انتخابات کے بعد’من کی بات‘ نریندر مودی کا اعتماد ہے یا انتہائی خوداعتمادی؟

Share Article
pm-narendra-modi
اگلی’من کی بات‘ مئی کے آخری اتوار کو ہوگی …آپ کے آشیروادکے ساتھ،ایسے ہی میں کئی سالوں تک آپ سے من کی بات کرتا رہوں گا۔ اس بیان کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی نے اشاروں ہی اشاروں میں ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کی امید ظاہر کی ہے۔ اپنے 53 ویں من کی بات کے پروگرام میں آج وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اب وہ انتخابات کے بعد مئی کے آخر میں من کی بات کریں گے۔ کیا یہ وزیر اعظم نریندر مودی کا اعتماد ہے یا پھر انتہائی خوداعتمادی؟ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی اے 2019 لوک سبھا انتخابات میں 2014 کی کامیابی دہرا پائے گی؟ ظاہر ہے’من کی بات‘ پروگرام میں جیت کا دعویٰ کرنے کے بعد پی ایم نریندر مودی اپوزیشن کے نشانے پر آ گئے ہیں اور اب اس مسئلے پر جم کر سیاست ہونے کے آثار ہیں، وہ تب جب اپوزیشن یکجہتی این ڈی اے اور ٹیم مودی پر بھاری پڑتی نظر آ رہی ہے۔

آج کے ’من کی بات‘پروگرام میں پی ایم مودی نے جموں وکشمیر کے پلوامہ حملے میں شہید سی آر پی ایف جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بات شروع کرتے ہوئے من بھاری ہو رہا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں بہادر جوانوں کی شہادت کے بعد ملک بھر میں لوگوں کو اور لوگوں کے منمیں صدمہ اور غم و غصہ ہے۔ ہماری سیکورٹی فورسز ہمیشہ ہی منفرد جرأت اور خصوصیات کاتعارف دیتے آئے ہیں۔امن قائم کرنے کے لئے جہاں انہوں نے حیرت انگیز صلاحیت دکھائی ہے، وہیں حملہ آوروں کو بھی انہی کی زبان میں جواب دینے کا کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دیش واسی امن سے سو سکیں اس کے لئے ہمارے بہادر فوجیوں نے رات دن ایک کر رکھا ہے۔ پلوامہ حملے کے لئے لوگوں کے من میں صدمہ اور غم و غصہ ہے۔ اس دہشت گردانہ تشدد کی مخالفت میں جو احساسات آپ اور میرے اندر ہے،وہ انسانیت میں یقین کرنے والے دنیا کے سبھی طبقے میں بھی ہے۔ ہمارے فوجیوں کی شہادت کے بعد ان کے اہل خانہ کی کئی متاثر کن باتیں سامنے آئی ہیں۔ ان سے پورے ملک کا حوصلہ اور بھی بڑھا ہے۔
اس دوران پی ایم مودی جمشیدجی ٹاٹا کی تعریف کرتے بھی نظر آئے،ساتھ ہی انہوں نے ملک کے سابق وزیر اعظم مرارجی دیسائی کا بھی ذکر بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ مرارجی بھائی دیسائی کی مدت کے دوران ہی 44 واں آئینی ترمیم لائی گئی۔ یہ اہم ہے کیونکہ ایمرجنسی کے دوران جو 42 ویں ترمیم لائی گئی تھی، جس میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے اور دوسرے ایسے التزامات تھے، جنہیں واپس کیا گیا۔

وہیں پروگرام کے اختتام پر وزیر اعظم مودی کہتے نظر آئے کہ وہ صحت مند جمہوری روایت کا احترام کرتے ہوئے اگلی من کی بات اب مئی میں عام انتخابات کے بعد کریں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *