پلان ہی یہی ہے کہ فساد جاری رہیں

Share Article

وسیم راشد 
چوتھی دنیا نے کافی عرصہ پہلے یہ انکشاف کیا تھاکہ’ فسادات ہونے والے ہیں‘ ۔پھر دوسری ہماری قسط آئی ’’ فسادات شروع ہوچکے ہیں‘‘۔یہ قسط اس وقت آئی جب مظفر نگر اور شاملی میں فرقہ وارانہ فساد ہوا اور فساد بھی ان گائوں ،دیہاتوں میں جہاں سالوں ہندو مسلم اتحاد سے پیارسے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔مگر اچانک کیا ہوا ،کس کی نظر لگ گئی کہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل ہونے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے اور اب پھر سے وہاں دوبارہ حالات اتنے خراب ہوگئے کہ پھر سے ایک فرقے کے لوگ دوسرے پر کھل کر وار کررہے ہیں۔

مظفر نگر کا فساد دوبارہ کیوں ہوا؟کیوں ابھی بھی حالات خراب ہیں۔ دراصل راہل گاندھی تو اپنا بیان دے کر خاموش بیٹھ گئے ۔ہنگامے ہوئے ۔چینلز کے خوب مزے آئے ۔ خوب ٹی آر پی بڑھی اور نام و نہاد لیڈر وں کو چینلز پر بلایا گیا مگر ان بد نصیبوں کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا جن کو اس بیان کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔کھلے عام مظفر نگر کے نوجوانوں پر غدار کہنے والے ان کو ستانے لگے ۔ان پر آئی ایس آئی سے رابطہ کرنے کا الزام لگنے لگے ۔یہ بیان اکیلا ہی ذمہ دار ہوسکتا ہے اس فسادکا۔ ایک بات میری آج تک سمجھ میں نہیں آئی جب وزیر داخلہ بھی لا اینڈ آرڈر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بقول ان کے اور اکھلیش سرکار بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تو پھر آخر یہ فساد ہو کیسے جاتے ہیں؟

اس وقت پورے ملک کے حالات بے حد خراب ہیں۔ایک طرف تو 2014 کا الیکشن سب کے سامنے ہے اور اس کو لے کر ساری ہی سیاسی پارٹیاں کھل کر ووٹوں کی سیاست کا کھیل کھیل رہی ہیں اور دوسری طرف 5 ریاستوں کے اسمبلی الیکشن ہیں جس میں دہلی کا الیکشن مرکز ہونے کی وجہ سے بہت ہی اہم ہے ۔ لیکن مظفر نگر میں پھر سے فسادہونا اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے سامنے 2014 ہے اور انہوں نے صرف اس کو مد نظر رکھ کر پوری طرح اپنی بساط بچھا دی ہے اور اس میں پِس رہے ہیں غریب عوام ۔ مہنگائی کا بوجھ ، فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کا بوجھ۔ دہشت گردی کا خوف یہ تمام وہ ایشوز ہیں جو صرف اور صرف عوام کو ہی اٹھانے ہیں۔ مہنگائی کی بات تو کرناہی بے کار ہے کیونکہ اب یقینا متوسط طبقہ تو کیا امیر طبقہ بھی اس کی زد میں ہے ۔ کیونکہ آمدنی کا گراف ایک حساب سے ہی بڑھتا ہے مگر مہنگائی کا گراف بے تحاشہ بڑھتا جارہا ہے اور دہشت گردی کیسے اپنا تانڈو کرتی ہے ۔یہ ہم پٹنہ میں ہوئے حالیہ بم دھماکوں میں دیکھ سکتے ہیں۔
ہم ’’فسادات جاری رہیں گے‘‘ کی اپنی بات اسی تحریر کے ذریعہ کرر ہے ہیں یعنی ہمارا اب یہ کہنا ہے کہ فسادات اب الیکشن تک لگاتار ہوتے رہیںگے۔کیونکہ ملک کا سیکولر کردار تو اب بالکل ختم ہو چکا ہے ۔ جس ملک کے لیڈران اپنے اقدار کو بھول کر صرف ووٹوں کی سیاست کرنے لگتے ہیں ،وہ ملک بار بار فسادات کی آگ میں جلے گا۔
مظفر نگر کی موجودہ صورتحال پر بات کریں ۔اس میں وہاں کے ڈی جی پی دیوراج ناگر کے بیان پر بے حد شرم آئی اور افسوس ہوا جب انہوں نے کہا کہ اس میں پولیس کی کمی ہے۔حیرت کی بات ہے کہ اتنا ذمہ دار شخص جب یہ بیان دے رہا ہے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ کتنی ناانصافی ہو رہی ہے کہ وہ پولیس جو عوام کے لئے ہے وہ ان کی سنتی ہی نہیں ہے۔
ہمیں تو یہاں تک خبر ملی ہے کہ مظفر نگر فساد میں پولیس ایک جگہ جمع ہو کر شراب و کباب کے مزے اڑاتی ہے اور پورا شہر جلتا رہتا ہے اور پھر اس میں تعجب کی بات کیا ہے۔بہار میں بم بلاسٹ ہوتے ہیں۔لوگ خاک و خون میں لتھڑے پڑے ہوئے امداد کو ترس رہے ہوتے ہیں اور ہمارے وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے ممبئی جیسی جادوئی نگری میں رجو فلم کا میوزک البم لانچ کر رہے ہوتے ہیں اور یہی نہیں اس سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ اسی ناچ گانے کی محفل میں بم بلاسٹ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے وہاں ہونا چاہئے تھا لیکن کمنٹمنٹ تھا اس لئے آنا ضروری تھا۔ شرم اور افسوس کا مقام ہے۔کیا ہوئے وہ ہمارے لیڈر سردار ولبھ بھائی پٹیل ، لال بہادر شاستری ،مولانا ابول الکلام آزاد،مولانا محمد علی جوہر اور ہمارے دور کے ہی چند قد آور لیڈر جیسے وی پی سنگھ، جے پرکاش نارائن وغیرہ۔
مظفر نگر سے بار بار یہ خبر یں آرہی تھیں کہ ابھی وہاں کے حالات بہتر نہیں ہوئے ہیں۔ وہاں پھر سے آگ لگ سکتی ہے لیکن کسی نے بھی اس طرف پلٹ کر نہیں دیکھا۔جو خاندان اجڑ گئے ہیں ان کی بازآبادکاری کا کام تک نہیں ہوا اور پھر کوئیحفاظت نہیں کوئی محافظ نہیں۔غضب ہے کہ ایک فرقہ کے لوگوں پر باقاعدہ منظم حملہ کیا جاتا ہے۔پردھان سے لے کر عام لوگ تک پولیس کو فون کرتے ہیں ۔ایس او کو فون کیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی فون نہیں اٹھاتا ۔اس کا مطلب یہی نکالا جاتا ہے کہ پولیس نے فسادیوں کو پورا موقع دیا کہ وہ اپنا کام کرکے خاموشی سے بھاگ سکیں ۔تھانہ بڈھانہ کے ایس او نے تو رپورٹ تک درج نہیں کی۔
اکھلیش حکومت پوری طرح ناکام تو ثابت ہو ہی چکی ہے۔ ایک بات یہ سمجھ میں آرہی ہے کہ ملائم سنگھ یادو تیسرا محاذ بنانے کی کوشش میں لگے ہیں اور اپنی تقریر میں زور و شور سے کہہ رہے ہیں کہ فرقہ پرستوں کی آنکھیں پھوڑ دی جائیںگی اور دوسری طرف پولیس کو ہی فرقہ پرستی بڑھانے کا بھرپور موقع فراہم کر رہے ہیں۔ بھلایہ کیسے ہوسکتاہے کہ بار بار پولیس کو وہاں کے حالات کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے اور پولیس خاموشی تماشائی بنی دیکھتی رہتی ہے بلکہ دیکھتی بھی نہیں کان ہی بند کرکے بیٹھ جاتی ہے۔
مظفر نگر کا فساد دوبارہ کیوں ہوا؟کیوں ابھی بھی حالات خراب ہیں۔ دراصل راہل گاندھی تو اپنا بیان دے کر خاموش بیٹھ گئے ۔ہنگامے ہوئے ۔چینلز کے خوب مزے آئے ۔ خوب ٹی آر پی بڑھی اور نام و نہاد لیڈر وں کو چینلز پر بلایا گیا مگر ان بد نصیبوں کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا جن کو اس بیان کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔کھلے عام مظفر نگر کے نوجوانوں پر غدار کہنے والے ان کو ستانے لگے ۔ان پر آئی ایس آئی سے رابطہ کرنے کا الزام لگنے لگے ۔یہ بیان اکیلا ہی ذمہ دار ہوسکتا ہے اس فسادکا۔
ایک بات میری آج تک سمجھ میں نہیں آئی جب وزیر داخلہ بھی لا اینڈ آرڈر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بقول ان کے اور اکھلیش سرکار بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تو پھر آخر یہ فساد ہو کیسے جاتے ہیں؟ ہمیں اتنا پتہ ہے کہ میرٹھ کا فسادہو،گجرات کا فساد ہو یا مظفر نگر کا ۔اگر اس کی زد میں کوئی آتا ہے تو وہ مسلمان ہیں۔ مجھ سے ایک بہت ہی سینئر اور باوقار ہندی صحافی نے ایک سوال کیا کہ آج کا مسلم نوجوان کس طرح سوچتا ہے ؟ کیا بابری مسجد، گجرات فساد ،مودی ، اقلیتی کردار یہ سب اس کے موضوعات ہیں۔ میں نے بہت ہی سنجیدگی سے بہت ہی ذمہ داری سے جواب دیاکہ نہیں وہ ان سب سے اوپر ہے۔ وہ اس وقت صرف تعلیم ، روزگار اور اپنے کیریئر پر توجہ دیتا ہے۔ اس کے لئے یہ سب مسائل اہم نہیں ہیں ۔ اس کے لئے تعلیم کے برابر مواقع، اس کے لئے بہتر نوکریاں ،اس کے لئے ذہنی سکون اور اس کے لئے سیکولر ازم کا سچا تصور ہی اہم ہے۔ ہم بار بار اپنے نوجوانون کو اس فرقہ واریت کے زہر سے باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہر بار ہمیں اسی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
مظفر نگر کا فساد ظاہر ہے کوئی پہلا فساد نہیں ہے اور جیسے ہمارے حالات ہیں اس کے حساب سے شاید آخری بھی نہیں ہوگا۔ لیکن جس طرح پولیس ،ریاستی حکومت ، انتظامیہ آنکھ، ناک ، کان بند کیے بیٹھی ہے اس سے ایسا ہی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جارہاہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *