سنتوش بھارتیہ 
نریندر یندر مودی کی جیت نے سنگھ اور بی جے پی میں ایک خاموشی پیدا کر دی ہے۔ سنگھ کے اہم لوگ اب اس رائے کے بننے لگے ہیں کہ نریندر مودی کو ملک کے لیڈر کی شکل میں لانا چاہیے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اس سوچ سے متفق نہیں ہیں۔ بی جے پی کے تقریباًسبھی لیڈروں کا ماننا ہے کہ نریندر مودی کو ملک کے اگلے وزیر اعظم کے طور پر پیش کرتے ہی ملک کے 80 فیصد لوگ بی جے پی کے خلاف ہو جائیں گے، کیونکہ مودی کی سوچ سے ملک کے 16 فیصد مسلمان اور تقریباً 80 فیصد ہندو متفق نہیں ہیں۔ بی جے پی کے سبھی لیڈروں کے اس اندازہ کے پیچھے کون سے اسباب ہیں، یہ تو وہی جانیں، لیکن ان کااندازہ غلط نہیں دکھائی دیتا۔
میری بی جے پی کے جتنے بھی لیڈروں سے پچھلے ایک مہینے میں بات چیت ہوئی، ان سبھی نے مجھے ذاتی طور پر کہا کہ بی جے پی کو اپنے بارے میں کافی سخت فیصلے لینے ہوں گے۔ یہ سخت فیصلے اس لیے ضروری ہیں، کیونکہ ملک کے لوگوں کو یہ بھروسہ نہیں ہو پا رہا ہے کہ بی جے پی کانگریس کا بہتر متبادل بن سکتی ہے۔ بہتر متبادل لوگوں کو دکھائی دینے لگتا ہے۔ جن لیڈروں سے میری بات ہوئی، وہ سبھی بی جے پی کی اگلی صف کے لیڈر ہیں اور کسی کی بھی سمجھ پر شک نہیں کیا جاسکتا۔
دراصل، بھارتیہ جنتا پارٹی لوگوں سے اتنی ہی کٹ گئی ہے، جتنی کہ کانگریس پارٹی۔ چالیں بی جے پی چلتی ہے، لیکن فائدہ کانگریس کو ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جب ووٹ کرانے کے تحت پارلیمنٹ میں چلنے کی حکمت عملی پر بی جے پی نے کام کیا تو اسے لگا کہ ہر غیر کانگریسی پارٹی کی مجبوری ہو گی، اسے ووٹ دینا اور اس کے ساتھ کھڑے ہونا۔ اس لیے سشما سوراج نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ مایا وتی، ملائم سنگھ سمیت باقی پارٹیوں سے رابطہ نہیں کیا۔ یہ کیسا مذاق ہے کہ بنا ہوم ورک کیے پارلیمنٹ میں ووٹ کرا دینا اور اس میں ہار جانا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ فلور کو آر ڈی نیشن کا بنیادی اصول بھی بی جے پی بھول گئی ہے۔ اگر بی جے پی کسی بھی حوالے سے کرونا ندھی، ملائم سنگھ اور مایا وتی سے بات کر لیتی تو اسے شرمناک صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور نہ یہ بیان دینا پڑتا کہ اس کی اخلاقی جیت ہوئی ہے۔

سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کو دہلی گینگ ریپ کانڈ کے بعد اس پر بات کرنے کا من پسند موضوع مل گیا ہے۔ وہ لڑکیوں کے کپڑوں پر، ان کے دوپٹے پر، بال بنانے کے طریقے پر اور بولنے کے انداز پر بھی تبصرہ کر رہے ہیں۔ دراصل، تبصرہ کرنے والے لیڈر ہندوستان کو 18 ویں صدی کی دنیا میں لے جانا چاہتے ہیں، لیکن وہ دنیا 18 ویں صدی کے ہندوستان کی دنیا نہیں تھی، وہ ہندوستان کے باہر کی دنیا تھی۔ ہندوستان کی تہذیب، ہندوستان کے خوابوں اور ہندوستان کے لڑنے کی صلاحیت کو یہ لوگ کند کر دینا چاہتے ہیں۔ اس کا کتنا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملے گا، پتہ نہیں، لیکن اس کا نقصان بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہت زیادہ ہوگا، ایسا اس کے خیر خواہوں کا ماننا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ ملائم سنگھ اور مایاوتی دونوں کانگریس کے رویے سے آج مایوس ہیں۔ دونوں نے اپنے اپنے ساتھ ہوئی شرطوں پر عمل نہ کرنے کا الزام کانگریس پارٹی پرلگایا ہے، لیکن یہ ان کا اپنا مسئلہ ہے۔ بی جے پی کے حامیوں کو لگتا ہے کہ پارٹی لگاتار غلطی پر غلطی کیے جا رہی ہے۔ اب تقریباً یہ صاف ہوتا جا رہا ہے کہ نتن گڈ کری بی جے پی کے دوبارہ صدر بنیں گے۔ سنگھ بی جے پی کو دوبارہ ہار کا خطرہ اٹھا کر بھی دہلی میں رہنے والے اڈوانی، ارون جیٹلی، سشما سوراج یا پھر راج ناتھ سنگھ یا اننت کمار کو صدر نہیں بنانے جا رہا۔ بی جے پی کے خیر خواہوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی کے ذریعے کی جا رہی غلطیاں اور دوسری طرف سنگھ کا یہ رویہ بی جے پی کے لیے مستقبل کے دروازے بند کر رہا ہے۔ بی جے پی کے لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو راج ناتھ سنگھ کو ہی بی جے پی کا صدر بنایا جائے، تاکہ کم سے کم کانگریس سے لڑائی کا ماحول تو بنے۔ ابھی تو بی جے پی لوک سبھا کی لڑائی میں کہاں ہے، یہ کسی کو پتہ ہی نہیں چل پارہا۔
بی جے پی کے خلاف ایک اور دلیل پچھلے دنوں طلبا – نوجوان تحریک کے دوران دیکھنے کو ملی۔ لوگوں کا پوچھنا ہے کہ کیوں بی جے پی اس تحریک میں کہیں دکھائی نہیں دی یا پھر اس نے کیوں الگ سے نوجوانوں کا ساتھ نہیں لیا۔ ضروری نہیں تھا کہ وہ اس تحریک کے آگے اپنا بینر لے کر چلتی، کیوں کہ اسے طلبا اور نوجوان پسند ہی نہیں کرتے اور نہ اجازت دیتے، پر الگ سے تو احتجاجی مظاہرے کیے ہی جا سکتے تھے۔ تقریباً پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، اس کے بعد بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی نیند نہیں کھلی۔ اس کے لیڈروں نے صرف اور صرف اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ٹیلی ویژن اسٹیٹمنٹ دیے۔ یہ پتہ چل گیا کہ اس مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس سے بہت دور نہیں کھڑی ہے۔ اسی لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جو دونوں قدم اٹھائے، ان کا فائدہ کانگریس کو ہوا۔ یہی بڑی عجیب چیز ہے کہ یہ کیسی پارٹی کی سوچ ہے، جو اپنے آپ کو سیاست کی بساط پر ہمیشہ ہار کا منھ دکھاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے کارکنوں کی رائے زیادہ نہیں سنتی۔
اس صورتِ حال میں جسونت سنگھ اور شتروگھن سنہا جیسے لوگ کیا کریں گے، پتہ نہیں۔ یہ لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی میں اب سوال اٹھانا بند کر دیں گے اور جو تھوڑی بہت سرگرمی یہ دکھا رہے تھے، اس سرگرمی کو بھی ختم کر دیں گے۔ حالانکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اثر و رسوخ والے حلقے پر ان کے سست پڑنے سے بہت فرق نہیں پڑے گا، لیکن جس حالت میں بی جے پی پہنچ گئی ہے، اس میں اگر یہ بیماری بڑھ گئی تو اسے اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ان مسائل کو سمجھتی نہیں ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن ان مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے وہ ہم جیسے لوگوں سے بھی مل کر اپنی پریشانیاں اور اپنی افسردگی بانٹتے ہیں۔
سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کو دہلی گینگ ریپ کانڈ کے بعد اس پر بات کرنے کا من پسند موضوع مل گیا ہے۔ وہ لڑکیوں کے کپڑوں پر، ان کے دوپٹے پر، بال بنانے کے طریقے پر اور بولنے کے انداز پر بھی تبصرہ کر رہے ہیں۔ دراصل، تبصرہ کرنے والے لیڈر ہندوستان کو 18 ویں صدی کی دنیا میں لے جانا چاہتے ہیں، لیکن وہ دنیا 18 ویں صدی کے ہندوستان کی دنیا نہیں تھی، وہ ہندوستان کے باہر کی دنیا تھی۔ ہندوستان کی تہذیب، ہندوستان کے خوابوں اور ہندوستان کے لڑنے کی صلاحیت کو یہ لوگ کند کر دینا چاہتے ہیں۔ اس کا کتنا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملے گا، پتہ نہیں، لیکن اس کا نقصان بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہت زیادہ ہوگا، ایسا اس کے خیر خواہوں کا ماننا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے کارکنوں، اپنے خیر خواہوں کی باتوں کو سنے اور خود کو آنے والے عام انتخابات میں کانگریس کے مقابلے بہتر متبادل کے لیے تیار کرے، اتنی خواہش ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here