جیلوں میں اپنی آبادی سے زیادہ بندہیں اقلیتی برادری کے لوگ

Share Article
jail
دہلی اقلیتی کمیشن نے جمعہ کو منعقد پریس کانفرنس میں یہ مانا ہے کہ دہلی کی جیلوں میں اپنی آبادی سے زیادہ اقلیتی فرقہ کے لوگ بند ہیں۔ کمیشن نے اس سلسلے میں ایک اسٹڈی کرنے کا بھی فیصلہ لیا ہے کمیشن یہ پتہ لگانا چاہتا ہے کہ اقلیتی برادری کے لوگوں کی جیلوں میں تعداد زیادہ کیوں ہے؟۔ کانفرنس میں کمیشن کے صدر ظفر الاسلام خان رکن کرتار سنگھ کوچر سچن شمیم اختر نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔
ظفرالاسلام خان نے بتایا کہ گزشتہ دنوں کمیشن نے دہلی کی روہنی جیل کا دورہ کیا تھا ۔اس دوران جیلوں میں بند اقلیتی برادری کے کئی قیدیوں سے کمیشن نے بات چیت کی تھی ۔وہاں انہیں ہو رہی مشکلات کا جائزہ لیا تھا۔ خان نے بتایا کہ کئی قیدیوں نے جیلوں میں ان کے ساتھ ہو رہے برے برتاؤ کے بارے میں بتایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جیل کے دورے کے دوران ہم نے دیکھا کہ بڑی تعداد میں اقلیتی برادری کے لوگ وہاں پر بند ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دہلی میں اقلیتی برادری کی کل آبادی 20 سے 22 فیصد ہے لیکن جیل میں یہ آبادی 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی لیے ہم نے دہلی کی اور بھی جیلوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ایک اسٹڈی کرانے کا فیصلہ لیا ہے۔ جلد کمیشن اس سلسلے میں کسی تنظیم کو کام سونپ دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ 17 دسمبر کے نئی دہلی کے وگیان بھون میں کمیشن اپنا سالانہ کانفرنس منعقد کرنے جا رہا ہے جس میں کمیشن کی سالانہ رپورٹ اور دہلی میں مسلمانوں کے قبرستان سے متعلق رپورٹ اور عیسائیوں کے قبرستان سے متعلق رپورٹ بھی عام کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کمیشن دہلی میں اقلیتوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے کام کرنے والے مختلف تنظیموں کے افراد کو انعاما ت سے بھی سر فراز کرے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *