پروفیسر اختر الواسع 
گزشتہ چند د نوں کے دوران فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جس بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور جس طرح ان کے گھروں، املاک اور جائدادوں کو میزائل اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اور ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ آگیا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے لیے ہی نہیں پوری دنیا میں امن و امان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی بھی ہے۔ خطے کی تازہ صورت حال کے لیے ہم سب کو معلوم ہے کہ پوری طرح اسرائیل ذمہ دار ہے۔ اس نے اپنے تئیں کوشش تو اس کی بھی کی ہے کہ جنگ کی سی صورت حال پیدا ہوجائے اور معاملہ صرف غزہ تک محدود نہ رہتے ہوئے دیگر علاقوں تک بھی پھیل جائے البتہ اس حوالے سے مغربی کنارے کی فلسطینی قیادت نے کافی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ماضی قریب میں ایران کے معاملے پر اسرائیل کو جس طرح منہ کی کھانی پڑی ہے اور جس طرح امریکی قیادت نے بھرپور اسرائیلی دبائو اور تمام تر یہودی حربوں کے باوجود ایران کے معاملہ پر حزم و احتیاط سے کام لیتے ہوئے اسرائیل کے تجویز کردہ فوجی کارروائی کے آپشن کو نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اسے یہ بھی بتادیا کہ اگر اسرائیل اپنی جانب سے ایسی کوئی کارروائی کرتا ہے تو نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا اور اسے امریکی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ تل ابیب کی اسرائیلی قیادت کو یقین کی حد تک امید تھی کہ صدارتی انتخابات میں صدر اوبامہ امریکی عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپائیں گے کیوں کہ ان کے مخالف ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی نے جس طرح کھل کر اسرائیل کی حمایت کی تھی اور جس طرح اسرائیلی مفادات کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا اس سے لگتا تھا کہ امریکہ کی یہودی لابی پورے طور پر کمر کس کر مٹ رومنی کی کامیابی کے لیے میدان میں اتر پڑے گی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اکیسویں صدی میں دنیا کے دیگر خطوں کی طرح ہی امریکہ کے حالات بھی بدلے ہیں۔ بلاشبہ امریکی سیاست میں یہودی لابی اب بھی ایک مؤثر کردار کی حامل ہے لیکن امریکی سیاست صرف اسی کے گرد گھومتی ہو، بدلے ہوئے حالات بتاتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔بلاشبہ امریکی صدارتی انتخابات میں عالمی سیاست اور مسائل بھی اہمیت رکھتے ہیں لیکن بہرحال بنیادی اہمیت مقامی ضرورتوں اور مسائل کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ اسرائیل امریکی ووٹروں کے ایک طبقے کے لیے اہم ہوسکتا ہے لیکن امریکی سیاست کی تقدیر صرف اسی طبقے کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ امریکہ میں ایک بہت بڑا طبقہ اب ایسا وجود میں آچکا ہے جو بین الاقوامی معاملات میں امریکہ کے جا و بے جا ٹانگ اڑانے کے خلاف ہے۔ پہلی بار بھی صدر اوباما انہیں امریکیوں کے ووٹ سے جیتے تھے جو امریکہ کے اندرونی حالات کے سدھار کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں۔ صدر اوباما کا تبدیلی کا نعرہ بھی بنیادی طورپر اسی حوالے سے تھا۔ اور اب دوسری بار بھی اوباما کا انتخاب اسی لیے عمل میں آیا ہے کہ وہ امریکہ کو بیرونی دنیا میں الجھا کر تباہ و برباد کرنے کے بجائے مقامی مسائل خاص طور پر اس کی تباہ ہوتی اقتصادیات پر خاص توجہ دیںگے اور امریکہ میں بے روزگاری، اقتصادی کساد بازاری اور ٹیکسوں سے متعلق مسائل کے حل کی جانب پیش رفت جاری رکھیںگے۔
امریکہ میں صدر اوباما کی دوبارہ کامیابی سے اسرائیل میں تل ابیب کی موجودہ سیاسی قیادت کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ وہ ایران کے معاملے پر امریکی حمایت کے بغیر بھی ایران کے خلاف یک طرفہ فوجی کارروائی کی اپنی دھمکی کو عملی جامہ تو نہیں پہنا سکتی، کیوں کہ اسے اس کا انجام اچھی طرح معلوم ہے، البتہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اسرائیل کے سامنے نرم چارہ غزہ کی حماس حکومت ہی تھی لہٰذا نزلہ اسی پر گرانے کی کوشش کی گئی۔ البتہ اسرائیلی قیادت کو اس محاذ پر بھی کوئی خاص کامیابی نہیں ملی بلکہ غزہ سے جس طرح کی جوابی کارروائی ہوئی اس نے یہ ثابت کردیا کہ دفاعی میزائل سسٹم کے تمام تر انتظامات کے باوجود اسرائیلی فلسطینیوں کی جوابی کارروائی سے پوری طرح محفوظ نہیں ہیں۔ حالاں کہ غزہ کی جوابی کارروائی ابھی لبنان کی حزب اللہ جیسی نہیں تھی لیکن اسرائیل کو جس طرح کے خسارے سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کا اندازہ اسی سے کیا جاسکتا ہے کہ تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر زمینی کارروائی کے ارادے کو ہی ملتوی نہیں کیا ہے بلکہ غیرمشروط جنگ بندی پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔فی الحال اسرائیل کی پریشانی یہ ہے کہ تمام تر امریکی اور مغربی یورپی حمایتوں اور تعاون کے باوجود وہ اپنے وجود کو مستحکم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کی قیادت کو یہ صاف محسوس ہونے لگا ہے کہ اسرائیل اپنے فطری انجام کی طرف گامزن ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی یورپی اتحادیوں کی ترجیحات کی فہرست میں اسرائیل بہت زیادہ دنوں تک سب سے اوپر نہیں رہ سکتا۔ صدر اوباما کا دوبارہ انتخاب ہی انہیں یہ سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ صدارت کی دوسری میعاد میں جب کہ ان پر دبائو کم ہوگا وہ اسرائیل پر نہ صرف یہ کہ امریکی دبائو بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسے کچھ ایسے فیصلے کرنے پر بھی مجبور کرسکتے ہیں جو اسے ناپسند ہوں۔ کیوں کہ اس دوران عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی سیاسی و سماجی تبدیلی کا ایک نیا آغاز عرب بہاریہ سے شروع ہوچکا ہے۔ تیونس، مصر اور لیبیا میں اہم سیاسی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ شام، یمن اور بحرین تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور خطے کے دوسرے ممالک میں بھی ان تبدیلیوں کے مظاہر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جلد یا بدیر انہیں بھی عوامی خواہشات کے احترام میں تبدیلی کے مرحلے سے گزرنا ہی ہوگا۔
یہ وہ حالات ہیں جن میں اسرائیل خطے میں خود کو اکیلا ہی نہیں کمزور پڑتا بھی محسوس کر رہاہے۔ وہ خطے میں مصر اور ترکی جیسے اپنے اہم اتحادی کھو چکا ہے۔ جس طرح کی سیاسی تبدیلی خطے میں رونما ہو رہی ہے، حالاں کہ اس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پوری کوشش یہی ہے کہ اس کا رخ امریکہ اور مغرب موافق ہوجائے لیکن اس میں کیا انہیں کامیابی مل پائے گی اس سلسلے میں کچھ زیادہ امید نہیں رکھی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں امریکہ اور اس کے مغربی یورپی اتحادیوں کے رویے میں بھی تبدیلی کو صاف اور واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ کل تک امریکہ اور اس کے اتحادی جن قوتوں کو منہ لگانے تک کو تیار نہیں تھے آج ان کے ساتھ دست تعاون دراز کرنے کو تیار ہی نہیں بلکہ اس کے لیے آگے بھی آرہے ہیں۔ حالیہ اسرائیل۔حماس تصادم میں مصر کو جس طرح اہمیت دی گئی ہے اس سے صورت حال کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔
اسرائیل کو، اگر وہ اپنے ناجائز وجود کو کسی قدر باقی رکھنا چاہتا ہے، اس کے سرپرست و آقا امریکہ کو اور مغربی یورپی ممالک کو بھی اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کے دور کا آغاز ہوچکا ہے اور اس تبدیلی کو ہر سطح پر اور ہر جگہ محسوس کیاجائے گا، لہذا یہ مناسب وقت ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جائے اور ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے ورنہ زمانے کو اپنی چال چلتے دیر نہیں لگتی اور اس زمانے کی چال میں کتنے شاہوں کو مات ہوگی اس کے بارے میں ابھی سے کچھ کہنا شاید قبل از وقت ہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here