پھر ٹوٹا پولس کا قہر

Share Article

فردوس خان
یو پی کے لکھیم پور کھیری ضلع کے نگھاسن تھانہ میں نابالغ کے قتل سے ایک بار پھر پولس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ آخر پولس عوام کی حفاظت کے لیے ہے یا ان پر ظلم و ستم ڈھانے کے لیے؟حالانکہ معاملہ کی تفتیش سی بی سی آئی ڈی کے سپرد کی گئی ہے۔ اس معاملہ میں ایس او روی سری واستو ، ایس آئی وی کے سنگھ اور رام ورما سمیت 11پولس اہلکاروں کوبرخاست کر دیا گیا ہے۔ پولس کی نیت کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ اس معاملہ میں داروغہ وی کے سنگھ، حوالدار ایس کے سنگھ اور رام چندر کے خلاف صرف ثبوت مٹانے کی دفعہ کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔بعد میں دبا ئو پڑنے پر نا معلوم لوگوں کے خلاف آبروریزی اور قتل کا معاملہ درج کیا گیا ۔لکھیم پور کے ایس پی ڈی کے رائے کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ نگھاسن پولس تھانہ احاطہ میں گزشتہ 11جون کی رات انتظار علی کی 14سالہ بیٹی کی لاش پیڑ سے لٹکی ملی تھی۔ وہ اس دن صبح کو بھینسوں کو جنگل لے کر نکلی تھی۔ تھانہ کے نزدیک واقع ایک عمارت میں چوکیدار کا کام کرنے والے انتظار علی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ اجتماعی آبرویزی کے بعد اس کا بے رحمی سے قتل کر دیا گیا ہے اور قتل کو خودکشی کی شکل دینے کے لیے اس کی لاش کو پیڑ سے لٹکا دیا گیا۔ لڑکی کی ماں ترنم کا الزام ہے کہ پولس نے پوری رات انہیں تھانہ میں بٹھائے رکھا اور انہیں خاموش رہنے کے لیے پانچ لاکھ روپے دینے کی پیش کش کی ۔لڑکی کے پانچ سالہ بھائی ارمان کا کہنا ہے کہ ان کی بھینس تھانہ احاطہ میں گھس گئی تھی۔ اس پر جب وہ دونوں احاطہ کے اندر آئے تو پولس اہلکاروں نے اس کی بہن کو اندر کھینچ لیا اور اسے بندوق دکھا کر باہر ہی رہنے کو کہا۔ کچھ دیربعد پولس اہلکاروں نے اس کی بہن کی لاش کو پیڑ سے لٹکا دیا۔اسی طرح گزشتہ 3جون کوبہار کے ارریا ضلع کے فاربیس گنج میں پولس نے اپنی حیوانیت کا ثبوت دیا۔پولس کی درندگی اور بربریت کا ویڈیو انٹرنیٹ پردیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک زخمی نوجوان نیم مردہ حالت میں پڑا ہے اور ایک پولس اہلکار اس پر کود کود کر بری طرح اسے جوتوں سے کچل رہا ہے۔کچھ ہی دیر میں پولس کے ظلم سے کراہتایہ نوجوان دم توڑدیتا ہے۔ ویڈیو میں پولس فائرنگ میں مارے گئے گائوں کے دیگر لوگ بھی نظر آ رہے ہیں۔ پولس کی فائرنگ میں چھ لوگ مارے گئے تھے، جن میں دو عورتیں اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔ سالوں پہلے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج آنند نارائن نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے ملک کی پولس غنڈوں کا سب سے بڑا منظم گروہ ہے۔ ہندوستانی پولس پر کیے گئے اس تبصرہ کو ثابت کرنے والے بے شمار شرمناک معاملے ہیں، جنہیں پولس نے اپنی شان سمجھتے ہوئے انجام دیا ہے۔شراب کے نشے میں پولس اہلکاروں کے ذریعہ لوگوں سے بدسلوکی کرنے، عورتوں کے کپڑے ہی نہیں ان کی عصمت کو بھی تار تار کرنے اور لوگوں سے وصولی کرنے جیسے کتنے ہی معاملے اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں۔ جرائم پیشوں سے ساز بازکرنے کے الزامات بھی پولس پر ہمیشہ عائد ہوتے رہتے ہیں۔جب بھی کسی بڑے معاملہ کا انکشاف ہوتا ہے تو ساتھ میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کی جانکاری پولس کو پہلے سے ہی تھی، لیکن باوجود اس کے اس نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ نٹھاری معاملہ میں بھی پولس کی خاصی کرکری ہوئی تھی۔پولس حراست میں ہونے والی اموات سے بھلا کون انجان ہے۔حقوق انسانی کمیشن کی کوششوں کے باوجود پولس حراست میں ہونے والی اموات کی تعداد میں کمی نہیں آئی ہے۔ پولس کی جارحانہ اور تاناشاہی ذہنیت کو پہلے انگریزی افسران کی کوٹھیوں سے بڑھاوا ملتا تھا اور آزادی کے بعد یہی سہارا رسوخ دار لوگوں سے ملنے لگا۔ رسوخ دار لوگوں میں پولس کے ذریعہ مخالفین کو سبق سکھانے کے رجحان نے جنم لیا تو پولس کے کردارمیں یہ بات شامل ہو گئی کہ فرضی کیس بنا کر کسی بھی شخص کو گرفتار کیا جائے اور سیدھا کیا جائے۔ اسی سبق سکھائو پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پولس نے کتنی ہی وارداتوں کو انجام دے ڈالا ہے۔
پولس پر جب الزام عائد ہوتے ہیں تو وہ خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔کسی بھی الزام پر پولس پہلے تو اپنا موقف رکھنے سے کتراتی ہے، لیکن کسی معاملہ میں پولس کو اپنی وضاحت پیش کرنی ہی پڑ جائے تو آگے چل کر عدالت میں وہ جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے۔اسی طرح کے کئی معاملات میں پولس کے اعلیٰ افسران کو عدالت سے سزا بھی ہوئی ہے، لیکن پولس افسران کو سزا اور برخلاف تبصروں کے باوجود پولس کی کارکردگی میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔پولس کے ذریعہ عوام کو اذیتیں پہنچانے کے واقعات میں دن بدن بھاری اضافہ ہو رہا ہے۔ایسے واقعات نے عوام میں پولس کی شبیہ کو مٹی میں ملا دیا ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ پولس میں بھرتی عام آدمی وردی پہن کر خونخوار ہو جاتا ہے؟ وہ اخلاقیات اور سماجی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے۔ پولس کی اس بے رحم شبیہ کو صاف شفاف بنانے کے مقصد سے آئے دن پولس انتظامیہ کوئی نہ کوئی بیان جاری کرتا رہتا ہے۔ پولس اجلاسوں میں بھی پولس کو عام آدمی سے جوڑنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ ملک میںانگریزی دور اقتدار میں پولس سسٹم، پہلے نیشنل پولس کمیشن 1860کی سفارش کی بنیاد پر 1861سے نافذ ہوا تھا اور تب سے ہی ملک میں پولس ایکٹ 1861نافذ ہوا تھا۔ پھر 1902میں اے ایچ ایل فریزر کی صدارت میں دوسرے نیشنل پولس کمیشن کی تشکیل کی گئی۔ اس کمیشن نے پولس سسٹم میں اصلاح کی کئی سفارشات کیں، لیکن ان پر عمل نہیں ہو پایا۔
آزادی کی تقریباً چھ دہائیوں کے بعد بھی ہندوستانی عوام کی نہ صرف ذہنیت بدلی ہے ، بلکہ سماجی ماحول کی اصطلاح اور اقدار بھی بدل گئی ہیں۔اگر اس طویل عرصہ میں کہیں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے تو وہ ہے پولس محکمہ۔غلام ہندوستانیوں کی ذہنیت پر خوف طاری رکھنے کے مقصد سے لارڈ وارین ہیسٹنگس نے جس نظام کے تصور کو مجسم کیا تھا، ہندوستانی پولس آج بھی سو فیصد انہی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ حالانکہ آزادی کے بعد 1977میں رٹائرڈ آئی پی ایس افسر دھرم ویر سنگھ کی صدارت میں پہلے نیشنل پولس کمیشن کی تشکیل کی گئی۔ اپنی پہلی ہی رپورٹ میں کمیشن نے پولس کے ورکنگ سسٹم پر سنگین سوال اٹھائے۔رپورٹ پر غور وخوض کے لیے مرکزی حکومت نے 6جون 1979کو ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ بلائی، لیکن نتیجہ صفر ہی رہا۔کمیشن کی دوسری رپورٹ میں ایمر جنسی کے دوران پولس کے ذریعہ کی گئی زیادتیوں کا ذکر تھا، اس لیے کمیشن کی سفارشات سے حکومت تلملا گئی اور آخر کار 31مئی، 1981کو کمیشن کو بند کر دیا گیا۔
رٹائرڈ آئی پی ایس افسران کے ذریعہ پولس کے ورکنگ سسٹم میں اصلاح کے لیے 1996میں سپریم کورٹ میں خصوصی درخواست کیے جانے کے بعد 25مئی 1998کو سابق آئی پی ایس افسر جے ایف ربیری کی صدارت میں ایک کمیٹی کی تشکیل کی گئی۔کمیٹی کو نیشنل پولس کمیشن،حقوق انسانی کمیشن اور ووہرا کمیٹی کی سفارشات کا مطالعہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ کمیٹی نے حکومت کو کچھ مشورے دیے ، جو شاید حکومت کو پسند نہیں آئے۔ اسی طرح2000میں پدمنا بھیا کی صدارت میں بنی کمیٹی کی سفارشات کو بھی ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔
قابل غور یہ بھی ہے کہ کریمنل پینل کوڈ کی دفعہ 197کے تحت کسی پولس اہلکار پر مقدمہ چلانے کے لیے حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اس صورت میں محکمہ ملزم کا دفاع کرتا ہے۔ مقدمہ چلانے کی اجازت لینا اپنے آپ میں ٹیڑھی  کھیر ہے۔اس میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے۔ اس دوران ملزم ترقی حاصل کر کے پہلے سے زیادہ بااثر ہو جاتا ہے یا رٹائر ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے پولس اہلکاروں کو سزا کا خوف نہیں رہتا۔اس لیے اس دفعہ کو ختم کر دینا چاہیے۔برطانیہ میں پولس ریفارم ایکٹ 2002میں ایک آزاد پولس کمپلینٹ کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے۔ اس میں کمیشن کی خود کی اپنی ٹیم ہے، جس میں عموماً شہری ہی شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ پولس کے خلاف تفتیش کے لیے انہیں ویسے ہی اختیارات ملے ہیں جو یہاں پولس کے پاس ہیں۔ وہ کسی بھی مطلوبہ کاغذات کو طلب کر سکتے ہیں اور پولس احاطہ میں بنا کسی اجازت کے داخل ہونے کا بھی انہیں حق حاصل ہے۔ یہاں شہری ہی پولس کے سنگین الزامات کی سماعت کرنے والے پینل کی صدارت کرتے ہیں۔ متاثرین کے علاوہ کمیشن خود شکایت کی بنیاد پرجانکاری لیتے ہوئے معاملہ کو سماعت کے لیے پیش کر سکتا ہے۔
22ستمبر2006کو سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے سابق پولس ڈائریکٹر جنرل پرکاش سنگھ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو پولس اصلاح میں تیزی لانے کا حکم دیا تھا۔ دراصل پولس ایکٹ میں اصلاح کے بغیر ہندوستانی پولس کا چہرہ بدل پانا آسان نہیں۔علاوہ ازیں یہ بھی ضروری ہے کہ پولس تربیت کے دوران انہیں اخلاقیات کا بھی سبق پڑھایا جائے۔ تقریباً12سال پہلے داخل اپنی مفاد عامہ پٹیشن میں پرکاش سنگھ نے مطالبہ کیا تھا کہ پولس اور سماج کے درمیان کی خلیج کو پاٹ کر پولس محکمہ کو عوام کے من مطابق بنایا جائے۔آج پولس انتظامیہ کو خود تجزیہ کی ضرورت ہے۔ پولس عوام کی عدالت کے کٹہرے میں اس بات کے لیے جوابدہ ہے کہ پولس کا فرض کیا ہے؟ عوام کی حفاظت کرنا یا ان پر ظلم و ستم کرنا ؟ اگر اس کا جواب عوام کی حفاظت کرنا ہے تو پھرعام آدمی کو کیوں اذیت پہنچائی جاتی ہے، آخر یہ سلسلہ کب تھمے گا؟

فردوس خان

فردوس خان صحافی، شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آپ نے دور درشن کیندر اور ملک کے معزز اخباروں اور رسالوں میں کئی سالوں تک اپنی صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو، دور درشن کیندر سے وقتاً فوقتاًآپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور نیوز چینل کے لئے اینکرنگ بھی کی ہے۔ملک اور بیرون ممالک کے مختلف اخباروں ، رسالوں اور جریدوں میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔آپ کی ایک تصنیف ’’گنگا جمنی سنسکرتی کے اگردوت‘‘ کے نام سے شائع ہو آ چکی ہے۔
Share Article

فردوس خان

فردوس خان صحافی، شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آپ نے دور درشن کیندر اور ملک کے معزز اخباروں اور رسالوں میں کئی سالوں تک اپنی صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو، دور درشن کیندر سے وقتاً فوقتاًآپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور نیوز چینل کے لئے اینکرنگ بھی کی ہے۔ملک اور بیرون ممالک کے مختلف اخباروں ، رسالوں اور جریدوں میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔آپ کی ایک تصنیف ’’گنگا جمنی سنسکرتی کے اگردوت‘‘ کے نام سے شائع ہو آ چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *