پیٹرول نے لگائی مہنگائی میں آگ

Share Article

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
مہنگائی۔۔۔۔۔ہائے مہنگائی۔۔۔۔۔۔ہر طرف ہا ہا کار مچی ہے۔ ایک بار پھر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ۔۔۔ایسا لگتا ہے گویا آسمان سے آگ کا ایک زبردست گولہ زمین کے سینے پر گرا ہو۔ ہماری مضبوط اقتصادی پالیسی اور مستحکم معا شی حالت کو کیا ہو گیا ہے؟ کیسے دن بہ دن مہنگا ئی وبائی امراض کی طرح بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مرکزی سر کار، ریزروبینک آف انڈیا اور سپریم کورٹ۔۔۔۔۔کیا سب بے بس ہیں۔ کیا سرکار مہنگائی روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی؟پچھلے جون 2010 سے اب تک تقریباً10بار پیٹرول کے دام بڑھائے گئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آ تا کہ آخر ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اس ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ پیٹرول واحد ایسا پرو ڈکٹ ہے جس کے دا موں میں ہو نے وا لا اضا فہ، بازار کو سیدھا متا ثر کرتا ہے۔ ایک زنجیر کی طرح، یکے بعد دیگرے پیٹرول کی قیمتوں کے اضافے سے پہلے نقل وحمل کے ذرا ئع یعنی کار، بس، ٹیمپو، موٹر سائیکل وغیرہ پر اثر پڑتا ہے۔ بسوں کے اور ٹیکسیوں کے کرا ئے میں اضا فہ ہو تا ہے، پھرمال بردار گاڑیوں کے کرائے بڑھتے ہیں۔جس سے بازار میں گھریلو ضروریات، پھل سبزی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ اور اس طرح جنگل کی آگ کی طرح ہر چیز مہنگائی نامی آگ کی لپٹوں میں گھر جاتی ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
جولائی2009
44.63روپے
فروری 2010
47.43 روپے
جون2010
51.43روپے
دسمبر2010
55.87 روپے
جنوری2011
58.37روپے
مئی 2011
63.37 روپے
ستمبر 2011
66.84روپے

آپ اندازہ لگا ئیے کہ کس رفتار سے پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحا شا اضا فے ہو رہے ہیں۔آج سے12سال قبل جب میں دہلی میں تھا تو ہمارے یہاں پیٹرول کی قیمت 30رو پے کے آس پاس تھی جب کہ سری لنکا میں قیمت50روپے تھی تو میں حیران تھا کہ سری لنکا میں مہنگا ئی کا کیا عالم ہو گا۔ لیکن میری اس حیرانی نے آج بالکل یو ٹرن لے لیا ہے۔ عالمی بازار میں پیٹرول کی سب سے زیادہ (تقریباً) ہندوستان میں قیمتیں ہیں۔
ایک نظر موجودہ پیٹرول کی قیمتوںکے اس ٹیبل پر ڈا لیے:
امریکہ    :    42.82    روپے
پاکستان    :    41.81    روپے
سری لنکا    :    50.30    روپے
بنگلہ دیش    :    44.80    روپے
نیپال    :    63.24    روپے
امریکہ کی بات چھوڑدیں کہ اس کی اقتصا دی حا لت بہت خراب ہو نے کے باوجود وہ مستحکم ہے۔ لیکن کیا ہندوستان کا حال اپنے پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا سے بھی خراب ہو گیا ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہم ہندو ستا نیوں کے لیے جہاں شرمناک ہے وہیں دعوتِ غور و فکر بھی دیتا ہے۔
اقتصا دیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضا فہ ہما ری مجبو ری ہے، کیوں کہ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمتوں میں اضا فہ ہمیں متا ثر کرتا ہے اور فی الحال بین الاقوامی قیمت110-111ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ سرکار نے پچھلے سال ہی تیل کی قیمتوں پر سے کنٹرول ہٹا لیا تھا۔ اب تیل کمپنیاں خود تیل کے دام بڑھا سکتی ہیں اور سرکاری منظوری کے بعد لاگو کر سکتی ہیں۔۔۔اور اس میں سرکاری تیل کمپنی’’انڈین آئل‘‘ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ پیٹرول اضافے پر انڈین آئل کمپنی کا خیال ہے کہ بین الاقوامی با زار میں کچے تیل کے داموں میں اضا فہ اور ڈالر کے مقابلے روپے کا مسلسل گرتا ہوا گراف قیمتوں میں اضافے کا سبب ہے اور تیل کمپنیوں کو2.61 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل کمپنیوں کو رو زانہ15کروڑ کا نقصان ہو رہا تھا۔ہمیں سب تسلیم ہے۔ اسباب و علل مدلل ہیں،لیکن کیا موجودہ قیمت میں بھی سرکاری سبسڈی پیٹرول میں شامل ہے؟ جی ہاں! یہ درست ہے کہ اب بھی سرکاری سبسڈی نہ صرف پیٹرول بلکہ کیرو سین تیل، گیس اور دیگر Bi-Products پر دی جارہی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے سرکار سبسڈی کو کم کرتی آ رہی ہے، جس کے سبب ہی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔اسے کانگریس کی بد قسمتی سمجھیں یا اقتصا دی سازش کہ حکو مت کے اخرا جات کو پو را کرنے کے لیے آمدنی کو بڑھانے کے عمل میں سبسڈی کم کرنا اور ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔ بظا ہر ایسا لگتا ہے کہ اس سے قبل کی حکومت میں تو یہ سب نہیں تھا۔ مہنگا ئی تھی، لیکن ایسی نا قابل برداشت نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معاشی حا لت کو مضبوطی عطا کرنے کے لیے حکومت GDRکو بڑھا نا چاہتی ہے اور اس نے ایسا کیا بھی۔ لیکن حیرا نی پڑوسی ممالک کے یہاں پیٹرول کی قیمتوں کو دیکھ کر ہو تی ہے تو اس سلسلے میں ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں نقصان کو سرکاری سبسڈی سے پو را کیا جارہاہے، اگر یہ سرکاریں بھی سبسڈی کو ختم کریں گی تو ان کے یہاں حا لات بہت خراب ہو ں گے۔
مہنگائی کے اصل سبب پر جب ہم نے غور کیا تو پتہ چلا کہ ہمارے یہاں ٹیکسوں کی شرح اور اقسام کا ہونا ہے۔ہمارے یہاں مختلف قسم کے ٹیکس وصولے جاتے ہیں۔ تو پتہ چلا کہ قیمتوں کے اضا فے سے سرکاری خزانے میں اضافہ ہو تا ہے۔ ٹیکسوں کی صورت میں ایک کثیر رقم سرکار کو حاصل ہو تی ہے، لیکن پھر بھی عام آدمی کی سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ آخر اتنا مضبوط ملک، بین الاقوامی مندی کے دور میں ثابت قدم رہنے وا لا ملک، اچانک اس قدر مہنگا ئی کی زد میں آ گیا ہے۔ یا پھر ہا تھی کے دانت کی طرح یہاں بھی دو طرح کی باتیں ہیں، دکھانے کی صورت الگ اور اصل صورت الگ؟ در اصل یہ سب ملک پر پڑنے والا اضافی بوجھ ہے جس کا سبب ہماری سیاست کا کرپشن ہے، آئے دن ہونے والے گھوٹالے، بدعنوانیاں اور لوٹ پاٹ ہے۔پہلے ہزا روں کروڑوں کے گھپلے تھے جو بڑھتے بڑھتے اب لاکھوں کروڑوں تک پہنچ گئے ہیں۔ کیا اب تک ظا ہر ہونے وا لے گھو ٹا لوں میں جو بد عنوانیاں ہو ئی ہیں، ہم نے کسی گھوٹالے کی تصدیق کے بعد Recovery کی کار روا ئی کی ہے؟ لالو پرساد یادو ہوں یا مدھو کوڑا، یدی یو رپا ہوں یا راجہ یا پھر ریڈی برا دران اور کلماڈی ہوں؟ ہم نے کسی سےRecovery  کی ہے؟ کیا ہو تا ہے ان مقدمات کا۔۔۔کتنے سالوں میں جاکر ان کے فیصلے ہوتے ہیں؟ عوام کو ان سب کی کوئی خبر نہیں ہو تی۔ سرکار پر لازم آ تا ہے کہ وہ ایسے معاملات کے تعلق سے ہر سال بجٹ سے پہلے واضح کرے اور بتائے کہ کس گھو ٹا لے کے مقدمے میں کیا ہوا اور کتنی مدت میں Recovery  کرلی جائے گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اپنی اقتصا دی صورت حال کو مضبوط کرنے کے لیے بہت سا ری سرکاری عیش پرستیوں پر روک لگانی ہوگی۔ایم پی، ایم ایل اے، وزراء سے لے کر سبھی سرکاری عہدیداران کی فضول خرچیوں کو کم کرنا ہوگا۔ اربوں رو پے کے کھیل ٹورنامنٹ اور دیگر بڑے انعقادات پر پانی کی طرح بہایا جانے والا بجٹ کم کرنا ہوگا۔ ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ لو گ کہتے ہیں کہ بھئی مہنگا ئی بڑھتی ہے تو مہنگا ئی بھتہ بھی بڑھتا ہے، اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا خیال ہے کہ ایک تو مہنگا ئی کے تناسب میں یہ اضا فہ نہیں ہو تا ہے۔دوسرے یہ اضافہ کتنے فی صد عوام کو ملتا ہے۔ صرف سرکاری اور نیم سر کاری ادا روں میں کام کرنے وا لوں کو یا پھر بڑی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے ملا زمین کو۔ عام طور پر رو زی روٹی کما نے وا لے، ٹھیلے والے، خوانچے والے، محنت مزدوری کرنے والے، پان بیڑی والے، سبزی والے، رکشہ وا لے، ان سب کو کون سا مہنگا ئی بھتہ ملتا ہے۔ ان کی مزدوری اور محنتانہ بڑھنے میں تو کئی سال لگ جاتے ہیں۔ ہندوستان میں آ بادی کے لحا ظ سے تو اب بھی یہ طبقہ بڑا ہے۔اس طبقے کے ہو نے وا لے نقصان کو کیا مہنگا ئی کی مار سے بچا یا جا سکتا ہے۔ اس وقت ہم سب کو مل کر مہنگا ئی کے راکشس سے لڑ نا ہوگا۔ مر کزی سرکار کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے تا کہ فی شخص آ مدنی سے فی شخص خرچ کو کم کیا جائے۔ اس کے لیے بار بار ہو نے وا لے انتخابات، پنچا یت سے لے کر پار لیمنٹ تک کے انتخابات کا بار بار ہو نا اور ان میں بے انتہا سرکاری پیسے کا خرچ، ان سب پر قا بو پا نے کے لیے ایک مضبوط و مستحکم وقت کا پا بند انتخا بی نظام لاگو کرنا ہوگا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہر طرح کے انتخابات ایک وقت پر ہوں؟ یہ مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں۔ایسے ہی دیگر شعبۂ حیات میں بھی ضروری اصلاح کر کے کسی طرح خرچ کو قابو میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے، تا کہ ہم ہندوستان کو معاشی طور پر مستحکم کرسکیں اور مہنگا ئی پر قابو پایا جا سکے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *