پھوٹ ڈالو راج کرو کی پالیسی پر کار بند یو پی کی سماجوادی سرکار

Share Article

اجے کمار 

سماجوادی سرکار مغربی اتر پردیش میں پھیلے فرقہ وارانہ فسادات سے ہوئے سیاسی نقصان کی بھرپائی کے لیے آنے والے دنوں میں کئی غیر ضروری فیصلے کر سکتی ہے۔ اس کے نشانے پر خاص کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے بڑے لیڈر رہیں گے۔ سماجوادی پارٹی اتر پردیش میں لوک سبھا کی 80 سیٹوں کی جنگ کو اپنے اور بی جے پی کے بیچ میں سمیٹنا چاہتی ہے۔ نوجوان وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو مسلمانوں کو خوف دکھاکر اور سرکاری خزانے کا منھ ان کے لیے کھول کر ان کا ووٹ اپنے حق میں کرنا چاہتی ہے۔ اس حقیقت سے بھی پردہ ہٹ گیا ہے کہ اسمبلی الیکشن کے دوران انہوں نے ترقی، قانون اور نظم و نسق کو لے کر جو وعدے کیے تھے، وہ جھوٹے تھے۔

p-4bاتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آج کل اپنے والد کے ہی نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو انگریزوں کی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی جس پالیسی پر عمل کرکے تین بار وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچے تھے، آج کل ان کے صاحبزادے اکھلیش یادو بھی اسی کی نقل کر رہے ہیں۔ اپنے نام کے ساتھ مولانا لفظ جڑنے پر جس طرح ملائم سنگھ فخر محسوس کرتے تھے، اسی طرح اکھلیش یادو بھی مسلم ٹوپی اور لباس پہن کر خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ پوچھنے پر وہ کہتے ہیں کہ میں تو کافی وقت سے مسلم ٹوپی پہنتا رہا ہوں۔ ان کے بیان ایسے ہوتے ہیں، گویا کسی خاص طبقہ کا ترجمان بول رہا ہو۔ بغیر کسی جانچ پڑتال کے وہ کسی کو کلین چٹ دے دیتے ہیں، تو کسی پر الزام بھی لگا دیتے ہیں۔ اپنی پارٹی کے لیڈروں کی برائی تو وہ سننا ہی نہیں چاہتے۔ ان کے وزیر، اعظم خاں پر جب الزام لگتا ہے، تو وہ خود ہی اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔
نوکر شاہی اور پولس کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ حکومت و انتظامیہ میں بیٹھے افسروں پر دباؤ ڈال کر مخالفین کو پھنسانے اور نمٹانے کی سازش رچی جاتی ہے۔ دباؤ بھی ایسا ویسا نہیں، بلکہ حالات اتنے خراب ہو جاتے ہیں کہ بڑے بڑے افسر بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ مظفر نگر کے ایس ایس پی کے ساتھ ہوا۔ بیماری کی وجہ سے انہوں نے چھٹی لے لی۔ کہا جاتا ہے کہ علاقہ کے ایک بڑے بی جے پی لیڈر کے خلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) لگانے کے لیے ایس ایس پی پروین کمار پر بہت زیادہ دباؤ تھا، جب کہ وہ اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ پوری ریاست ’انکل اسٹیٹ‘ بن کر رہ گئی ہے۔ اعظم خاں، رام گوپال، شو پال انکل کے سامنے بھتیجا بونا پڑ گیا ہے۔
قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ میں ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو یو پی کے فسادات کے لیے بی جے پی کے یو پی انچارج کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن ملائم یا پھر وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو یہ نہیں بتا پاتے ہیں کہ انہیں کس بنیاد پر یا کون سی جانچ سے اس بات کا پتہ چلا۔ اگر ملائم کی بات سچ تھی، تو فسادات سے قبل یہ بات عام کیوں نہیں کی گئی؟ ملائم ہی نہیں، ان کی پوری ایس پی بریگیڈ ایک ہی سر میں بول رہی ہے۔ بات فسادات میں ملزم بنائے گئے بی جے پی کے ممبرانِ اسمبلی کی کی جائے، تو یہاں بھی سماجوادی سرکار کو بے عزتی کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ جیل بھیجے گئے بی جے پی کے دو اور بی ایس پی کے ایک ایم ایل اے میں سے بی جے پی کے سریش رانا اور بی ایس پی کے نور سلیم رانا کو دو دن میں ہی ضمانت مل گئی۔ سرکاری وکیل کی دلیلیں عدالت میں ذرا بھی نہیں چلیں۔ پکڑے گئے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم پر سرکاری منشا کے مطابق این ایس اے تو لگا دی گئی ہے، لیکن سماجوادی حکومت کے لیے عدالت کے سامنے اس فیصلہ کو بھی صحیح ٹھہرانا آسان نہیں ہوگا۔

اکھلیش سرکار کو سمجھنا ہوگا کہ جمہوری نظام میں ان کے حکم کو حتمی نہیں مانا جاسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ قانون اور نظم و نسق کا حوالہ دے کر ریاست میں جگہ جگہ ہونے والی دُرگا پوجا کی اجازت نہ دینے کے معاملے میں ہائی کورٹ کو یوپی سرکار کو آئینہ دکھانا پڑا۔ عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ ملک میں جمہوریت ہے اور اقتدار بھی آئین کے دائرے میں چلایا جاتا ہے۔ شہریوں کو اپنے مذہبی فرائض انجام دینے سے روکا نہیں جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس ڈی پی سنگھ اور جسٹس اشوک پال سنگھ کی بنچ نے 25 ستمبر، 2013 کو دیے گئے اپنے فرمان میں سبھی ضلعوں کے اعلیٰ افسروں کو حکم دیا کہ نوراتری کے مد نظر جہاں بھی مورتیاں لگائی جائیں، وہاں انتظامیہ قانون اور نظم و نسق کا پختہ انتظام کیا جائے۔

مظفر نگر کچھ پرامن ہوا، تو نریندر مودی کی ریلیوں کو لے کر بی جے پی اور سماجوادی حکومت کے درمیان ٹکراؤ والی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ یو پی سرکار بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نریندر مودی کی اتر پردیش میں ہونے والی کچھ ریلیوں کو فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کا بہانہ بناکر ردّ کر سکتی ہے۔ ویسے اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی نے تہواروں کے وقت ہی ریلیوں کی تاریخ طے کرکے خود ہی سماجوادی سرکار کے ہاتھ میں اپنی ریلیوں کو روکنے کا ہتھیار تھما دیا ہے۔
کانگریس کی سابق ریاستی صدر ریتا بہوگنا جوشی بھی کہتی ہیں کہ بی جے پی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اکتوبر – نومبر کا مہینہ تہواروں کا مہینہ ہوتا ہے، اس لیے ان مہینوں میں تمام پارٹیاں سیاسی ریلیاں کرنے سے کتراتی ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے ترجمان اور وزیر راجندر چودھری کو بھی مودی کی ریلی پر اعتراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی ریاست کا فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، چاہے وہ مودی ہی کیوں نہ ہوں۔ ویسے بی جے پی کو بھی سرکار کی اس منشا کا پتہ چل چکا ہے، اسی لیے وہ آج کل نئی حکمت عملی بنانے میں لگی ہوئی ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر یوپی سرکار نے مودی کو اپنے یہاں ریلی کرنے کی اجازت نہیں دی، تو وہ ریلی والے ضلعوں میں اپنے کارکنوں کے ساتھ پیدل مارچ شروع کریں گے۔
اتر پردیش میں سیاسی لیڈروں کے ذریعے جس قسم کا ماحول تیار کیا جا رہا ہے، اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ انتخابی موسم میں لیڈروں کو ریاست کا امن و چین راس نہیں آ رہا ہے۔ آج ریاست اسی مقام پر کھڑی ہے، جہاں وہ 1990 کی دہائی میں ایودھیا تنازع کی وجہ سے کھڑی تھی۔ اس وقت کے لیڈروں کی تیکھی بیان بازی کا ہی نتیجہ تھا کہ بابری مسجد کو گرا دیا گیا۔ اس وقت بھی لیڈروں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو بڑھانے کا کام کیا تھا اور آج بھی یہی ہو رہا ہے، بس چہرے بدل گئے ہیں۔ تب بی جے پی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی، کلیان سنگھ، اوما بھارتی، راجناتھ سنگھ، وجے راجے سندھیا، ونے کٹیار، ’مونی بابا‘ کے نام سے سرخیوں میں رہنے والے کانگریس کے لیڈر اور اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ، سماجوادی پارٹی کے ملائم سنگھ یادو، بینی پرساد ورما، جنیشور مشر، موہن سنگھ وغیرہ کا نام لیا جاتا تھا، تو اب ان کی جگہ نریندر مودی، امت شاہ، اکھلیش یادو، اعظم خاں، وزیر اعظم منموہن سنگھ نے لے لی ہے۔ کوئی ہندوؤں کا مسیحا بننے کو بیتاب ہے، تو کسی کو مسلم ووٹوں کی فکر ہے۔
ووٹ بینک کی سیاست جب اقتدار میں بیٹھے لیڈر کرتے ہیں، تب حالت اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بعض دفعہ عدلیہ کو بھی مداخلت کرنی پڑ جاتی ہے۔ عوام کے حق کی لڑائی کی طرف سے جب سرکار آنکھیں موند لے اور انصاف کے لیے لوگوں کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے، تو صورتِ حال کی نزاکت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ تناؤ کے نام پر اگر کسی مخصوص طبقہ کے لوگوں کو مذہبی فریضہ انجام دینے سے روک دیا جائے، تو اسے صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اکھلیش سرکار کو سمجھنا ہوگا کہ جمہوری نظام میں ان کے حکم کو حتمی نہیں مانا جاسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ قانون اور نظم و نسق کا حوالہ دے کر ریاست میں جگہ جگہ ہونے والی دُرگا پوجا کی اجازت نہ دینے کے معاملے میں ہائی کورٹ کو یوپی سرکار کو آئینہ دکھانا پڑا۔ عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ ملک میں جمہوریت ہے اور اقتدار بھی آئین کے دائرے میں چلایا جاتا ہے۔ شہریوں کو اپنے مذہبی فرائض انجام دینے سے روکا نہیں جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس ڈی پی سنگھ اور جسٹس اشوک پال سنگھ کی بنچ نے 25 ستمبر، 2013 کو دیے گئے اپنے فرمان میں سبھی ضلعوں کے اعلیٰ افسروں کو حکم دیا کہ نوراتری کے مد نظر جہاں بھی مورتیاں لگائی جائیں، وہاں انتظامیہ قانون اور نظم و نسق کا پختہ انتظام کیا جائے۔
سرکار کی مجبوری یہ ہے کہ اسے اپنے حق کی باتوں کے علاوہ کچھ دکھائی اور سنائی نہیں دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ عدلیہ کو بھی تب تک ٹھینگا دکھاتی رہتی ہے، جب تک کہ عدلیہ کڑا رخ نہ اختیار کرلے۔ تناؤ کی بات کرنے والی سرکار نے کبھی اس بات کی کوشش نہیں کی کہ پابندی کے وقت میں مذہبی مقامات سے لاؤڈ اسپیکر اونچی آواز میں کیوں بجتے رہتے ہیں اور مذہب کی آڑ میں سرکاری زمین پر کیسے مسجدوں اور مندروں کی تعمیر ہوجاتی ہے؟
سرکار کی ہٹ دھرمی کا ہی نتیجہ ہے کہ فسادات میں سرکار کے وزیر کابینہ اعظم خاں کے رول کی جانچ کے لیے بنی آل پارٹی جانچ کمیٹی (اسپیشل انویسٹی گیشن سیل) کام شروع کرنے سے پہلے ہی تنازعات میں گھر گئی۔ بی جے پی نے اس کمیٹی سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب تک اعظم خاں وزیر بنے بیٹھے ہیں، تب تک جانچ غیر جانبدار نہیں ہو سکتی ہے۔
اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کو مخالفت کرنے کا موقع سماجوادی حکومت نے ہی دیا۔ دراصل، جانچ کمیٹی کی تشکیل کے 24 گھنٹے کے اندر ہی ایس پی اسپیشل جانچ سیل کیلاش ناتھ مشرا کو چلتا کر دیا گیا۔ ان کی جگہ پر سیل کی انچارج مظفر نگر کی ایس پی کرائم کلپنا سکسینہ کو بنا دیا گیا۔ سرکار نے یہ نہیں بتایا کہ کیلاش ناتھ مشرا کو اس جانچ کمیٹی سے کیوں ہٹایا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بات بات پر ناراض ہو جانے والے وزیر کہیں پھر نہ روٹھ جائیں، اس لیے ان کی طرف سے مشرا جی کے بارے میں غلط اشارے ملتے ہی ان کی چھٹی کر دی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ سرکار ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی پالیسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہی بی جے پی کے اوپر زیادہ حملہ آور ہونے کا ناٹک کر رہی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ووٹوں کا پولرائزیشن ایسے ہی ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *