!پر امن انقلاب کی جے ہو

ڈاکٹر اصغر علی انجینئر
مصر اور تیونس کے حالیہ واقعات خوشگوار حیرت کے طور پر سامنے آئے۔شاید ہی کسی کو یہ امید رہی ہوگی کہ ان ممالک میں اچانک عوامی غصہ پھوٹ پڑے گا، لیکن زمینی حقیقت سے خود کو وابستہ رکھنے والوں کے لیے ان دونوں ممالک میںہوئیعوامی مظاہرے غیر متوقع نہیں تھے۔دنیا کے بہت سے دانشور اور مبصرین ،اسلام کو جمہوریت کا مخالف اور تا ناشوں کی حمایت کرنے والا مذہب بتا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا کے تاناشاہوں کی حمایت مغربی ممالک نے اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے کی اور اب بھی کر رہے ہیں۔جب قاہرہ کی سڑکوں پر حسنی مبارک کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے لاکھوں لوگ سر پر کفن باندھ کر نکل پڑے تو مغربی ممالک اور ا ن کے پٹھو حیرت زدہ رہ گئے۔اب اسرائیل چاہتا ہے کہ مصر میں جمہوریت کا آغاز نہ ہو سکے کیونکہ اس کے مطابق، جمہوریت کا مطلب ہوگا اسلامک برادر ہڈ(مسلم اتحاد اور بھائی چارہ)کی جیت۔ اس سے پہلے جب فلسطین میں جمہوری انتخابات کے ذریعہ حماس پارٹی اقتدار میں آئی تھی تب اسرائیل اور امریکہ نے حماس کی حکومت کومنظوری دینے سے انکار کر دیاتھا۔یہ ہے امریکہ اور اسرائیل کی جمہوریت کے تئیں ایمانداری کے نمونے۔ کوئی مذہب جمہوریت مخالف یا جمہوریت حامی نہیں ہوتا ۔مذہب کا واسطہ اخلاق، روحانی اور خدا سے متعلق مسائل سے ہے۔جو لوگ مذہب کو سیاست سے جوڑتے ہیں،وہ اپنے مفاد کی حصولیابی کے لیے ایسا کرتے ہیں۔قرآن یہ کہیں نہیں کہتا کہ مذہب اور سیاست کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ویسے بھی سیاست قرآن کا موضوع نہیں ہے۔ اسلام جمہوریت کا اتنا ہی حامی یا مخالف ہے جتنا کہ کوئی دیگر مذہب۔ اسلا م کے جمہوریت مخالف ہونے کا پروپیگنڈہ مغربی سیاست داں اور میڈیا کرتے آرہے ہیں۔
جب بھی کسی مسلم ملک میں جمہوریت کے آنے کی امیدیں نظر آتی ہیں،امریکہ فوراً وہاں کے تاناشاہوں کی حمایت میں سرگرم ہو جاتا ہے۔انڈونیشیا سے لیکر عرب ممالک تک،امریکہ یہی کرتا رہا ہے۔امریکہ ایک طرف تاناشاہوں کا ساتھ دیتا ہے تو دوسری طرف اسلام کو جمہوریت مخالف بتاتا ہے۔مصر میں حسنی مبارک کی تاناشاہی کو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل تھی۔جب اوبامہ کو محسوس ہوا کہ حسنی مبارک نے عوام کا بھروسہ پوری طرح کھو دیا ہے تب انہوں نے مبارک کوبالواسطہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑنے کی صلاح دینی شروع کردی،لیکن یہ یقینی ہے کہ امریکہ پوری کوشش کریگا کہ مصر میں جو بھی اقتدار میں آئے وہ امریکہ او ر اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرے۔مصر میں کسی ایسے آدمی کے لیے عوام کا بھروسہ حاصل کرنا مشکل ہوگا جو مبارک کی طرح امریکی مفادات کا پہریدار ہو ۔
عرب ممالک میں تبدیلی کی ایک نئی لہر چل رہی ہے۔ اسامہ بن لادن کی قیادت میں مٹھی بھر نوجوانوں نے امریکہ اور اسرائیل کے تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی کوشش کی، لیکن اس کے خطرناک نتائج سامنے آئے۔عرب کے نوجوانوں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ تشدد کے راستے پر چل کر وہ اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکیں گے۔پرامن،جمہوری تحریک ہی دوررس اور مستقل حل لا سکتی ہے۔
مصراور تیونس کے واقعات نے کئی عرب ممالک کو خوف زدہ کر دیا ہے۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے اعلان کردیا ہے کہ 2013میں ان کے دور اقتدار کے مدت کے خاتمے کے بعد اقتدار میں برقراررہنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تیونس ، مصر اور یمن میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔ تینوں ہی ممالک غریب ہیں اور تینوں میں ہی بیروزگار نوجوانوں کی بڑی فوج ہے۔ امیر عرب ممالک کے نوجوان، غریبی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نہیں جوجھ رہے ہیںاور اس وجہ سے تیونس، مصر اور یمن جیسے عوامی احتجاج کی امید کم ہی ہے۔
جہاں یہ صحیح ہے کہ تیل برآمدکرنے والے امیر ممالک کے لوگوں کو مالی مشکلات سے دو چار نہیں ہونا پڑ رہا ہے وہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ مصر کے حالات کا اثر ان ممالک کی سیاسی تہذیب پر پڑے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ دیر سویر سبھی عرب ممالک اس سے متاثر ہوں گے۔ ان سبھی ممالک میں امریکہ کے حمایت یافتہ تاناشاہ راج کرر ہے ہیں۔
ان ممالک کے بادشاہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح سے امریکہ پر منحصر ہیں اور امریکہ ان کا استعمال اپنے اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے ذریعہ فلسطینیوں پر کئے جارہے غیر انسانی برتاؤ کو یہ ممالک چپ چاپ دیکھتے رہتے ہیں۔ ان میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک لفظ تک بولنے کی ہمت نہیں ہے۔ ان ممالک کے عوام اپنے بادشاہوں کی اس بز دلی سے ناراض ضرور ہیں لیکن جمہوریت کی کمی کی وجہ سے وہ اپنی ناراضگی درج نہیں کرا پاتے ہیں۔ کسی بھی طرح کی مخالفت کو ان ممالک میں بے دردی کے ساتھ کچل دیا جاتا ہے۔ حسنی مبارک بھی اپنے مخالفین کو شدیدجسمانی اذیت دینے کے لیے بدنام تھا۔
عرب ممالک کے سربراہوں، بادشاہوں، شیخوں اور تاناشاہوں کی غیر مقبولیت کی اہم وجہ ہے فلسطینی مسئلہ کے تئیں ان کا رویہ۔ یہ سبھی اسرائیل کو امریکی حمایت کے مسئلے پر مستقل خاموشی اختیار کرتے ہیں اور ان کی یہ پالیسی ان ممالک کے باشندوں کو قطعی راس نہیں آتی ہے۔ مصر کا حالیہ انقلاب فلسطین کے موضوع پر نہیں آیا بلکہ وہاں کے عوام حسنی مبارک سے پریشان تھے۔
اس سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ مبارک کی حکومت نے اسرائیل کو غزہ پٹی کی گھیرا بندی کرنے میں ہمیشہ پوری مدد کی۔ اس گھیرا بندی سے فلسطینیوں کا جینا مشکل ہو گیا۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے  کہ مصر کے انقلاب کا کوئی ایک لیڈر نہیں تھا۔ یہ صحیح معنوں میں عوامی انقلاب تھا۔ کسی ایک لیڈر نے عوام سے بغاوت کا علم اٹھانے کی اپیل نہیں کی تھی اور نہ ہی عوام کے غصہ کو پرامن بغاوت کی سمت دینے کے لیے کوئی کرشمائی لیڈر سامنے آیاتھا۔ ایک مقبول عام لیڈر کی کمی کے باوجود مصر کا انقلاب پر امن اورمنظم بنا رہا۔کچھ مقامات پر معمولی تشدد ، آگ زنی اور لوٹ مار کے واقعات ضرور ہوئے لیکن یہ کم ہی ہوئے۔ یہ بغاوت عام لوگوں کی پہل پر عام لوگوں نے کی۔ یہ بہت ہی تعجب کی بات ہے کہ جس ملک میں کئی دہائیوں سے جمہوریت نہیں تھی،وہاں کے عوام نے بیحد منظم طریقے سے تحریک چلائی۔ جمہوری ممالک میں بھی تحریکیں اکثر تشدد کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
مصر کے واقعات سے ایک بارپھر یہ ثابت ہو گیاہے کہ عرب ممالک کے باشندے منظم طریقے سے پر امن جمہوری تحریک چلانے کے اہل ہیںاور یہ بھی کہ مسلمانوں میں جمہوریت کے تئیں لگاؤ ہے۔اس سے اس مغربی پروپیگنڈے کی نفی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا مزاج جمہوریت سے میل نہیں کھاتاہے۔
مصر کے حالیہ واقعات ، انڈونیشیا کے حالیہ واقعات سے کافی ملتے جلتے ہیں۔ انڈونیشیا کے تاناشاہ سہارتو کئی دہائیوں تک امریکہ کی حمایت سے اپنے ملک پر راج کرتے رہے۔ جیسے ہی امریکہ نے سہارتو کو حمایت دینی بند کی ، ان کی حکومت گر گئی اور بغیر کسی مسئلے کے انڈونیشیا میں جمہوریت کا آغاز ہو گیا۔ آج انڈونیشیا جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک ہے، میں جمہوریت پھل پھول رہی ہے۔ وہاں مستقل مزاجی کے ساتھ انتخابات ہوتے ہیں۔ مصر ، تیونس، یمن،انڈونیشیا وغیرہ کامسئلۂ فلسطین اور خام تیل کے وسائل سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اس کے بر خلاف عرب ممالک کے تاناشاہ امریکہ کو کہیں زیادہ عزیز ہیں۔ اس کی وجہ ہے خام تیل کے ذخائر اور اسرائیل۔ امریکہ کے کارخانے اور کاریں چلتی رہیں اس کے لیے تیل ضروری ہے اور عرب ممالک امریکہ کے قابو میں رہیں اس کے لیے اسرائیل کی ضرورت ہے۔
اس لیے یہ واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ کے معاملے میں،امریکہ اس طرح غیر جانب دار نہیں رہے گا جیسا کہ اس نے انڈونیشیا کے بارے میں کیا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سیاسی اور اقتصادی مفادات ہیں۔جن کا وہ ہر قیمت پر تحفظ کرنے کی کوشش کرے گا۔امریکہ کی پہلی کوشش تو یہی ہوگی کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اس کی کٹھ پتلی حکومتیں قائم رہیں۔اگر ایسا نہ بھی ہو سکا تو امریکہ کم سے کم اتنا تو چاہے گا کہ وہاں جو بھی اقتدار میں ہوں وہ مغربی ممالک سے اچھے تعلقات رکھیں۔
بہر حال مصر کے لوگوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اپنی تین ہفتے لمبی کامیاب تحریک کے ذریعہ انہوں نے جتا دیا ہے کہ وہ جمہوریت اور عدم تشدد کے پجاری ہیں اور وہ عدم تشدد کے راستے پر چل کر تبدیلی لانے کے اہل ہیں۔مہاتما گاندھی جیسا کوئی لیڈر مصر میں نہیں تھا لیکن پھر بھی وہاں کے عوام عدم تشدد کے راستے سے نہیں بھٹکے۔مصر کے عوام نے یہ دکھا دیا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں اور اس مفروضے کو توڑ دیا کہ مسلمان ایک متشدد قوم ہے اور انہیں جمہوریت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ا س سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ پر امن تحریک سے بہت کم وقت میں جو حاصل کیا جاسکتا ہے وہ دہائیوں کی پر تشدد لڑائی سے بھی نہیں مل سکتا۔عدم تشدد زندہ باد!پرامن انقلاب کی جے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *