پلاننگ کمیشن رپورٹ: غربت میں کمی کا دعویٰ حقیقت سے چشم پوشی

Share Article

وسیم راشد 
p-5کمر توڑ مہنگائی، تھالی سے کم ہوتا ہوا کھانا، سکڑتا دسترخوان، پریشان ماں اور کمانے کے بوجھ سے دبا ہوا باپ ۔ یہ ہمارے خیال میں ہندوستان کی ہر ریاست ، ہر شہر ، ہر ضلع اور ہر گائوں کا سین ہے۔مگر ایسے میں اگر آپ سے یہ کہہ دیا جائے کہ آپ کو 5 روپے میں دہلی جیسے شہر میں پیٹ بھرکھانا اور ممبئی جیسے شہر میں 12روپے میں کھانا مل سکتا ہے تو یقینا آپ کو مذاق تو لگے گا ہی مگر آپ کو غصہ بھی بے انتہا آئے گا۔ رشید مسعود اور راج ببر دونوں ہی کانگریس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے پلاننگ کمیشن کی رپورٹ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے چمچہ گیری کرنی پڑے تو وہ چاہے بھونڈاپن ہی لگے مگر کر تو لی۔سوال یہ نہیں ہے کہ ممبئی اور دہلی میں 5اور 12روپے میں کھانا ملتا ہے یا نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ پلاننگ کمیشن نے ہندوستان کے کروڑوں غریب عوام کا جس طرح مذاق اڑایا ہے وہ یقینا اس بات کی علامت ہے کہ 2014کے الیکشن سے پہلے یو پی اے حکومت اپنا رپورٹ کارڈ بہتر کرنے کے چکر میں زمینی حقائق سے پردہ پوشی کرتے ہوئے بچکانہ رپورٹ کے ذریعہ غریبوں کے ساتھ نیا کھیل کھیل رہی ہے۔ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اس سے پہلے ایک بار یہ ضرور دیکھا جائے کہ کمیشن نے آخر کیا کیا ہے؟
کمیشن کے مطابق 2011-12میں غربت میں نمایاں کمی آئی ہے اور تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں اب غریبوں کی تعداد27 کروڑ ہے۔ یعنی ہر پانچ میں سے ایک شہری غریبی سطح سے نیچے زندگی گزارتا ہے ۔ لہٰذاس میں کمیشن نے دیہی علاقوں میں27روپے اور شہروں میں 33روپے سے زیادہ خرچ کرنے والے افراد کو انتہائی غریب کے زمرے میں شمار نہیں کیا۔ کمیشن نے غریبی کی سطح کو ناپنے کے لئے تیندولکر فارمولے کا استعمال کیا۔ حالانکہ حکومت نے غریبی کی سطح کے لئے جون 2012میں وزیر اعظم کے اقتصادی صلاح کار کمیٹی کے چیئر مین رنگا راجن کیقیادت میں ایک خاص گروپ بنا یا تھا۔ مگر حکومت نے الیکشن کو مد نظر رکھتے ہوئے سال 2014کے وسط تک پیش ہونے والی اس رپورٹ کا انتظار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور جلد بازی کا مظاہرہ کر تے ہوئے لکر تیندولکر طریقہ کار کی بنیاد پر نئے اعداد و شمار دے کر پورے ملک کو چونکا دیا۔ غریب تو غریب ہیں مڈل کلاس بھی ان اعداد و شمار کو دیکھ کر بھونچکا رہ گئے ۔ کیسی دل ہلا دینے والی یہ سچائی ہے کہ 27اور 33روپے جس میں اس زمانہ میں ایک غریب فٹ پاتھ پر رہنے والا فقیر یا رکشہ چلانے والا بھی پیٹ نہیں بھر سکتا۔ حکومت نے اس کو غریبی کی لائن سے باہر دکھا دیا۔ 816روپے ماہانہ گائوں میں اور 1000روپے ماہانہ کمانے والے شہروں میں کیسے غریبی کی سطح سے اوپر اٹھ گئے ،ا س کا جواب تو حکومت ہی دے سکتی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کا اگر ذکر کریں تو غریبی تو دور کی بات مہنگائی میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ متوسط طبقہ تو پریشان ہے ہی امیر طبقہ بھی اب پریشانی محسوس کرنے لگا ہے۔ پٹرول ڈیزل کے بے پناہ بڑھتے داموں نے تمام اشیاء کے دام بڑھا دیے ہیں۔ گھر میں روٹی تو مشکل ہو ہی گئی ہے،ساتھ ہی بچوں کی پڑھائی اور شادی بیاہ جیسے معاملات بھی متوسط اور امیر طبقہ کے لئے بھی مشکل ہوگئے ہیں ۔جن کے پاس اندھی کمائی ہے ،جن کے پاس کالا دھن ہے، ان کی بات چھوڑ دیجئے۔سیاست دانوں کی بات چھوڑ دیجئے،بڑے بڑے اونچے عہدوں پر فائز سرکاری نوکری کرنے والوں کی بات چھوڑ دیجئے اور کرپشن سے بے پناہ مضبوط ہونے والے بڑے بڑے سرمایہ کاروں ، تاجروں کی بات چھوڑ دیجئے تو عام طبقہ بے حد پریشان ہے۔ ہندوستان کے غریب عوام کا پیسہ تو یوپی اے حکومت نے گھوٹالوںمیں لگادیا۔اربوں کھربوں کے گھوٹالے ایسے کہ اگر ان میں زیرو لگانے بیٹھ جائیں تو بھول جائیں کہ ان گھوٹالوں کی رقم کی گنتی کیسے لکھی جائے۔ ان گھوٹالوں نے ہندوستان کے عوام کو غریبی کی سطح سے نیچے ہی کردیا ہے۔

کرپشن، روپے کی قیمت میں گراوٹ، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کی بے پناہ اضافہ اور ساتھ ہی حکومت کی پالیسیاں ان سب نے ہندوستان کی اقتصادی حالت کو بے حد خراب کردیا ہے اور ظاہر ہے اسکا اثر براہ راست غریب اور متوسط طبقہ پر پڑ رہاہے۔ حکومت جس طرح اپنی ناکامیاں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، اس سے یہی اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ حکومت کی غریبوں کو سرکاری اسکیموں سے محروم کرنے کی سازش ہے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تمام بڑے بڑے قومی چینلز پر اس معاملے پر اس بیان پر بے تحاشہ بحث ہوئی اور زیادہ تر کی یہی رائے تھی کہ حکومت صرف اور صرف حقائق سے پردہ پوشی کرتے ہوئے 2014 کی تیاری کر رہی ہے۔

کرپشن، روپے کی قیمت میں گراوٹ، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کی بے پناہ اضافہ اور ساتھ ہی حکومت کی پالیسیاں ان سب نے ہندوستان کی اقتصادی حالت کو بے حد خراب کردیا ہے اور ظاہر ہے اسکا اثر براہ راست غریب اور متوسط طبقہ پر پڑ رہاہے۔ حکومت جس طرح اپنی ناکامیاں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، اس سے یہی اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ حکومت کی غریبوں کو سرکاری اسکیموں سے محروم کرنے کی سازش ہے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تمام بڑے بڑے قومی چینلز پر اس معاملے پر اس بیان پر بے تحاشہ بحث ہوئی اور زیادہ تر کی یہی رائے تھی کہ حکومت صرف اور صرف حقائق سے پردہ پوشی کرتے ہوئے 2014 کی تیاری کر رہی ہے۔
ایسے ہی اپوزیشن تو ظاہر ہے حکومت کے خلاف جائے گی ہی مگر کانگریس کے اپنے کچھ سیاست دانوں کے پاس اس کا جواب نہیں تھا کہ آخر کس بنیاد پر یہ اعدادو شمار دیے گئے ہیں۔بی جے پی کے لیڈر ان تو حکومت کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں کہ آیا کوئی شخص روزانہ 34 روپے پر کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ بقول بی جے پی ترجمان پرکاش جواڈیکر کہ یہ ایک اور سازش ہے تاکہ غریبوں کو غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے حکومت کی بے شمار اسکیموں سے محروم کیا جائے۔بی جے پی نے جو یہ سوال کیا ہے کہ 34 روپے میں کوئی شخص کیسے زندہ رہ سکتا ہے تو ایک جواب تو ضرور ہے کہ پارلیمنٹ کی کینٹین میں ضرور 18 روپے کی تھالی ملتی ہے لیکن کیا عام آدمی کا وہاں سے گزر بھی ہوسکتا ہے یعنی سب سے زیادہ غریب بیچارے سیاسی لیڈران ہیں۔لاکھوں روپے مہینہ کمانے والے یہ لیڈرس ہر طرح سے سہولتیں حاصل کر رہے ہیں۔ پٹرول ان کو مفت، گاڑی ان کو مفت، ڈرائیور ان کو مفت،میڈیکل سہولتیں ان کو مفت، ریل میں سفر ان کو مفت اور ان کو ہی نہیں ان کی پوری فیملی کو فرسٹ کلاس میں سفر مفت ہے ۔ اس کے علاوہ سستا کھانا پارلیمنٹ میں مل جاتا ہے ۔اب عام آدمی کے دکھ کا اندازہ حکومت کو کیسے ہو۔سفید کرتا و پائجامہ پہنے یہ مفت روٹیاں توڑنے والے کرپٹ لیڈران کے لئے تو سب کچھ مفت اورغریب آدمی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ۔ بجلی نہیں پانی نہیں۔اناج ، دالیں، سبزیاں، گوشت ، پڑھائی لکھائی سب کچھ اتنا مہنگا کہ عام آدمی کی کمر ہی ٹوٹ گئی ہے۔
اگر ہم 20 مارچ 2012 کی رپورٹ کا جائزہ لیں تو اس کے مطابق 2004 سے 2012 کے درمیان پانچ کروڑ لوگوں کے غربت کے زمرے سے باہر نکلنے کی بات عقل تسلیم کر ہی نہیں سکی۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما گروداس گپتا نے 2012 میں بھی یہ بات کہی تھی کہ حکومت اعدادو شمار کا سہارا لے کر صرف اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آج 2013 میں پھر سے ان کی یہ بات صحیح ثابت ہورہی ہے ۔2012 کی رپورٹ کا جائزہ لیں تو غریب کس کو ماناجائے ۔غربت کے زمرے میں کس کو شامل کیا جائے۔ اس سوال پر اس وقت بھی بہت بحث ہوئی تھی اس سے پہلے 2011میں بھی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں کہا تھا کہ 32 روپے روزانہ کمانے کی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کو انتہائی غربت کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔
اس وقت یعنی 2011میں حکومت نے سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے دبائو کے سامنے جھکتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھاکہ غریبوں کی نشاندہی کے لئے حقیقت کو سامنے لانے کی پوری کوشش کی جائے گی مگر اب 2013 میں حکومت پھر وہی راگ الاپ رہی ہے۔غریبوں کی صحیح تعداد ہمارے ملک میں بے حد حساس معاملہ ہے کیونکہ حکومت کی بہت سی امدادی اسکیموں سے وہ لوگ فائدہ نہیں اٹھا پاتے جو غریبی کی لائن سے اوپر کی زندگی گزارتے ہیں ۔منریگا جیسی روزگار اسکیم میں اگر ہر مہینے کوئی شخص دس دن کا بھی روزگار پالے گا تو وہ غریبی کی سطح سے اوپر اٹھ جائے گا ۔کیسی بے وقوفی کی بات ہے کہ 2 سے پہلے 26 اور 32 اور دو سال بعد 27 اور 33 یعنی صرف ایک روپے کی بڑھوتری پر کوئی غریبی کی سطح سے کیسے بلند ہوسکتا ہے۔کیا کوئی یہ دیکھنے والا نہیں ۔کیا کوئی حکومت کو یہ سمجھانے والانہیں کہ 2 سالوں میں مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔نہ جانے حکومت کے سبھی دماغ ناکارہ ہوگئے ہیں جو یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ دو سال پہلے اسی فارمولے کے تحت سرکار کو کس قدر ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب پھر سے حکومت صرف ایک روپے کے پھیر سے وہی سب کچھ لے کر سامنے کیوں آگئی۔ اب سوال ایک اور بھی ہے کہ یہ تمام پالیسیاں بنانے والے ماہر اقتصادیات کیا خود اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ گائوں میں رہنے والا5 افراد کا کنبہ ہر دن 135 روپے اور ہر ماہ 4080روپے میں گزارا کرلے گا اور شہروں میں رہنے والا5 افراد کا کنبہ 5 ہزار روپے ماہانہ پر گزارہ کر لے گا تو یہ یقینا آنکھ بند کرکے کیا جانے والا سروے ہے اور خود منموہن سنگھ کی ساکھ اس سے دائو پر لگ جاتی ہے۔
وزیر اعظم اتنے بڑے ماہر اقتصادیات ہوکر خود ایسے اعدا دو شمار کیسے دے سکتے ہیں ،یہ بڑا سوال ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق غریبوں کی تعداد میں سب سے زیادہ کمی بہار اور اڑیسہ میں آئی ہے۔ غربت کے لحاظ سے سب سے زیادہ خراب حالت چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ،منی پور ، ارونا چل پردیش اور بہار میں ہے۔ جبکہ گوا میں صرف پانچ فیصد لوگ غریبی کی سطح سے نیچے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیرالہ ،ہماچل پردیش، پنجاب اور پونڈیچری میں بھی غریبوں کی تعداد 10 فیصد سے کم ہوئی ہے۔ ان سبھی ریاستوں کا اگر اقتصادی حالات کا جائزہ لیں تو یوپی بہار بنگال ان سبھی میں غریبی بے انتہا بڑھی ہے۔ دہلی جیسے شہر میں تو خیر 33 روپے میں پیٹ بھرنا نا ممکن ہے ہی مگر ان ریاستوں میں بھی ایک فٹ پاتھ پر سونے والا معمولی مزدور یا کوئی بھیک مانگنے والافقیر بھی 33 روپے میں پیٹ نہیں بھر سکتا۔
2011-12 میں گجرات ، اترپردیش اور بہار کی حالت بہت خراب تھی۔ اتر پردیش میں آدھی زیادہ آبادی انتہائی غریب ہے جبکہ بہار میں اس سے بھی زیادہ ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں غربت کی شرح پر بات کریں تو کون اس حقیقت سے انحراف کرسکتا ہے کہ ملک میں مسلمانوں سے زیادہ غریب اور پسماندہ کوئی قوم نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کے مطابق ہندوستانی ریاستوں گجرات، یو پی، مغربی بنگال اور آسام کے دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ہندوستان میں یو این ڈی پی کی سربراہ یعنی کنٹری ڈائرکٹر کیلین وائزن نے فروری 2013 میں کہا تھا کہ ہندوستان اپنے میلینم کے اعدا د وشمار کو پورا کرنے کی طرف گامزن ہے۔ وہ تبھی ہوسکتا ہے جب غربت میں کمی ہو اور تعلیم کے میدان میں سب کو تعلیم اور روزگار ملے۔انہوں نے کہا کہ بے شک ہندوستان اس ہدف کو پورا کرنے میں لگا ہے لیکن وہ بھارت جو گائوں میں بستا ہے وہاں ابھی بھی غربت و افلاس بہت ہے۔وائزن نے ہی یہ کہا تھاکہ مسلمانوں میں غریبی اور پسماندگی کی شرح سب سے زیادہ ہے ۔خاص کر آسام ، اترپردیش، مغربی بنگال اور گجرات کے گائوں۔وائزن کے مطابق مجموعی طور پر مزدور طبقے کے لوگ زیادہ تعداد میں خط افلاس سے نیچے ہیں۔50فیصد کاشتکاری میں لگے ہوئے مزدور اور 40 فیصد دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے مزدور اس زمرے میں آتے ہیں۔آج جب پلاننگ کمیشن اپنی رپورٹ 2 سال پرانی پیش کررہی ہے تو وائزن کی اس بات کی بھی تصدیق ہوجاتی ہے کہ بے شک ہندوستان نے غربت کے خاتمہ کے لئے کافی کام کیا ہے لیکن گائوں دیہاتوں میں مزدوروں اور کسانوں کی حالت بے حد خراب ہے اور انہیں دو وقت کی روٹی نصیب نہیں۔
نوبل انعام یافتہ اورمعروف دانشور امریتا سین کچھ ماہ قبل دلی کے آئی آئی ٹی ہال میں منعقد ایک پروگرام میں تشریف لائے تھے ۔ اس میں انہوں نے حکومت ہند کے غرباء میں سبسڈی تقسیم کرنے کے منصوبے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پیسہ دینے کی یہ اسکیم غریبوں کو غذا فراہم نہیں کرتی۔بد عنوانی سے بچنے کے لئے غرباء کو نقد سبسڈی کا یہ منصوبہ اور بھی خطرناک ہے ۔کیونکہ کون غریب ہے کون نہیں ،یہ ثابت کرنے میں ہی بے حد بدعنوانی ہے ۔ جو افراد ان غریبوں کی نشاندہی کریں گے وہ کتنے ایماندار ہیں اس پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ اب اگر پلاننگ کمیشن کے مطابق 2011-12 میں گائوں میں کل آبادی کے25.7 فیصد غریب تھے اور شہروں میں 13.7 فیصد غریب تھے ۔کمیشن ایسا مانتا ہے کہ ہر سال 2 فیصد سے زیادہ کی شرح سے غریبی کم ہورہی ہے۔نئے اعدادو شمار میں 2004-05سے 2011-12 کے سات سالوں میں غریبی گھٹنے کی شرح 3 گنا کم ہوگئی ہے۔
یہ اعدادو شمار صرف حکومت کی چال ہے ۔ حکومت کو رنگاراجن کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔ اگر ماہرین کی رائے پر جائیں تو غریبی کی سطح کا گراف کچھ اس طرح بنتاہے جو کہ پردے میں ہے۔

اعدادو شمار کی بنیاد پر غریبی کی سطح کی جو بھی موجودہ صورت حال ہو، ہم اگر دہلی اور تمام ریاستوں کاجائز لیں تو آج بھی ہمیں دیہی زندگی بہت ہی پسماندہ نظر آتی ہے۔پانچ روپے یا ستائیس روپے یا کم سے کم 100 روپے میں بھی ایک دن کا خرچ نہیں نکل سکتا اور شہروں میں تو یہ اور بھی زیادہ ہے ۔یہاں آٹے دال کا بھائو دے کر بھی یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی حالت ابھی بھی بے حد خراب ہے۔مہنگائی، بدعنوانی، بے روزگاری گزشتہ 10 سالوں میں اور بڑھی ہے گھٹی نہیں ہے۔ غریب اور غریب ہوتا گیا ہے ،امیر اور امیر ہوتا گیا ۔

برندا کرات کے بیان پر ہم اس پوری بحث کا خاتمہ کرسکتے ہیں کہ غریبی کے اعداد و شمار غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑ کنے کے لئے ہیں نہ کہ ان سے ہمدردی جتانے کے لئے۔ مگر یہ ضرور ہے کہ راج ببر یا رشید مسعود جیسے لوگ غریبوں کے ہمدردبن ہی نہیں سکتے ۔ وہ غریبوں کی تکالیف کو کیسے سمجھ سکتے ہیں جن کے ٹیبل پر انواع و اقسام کے کھانے سجے ہوتے ہیں۔ راج ببر بالی ووڈ کے ہیرو ہیں اور با وقار شخصیت ہیںمگر ان کے سیٹ پر کام کرنے والا ایک معمولی سا اسپاٹ بوائے بھی 12 روپے میں ممبئی میں اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا اور لیڈران کی تو بات آ پ جانے ہی دیجیے پورے ملک میں سب سے غریب یہی تو ہیں جن کو ان کی غریبی کی وجہ سے پارلیمنٹ میں سب سے سستا کھانا ملتا ہے ہمارے خیال میں تو سنسد کے اس کینٹین کا کھاناغریبوں کے لئے کھول دینا چاہئے۔
اس دور میںمعمولی سی چائے بھی5سے 7 روپے کی ملتی ہے۔ایسے میں پیٹ بھر کھانا تو دور کی بات ہے۔پلاننگ کمیشن کو چاہئے کہ رنگا راجن کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرے اور صحیح اعدادو شمار ملک کے لوگوں کے سامنے پیش کرے تاکہ حکومت کی فوڈ پالیسی اور دوسری اسکیموں کافائدہ غریبوں کو مل سکے ۔ورنہ آر ٹی آئی سے ملی معلومات کے حساب سے یو پی اے کے اپنے سالانہ ڈنرمیں ایک پلیٹ کا خرچ 7721 روپے ہے جس سے شہر میں 428 لوگ کھانا کھا سکتے ہیں۔ایسی حکومت بھلا کیسے غریبوں کی ہمدرد ہوسکتی ہے اور کیسے غریبی کی سطح کو ناپ سکتی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *