منصوبہ یا من پسند منصوبہ؟

Share Article

عفاف اظہر، کناڈا
امریکی انتظامیہ نے کانگریس کو ایک رپورٹ بھیجی جس میں کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کے پاس دہشت گردی کو ختم کرنے کا کوئی ’واضح منصوبہ‘ نہیں ہے۔  وائٹ ہاؤس کی طرف سے بھیجی جانے والی اس اسٹریٹجک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس رپورٹ میں ’ڈو مور‘ کی فرمائش کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی  تسلیم کیاگیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت جانی قربانیاں دی ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی کانگرس کو بھیجی گئی رپورٹ لکھنے کے پیچھے امریکہ کے سیاسی اور داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے عوامل شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں افغانستان اور پاکستان کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینے سے کہیں زیادہ دو ہزار بارہ کے امریکی صدارتی انتخابات کو مدِنظر رکھا گیا ہے جن میں اوباما ایک دفعہ پھر امیدوار ہیں۔ لہٰذا کانگرس کو پیش کی جانے والی اس رپورٹ کو اوباما کی دو ہزار بارہ کی صدارتی مہم کا نقطہء آغاز سمجھنے سے رپورٹ کے اغراض و مقاصد زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں لفظ واضح منصوبہ”، “سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے” کی شکل میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تو کی ہیں لیکن خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ بظاہر تو اس کا مطلب ڈو مور” ہی نکلتا ہے لیکن چونکہ گیارہ سال کے لمبے عرصہ تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں نتیجہ خیز نہیں نکل سکیں جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ کے اپنے پاس کوئی منصوبہ ہے؟ دس سال کی جنگ میں آج امریکہ کہاں کھڑا ہے، اگر امریکا کے پاس کوئی واضح منصوبہ بندی تھی تو پھر ابھی تک افغانستان اور عراق میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکا ؟ بے شرمی کی بھی انتہا ہے کہ بتیس ہزار پاکستانیوں کی قربانی لے کر بھی ڈو مور” کا نعرہ ؟ جس  پر اب ہر پاکستانی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان سے برسرِ پیکار اور بظاہر مسلسل ناکامیوں سے دوچار امریکی فوج کے پاس طالبا ن سے متعلق کوئی واضح پالیسی موجود بھی ہے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا  ہے کہ سرد جنگ” میں یہی اللہ اکبر” اور “جہاد” کا نعرہ امریکہ کو بڑا اچھا لگتا تھا اور ایسا نعرہ لگانے والوں کو شاباشی کے ساتھ ڈالر اور اسلحہ بھی دیتا تھا۔ اسی نعرے نے روس کے ٹکڑے کروا کر امریکہ کو دنیا کا بادشاہ” بنوایا تو پھر یہی نعرہ آج امریکہ کے لیے وبالِ جان کیونکر بن سکتا ہے؟ ثابت ہوا کہ امریکہ کے کسی منصوبے پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی فوج تو سپاہی ہیں، سپاہیوں کو جنگی منصوبہ کا پتہ نہیں ہوتا۔ ان کا کیا تعلق منصوبہ سے یا منصوبہ بندی سے؟ تم ٹارگٹ بتاؤ، ہم گولی چلا دیں گے۔جب جنگ ہی آپ کی ہے تو پھر منصوبے ہمارے کیسے ہو سکتے ہیں؟
وہ جو دنیا بھر کو دہشت گرد کہتا ہے مگر
کوئی دہشت گرد اس کی گرد کو پہنچا نہیں
سچ ہی تو کہا گیا ہے اس رپورٹ میں کہ ، اگر کوئی واضح منصوبہ ہوتا تو کیا پاکستان دنیا کے عظیم المرتبت دہشت گرد” کا سب سے بڑا حلیف ہوتا؟ پاکستان کے عام آدمی کو بھی معلوم ہے یہ بات، وائٹ ہاؤس کو اب معلوم ہوئی ہے؟ اگر کوئی منصوبہ ہوتا تو آج ہم اس حالت میں ہوتے؟ اپنے ہی ملک میں احساسِ تحفظ کا شکار ہوتے؟ اپنی ہی ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتا ہوتے؟ ماورائے عدالت قتل ہوتے؟ اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ ہوتے؟ اپنے ہی محافظوں (پولیس، فوج، آئی ایس آئی، ایف سی) سے خوفزدہ ہوتے ؟
لاپتا افراد کے اہل خانہ کی دہائیاں دل چیر رہی ہیں، اور پردہ دار مائیں، بہنیں اپنے پیاروں کے لیے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر انصاف کی بھیک مانگ رہی ہیںاور پھر جناب پاکستان کے پاس تو تعلیم اور صحت کے متعلق بھی کوئی واضح منصوبہ” نہیں ہے اور امریکا بہادر صرف دہشت گردی کو رو رہا ہے۔ صرف یہ دہشت گردی ہی کیوں؟ امن عامہ، لوڈ شیڈنگ، غربت اور بیروزگاری کیوں نہیں؟ عمریں گزر گئیں، یہاں تو نجی مفادات کے تحفظ کے علاوہ کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا اور پھر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف منصوبہ کیوں بنائے گا؟ اگر یہ دہشت گرد ہی ہماری سر زمین سے ختم ہو گئے تو ہمارے یہ ڈالروں اور دیناروں کے منصوبوں کا کیا ہو گا ؟ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ پاکستانی فوج کے پاس کوئی بھی واضح منصوبہ نہیں ہے، ہمارے منصوبوں سے ہی تو آج تک سب چل رہا ہے اب اگر طالبان کو صاف کر دیا تو امداد کہاں سے آئیگی؟ ملک کیسے چلے گا؟ پہلے روس کی لڑائی میں سب چلتا رہا اور اب طالبان کے بہانے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی قیمت ہمیں خود بھی چکانی پڑ رہی ہے لیکن یہ قیمت بھی غریب عوام کو دینی پڑ رہی ہے۔ اشرافیہ کے تو مزے ہی مزے ہیں۔ ان کے لیے تو یہ لڑائی جتنا طول پکڑے، اچھا ہے۔ پاکستانی فوج کے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی دہشت گرد کو سزا ہوئی ہے اور نہ میڈیا میں دہشت گردوں کے حامیوں کو کسی نے روکا ہے۔ جرنیل جب وردی میں ہوں تو امریکہ کے اشاروں پر چلتے ہیں اور بعض ریٹائرمنٹ کے بعد طالبان کی حمایت شروع کر دیتے ہیں، جیسے ان کی تنخواہ امریکہ اور پنشن طالبان دیتے ہوں۔ جب کوئی اصول ہی نہیں تو منصوبہ کیسا؟ اور پھر اربوں ڈالر بٹورنے اور بے گناہ غریبوں کو مروانے والا واضح منصوبہ” تو موجود ہے لیکن امریکیوں کی سمجھ میں نہ آئے تو ہمارا کیا قصور؟ ڈالر حکمرانوں کی جیب میں، لاشیں غریبوں کے حصے میں اور نفرت امریکیوں کے لیے۔ کیا شاندار منصوبہ ہے۔ کبھی آئی ایس آئی نے یہ مخلوق” سی آئی اے کیساتھ مل کر روس کیخلاف امریکہ کے مفاد میں بنائی تھی۔ اس وقت اس مخلوق کو مجاہدین کہاجاتا تھا۔ اب امریکہ ان کو دہشت گرد کہتا ہے اور اسی پاک فوج کے ہاتھوں ان کو مروانا چاہتا ہے جب کہ اس فوج کی اپنی تاریخ ہے کہ یہ اپنے مفاد کے علاوہ کسی کی وفادار نہیں۔ یہ دونوں طرف سے کھیل رہی ہے اور کھیلتی رہے گی۔ جب تک اس کا حل نہیں نکلتا یہ کھیل یوں ہی چلتا رہیگا۔  یقینا پاکستان کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے اور اگر اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا ہی فساد کی جڑ ہے اور اس کے جاتے ہی ملک امن و سکوں کا گہوارہ بن جائے گا تو ذرا چند روز قبل ڈیرہ غازی خان درگاہ پر خود کش حملہ یاد کر لیں جس کے خود کش حملہ آور نے بیان دیا کہ ” اس کے امیر کہتے ہیں کہ درگاہوں پر حملے جہاد ہے کیونکہ زائرین امریکیوں سے بڑے کافر ہیں۔ اب اگر امریکا چلا بھی گیا تو میں مومن تو کافر کا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے۔ وہ امن و امان کو قریب بھی کیسے پھٹکنے دے گا ؟ ہاں فرق صرف اتنا ہو گا کہ ڈرون سے نہیں توخودکشوں کے ہاتھوں مریں گے، کیوں کہ مرنا ہی اب ہمارا نصیب ہے۔منصوبہ بندی توحکومت جب کرے اگر وہ دہشت گردی کو مسئلہ سمجھے۔ حکومت کے لیے تو دہشت گردی سونے کا انڈا دینے والی مرغی” ہے۔ اگر دہشت گردی ختم ہوگئی تو ڈالروں کی برسات بھی بند ہو جائیگی۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ کون اپنے ہاتھ سے گھر کا چولھا ٹھنڈا کریگا؟ دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خاتمے میں کافی فرق ہے۔ وہ بھائی لوگ” تو اپنا خاتمہ خود کرلیتے ہیں اپنے آپ کو اڑا کر، دہشت گردی ازخود مسئلہ نہیں بلکہ بیروزگاری، جہالت اور بیماری جیسے بڑے مسائل کا اظہار ضرور ہے۔ جب موجودہ حکومت کے پاس ان تینوں کے حل کا کوئی واضح منصوبہ نہیں تو لکیر پیٹنے سے کیا ہوگا؟ دوسرا یہ کہ بڑی طاقتوں سے پاکستانی فوج کو ملنے والا پیسہ اور ڈومور” کی فرمائشیں اس وقت آنا بند ہو جائیں گی جب دہشت گردی کا مکمل خاتمہ” ہوگیا۔ یہ دونوں سچ امریکی انتظامیہ کیوں نہیں بول سکتی؟  پاکستانی حکومت کے لیے دہشت گردی کے خلاف منصوبہ بنانا اب تقریباً ناممکن ہوچکا ہے کیونکہ ذہنی اعتقاد کو تبدیل کرنے کے لیے تمام مکتبہء فکر کے علمائ، سیاستدان، اساتذہ، بیوروکریٹس اور فوج کی ہائی کمان کو ایک ساتھ بیٹھ کر نظامِ تعلیم میں تبدیلیاں اور آبادی کے کنٹرول جیسے موضوعات کو سیاست سے پرے رکھ کر سنجیدگی سے ان پر غور کرناہوگا۔ غیر محب وطن میڈیا چینلز کا خاتمہ، قوانین کی پابندی اور مذہب کو سیاست و کاروبار سے علیحدہ کرنا ہوگا۔ افسوس میں نے غلط کہہ دیا بھلا پاکستان میں یہ کیسے ممکن ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *