام کاج کے طریقے، سرکاری پیسے کی اہمیت اور بٹوارہ، افسران کے ذریعہ فیصلہ لیے جانے کا عمل، سرکاری ایوارڈ دینے کے طریقے کی معلومات سب کے سامنے آ گئی، جس سے وزرا ت میں بیٹھے اعلیٰ افسران پر انگلیاں اٹھ گئیں اور انہیں شرمندہ ہونا پڑا۔ افسران کو اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ جس طرح سے عام شہری اس حق کا استعمال کر رہے ہیں، اس سے سرکاری کام کاج کے طریقوں پر سوال اٹھنے  لگیںگے۔ اس لیے اس قانون میں تبدیلی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ سرکار کے پاس اس قانون میں ترمیم کے لیے دلائل نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس کے معاملے کو سامنے رکھ کر سرکار اس قانون کی دھار کو کند کرنا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کا معاملہ یہ ہے کہ مرکزی اطلاعات کمیشن اور دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آرٹی آئی قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔ فی الحال یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اس دوران سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو ایک خط بھیجا، جس میں عدلیہ کو آرٹی آئی قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس کے پیچھے دلیل یہ تھی کہ اس قانون کی وجہ سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوسکتی ہے۔اس خط کے موصول ہوتے ہی وزارت میں بیٹھے اعلیٰ افسران کو ایک موقع ہاتھ لگ گیا اور انہوں نے حق اطلاعات قانون کو پژمردہ کرنے کے لیے ترمیم کا راستہ صاف کردیا۔ ان افسران نے سرکار کو یہ مشورہ دیا کہ عدلیہ کے ساتھ ساتھ ایسے کئی مسئلے ہیں، جنہیں آر ٹی آئی سے باہر رکھا جائے۔ افسران نے نوٹنگ سے لے کر حساس دستاویز کی طویل فہرست بنائی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ اس وقت کے چیف جسٹس کے خط کے جواب میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے یہ یقین دلایا کہ وہ اس معاملہ میں وزارت قانون سے بات چیت کر رہے ہیں اور اس تعلق سے جو بھی ضروری قدم ہوگا، وہ اٹھایا جائے گا۔
جب کچھ غیر سرکاری تنظیموں کو اس بارے میں معلومات حاصل ہوئی تو انہوں نے اس معاملے میں سونیا گاندھی سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد سونیا گاندھی نے 9نومبر 2009کو بذریعہ خط یہ واضح کر دیا کہ وہ اس قانون میں کسی بھی طرح کی ترمیم کے خلاف ہیں۔ سونیا گاندھی نے خط میں لکھا ہے کہ صرف 4سالوں میں ہی اس قانون نے عام آدمی کو بہت کچھ دیا ہے، جب کہ اس قانون کو صحیح طریقے سے نافذ کرنے میں ابھی  کافی مسائل ہیں۔ پھر بھی اس قانون نے انتظامیہ کے رویے کو بدلنا شروع کرد یا ہے۔ سونیا گاندھی نے لکھا ہے کہ سرکاری نظام میں شفافیت اور جواب دہی کے لیے اس قانون میں مہیا کرائے گئے ضابطوں کو مزید کار گر بنانے میں یقینی طور پر وقت لگے گا۔ قانون اور اس کے ضابطوںکو کار گر بنانے کا پروسیس بھی شروع ہوگیا ہے اور اب یہ ضروری ہے کہ اسے مضبوطی دی جائے۔ سونیا اپنے خط میں آگے لکھتی ہیں کہ میری رائے میں نیشنل سیکورٹی جیسے حساس ایشو ابھی بھی اس قانون کے دائرے سے باہر ہیں اور ایسی صورت میں اس قانون میں کسی بھی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں، اپنے خط کے ذریعہ سونیا نے وزیراعظم کو یہ بھی بتا دیا کہ سرکار اس قانون کی کامیابی میں کہاں اور کیوں ناکام ہو رہی ہے۔ سونیا مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں لکھتی ہیں کہ سرکار کا اصل مسئلہ ملازمین میں تربیت کانہ ہونا اور سرکاری تخمینوں کی بے ترتیبی ہے۔
لیکن سونیا گاندھی کی مذکورہ دلیل کے اثرات کہیں نہیں دکھائی دے رہے ہیںاور وزیراعظم صاف صاف یہ بتا دیتے ہیں کہ ملک میں کچھ ایشو ایسے بھی ہیں، جنہیں اس قانون میں ترمیم کیے بغیر حل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اپنے خط میں سونیا گاندھی کو یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ عدلیہ کے مفاد کے لیے آر ٹی آئی قانون میں ترمیم ضروری ہے۔ دراصل ہندوستانی نظام میں افسران اور سرکاری کلرکوں کو یہ کبھی بھی اچھا نہیں لگتا کہ ایک عام آدمی ان سے سوال پوچھنے کی ہمت کرے، لیکن یہ قانون عام آدمی کو یہی طاقت دیتا ہے۔ اسی سے پریشان ہو کر ایسے افسران شروع سے ہی اس قانون کو کمزور بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم کو بھی بار بار یہ باور کرانے کی کوشش ہوتی رہتی ہے کہ حق اطلاعات قانون کی وجہ سے سرکاری کام کاج متاثر ہوتا ہے، اس لیے اس میں ترمیم کی جائے۔ اس بار منموہن سنگھ بھی ان چالاک افسران کی باتوں میں آ گئے اور اس حد تک آ گئے کہ سونیا گاندھی کی باتوں کا بھی ان کے لیے کوئی مطلب نہیں رہا اور انہوں نے صاف طور سے ان کی رائے سے اتفاق نہیںکیا ،تو کیا یہ مان لیا جائے کہ آرٹی آئی ایکٹ میں ترمیم کی تجویز کے مسئلے پر وزیر اعظم منموہن سنگھ اور یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی کے رشتوں میں درار پڑ گئی ہے اور آنے والے دنوں میں کانگریس کی سیاست میں کچھ نئی تبدیلیاں نظرآسکتی ہیں؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here