کشمیر میں امن صرف وقار کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے

Share Article

2016 میںیہ خدشہ تھا کہ 2017 بھی کشمیر کے لیے المناک سال ہوگا۔ 2016 میں کشمیر چھ مہینے تک ایک بے مثال بدامنی سے گھرا ہوا تھا۔ آزادی کا نعرہ، گولی باری ، پیلیٹ گن کے ساتھ شہری ہلاکتوں کے چکر میں کشمیر کی زندگی الجھ کر رہ گئی تھی۔ 2017 بھی اس کے لیے المناک ہی ثابت ہوا۔ مقامی نوجوان بندوق کے ساتھ رومانس میںپھنستے ہوئے ملی ٹینٹ سے جڑتے چلے گئے۔
بندوق کے ساتھ رومانس کی تازہ ترین مثال فردین کھانڈے کی ہے۔ کھانڈے جنوبی کشمیر کے ترا ل کا ایک 16سالہ لڑکا، جس نے سال کے آخری دن سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کیمپ پر فدائین حملے میں خود کو ختم کرلیا۔ دہشت گردی کے ساتھ اپنی 10 مہینے کی لڑائی اس نے اس طرح ختم کرلی۔ یہ حملہ اونتی پورہ میںہوا تھا۔ کھانڈے اور اس کے ساتھی ، منظور بابا اور عبدالشکور، جو پی او کے سے تھے، سمیت ایک کشمیری مسلم اور پانچ سی آر پی ایف جوانوںکی اس حملے میںموت ہوگئی۔ یہ حملہ یہ بتاتا ہے کہ کئی ایسے لوگ ابھی بھی سیاسی لڑائی کے حل کے روپ میںتشدد کو راستہ مانتے ہیں ۔ اس واقعہ کے ساتھ ہم 2018 میںآگئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

خونریزی
2017 امید و ناامیدی کا مرکب تھا۔ ہلاکتوں نے اخباروں کی سرخیوں پر دبدبہ بنائے رکھا۔ ہند مخالف مظاہروں کے دوران یا ’کراس فائر‘ میںآنے کی وجہ سے افواج کے ذریعہ مارے جانے والے شہریوں کے علاوہ بڑی تعداد میں دہشت گردوں اور سرکاری فورسیز کو اپنی جان گنوانی پڑی۔
جموں و کشمیر کی کولیشن آف سول سوسائٹی کی سالانہ انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق، 2017 میں جموں و کشمیر میں450 لوگوں (124 مسلح فورسیز، 217 دہشت گرد، 108 شہری اور ایک اخوانی یعنی سرکار حامی دہشت گرد) کی موت ہوئی۔ حالیہ دنوںمیں اس سال یہ ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد رہی۔ اہم بات یہ ہے کہ ہلاکتوں (سیکورٹی فورسیز بنام دہشت گرد) کا تناسب 2:1 تھا۔ اس سے سیکورٹی فورسیز کے لیے مرنے والوں کی تعداد میںاضافے کا اشارہ ملتا ہے کیونکہ یہ تناسب 2017 میں نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ کہنا مشکل ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کا کردار بدلا ہے یا نہیں، لیکن یہ سچ ہے کہ نوجوان کشمیری جو ان رینکوں میںشامل ہور ہے ہیں، وہ اپنی موت کو لے کر کمیٹیڈ ہیں۔
غیر ملکی انتہا پسندوں کی تعداد میںکمی نہیں ہوئی حالانکہ مقامی لوگ بھی اب زیادہ تعداد میں ملی ٹینسی جوائن کررہے ہیں۔ کشمیر کو لے کر لشکر طیبہ اور جیش محمد کے فوکس کے بیچ حزب المجاہدین کی موجودگی بھی بڑھی۔ 2016 میں برہان وانی کے قتل کے بعد اس کا اثر اور بڑھا۔ برہان کی پوسٹر بوائے کی شبیہ نے کشمیر کو نئی عمر کے لڑکوں کو ملی ٹینسی کی طرف راغب کیا۔
فردین کھانڈے کی کہانی اس’’فخر‘‘ کے چاروں جانب گھومتی ہے، جو مسلح لڑائی کو واپس لایا ہے۔ نوجوان دہشت گردوں کے پیچھے اکٹھے ہونے والے ہزاروں لوگ اور سماج اب کھلے عام تشدد کے راستے کو منظوری دے رہے ہیں۔ جنوبی کشمیر کا ایک نوجوان فٹ بالر ماجد استثنا تھاتھا،جو اپنی ماں کی اپیل پر گھر لوٹ آیا تھا۔
مقامی دہشت گردی کا ایک نیا پہلو فردین جیسے لڑکوں کے ساتھ ابھرا ہے۔ فردین نے اپنی مرضی سے فدائین بننے کا متبادل چنا۔ ماضی میں اس طرح کے حملے میںمقامی کشمیری لوگوںکی کم حصہ داری رہی ہے۔ حالانکہ 17 سالہ آفاق نے 19 اپریل 2001 میںسری نگر کے 15 کور ہیڈ کوارٹر میں ایک دھماکہ خیز مادے سے بھری ہوئی کار گھسا دی تھی اور خود کو اڑا لیا تھا۔ 2017 میںبھی دہشت گردوں نے خود کش حملوںکے لیے چار ہدف چنے تھے، یہ ایک بڑی تعداد رہی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ردعمل
سرکار نے اپنے ’آپریشن آل آؤٹ‘ کو لے کر دعویٰ کیا لیکن اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کے بدلتے رنگ کی وجہ سے ریکارڈ تعداد میںسیکورٹی فورسیز کے جوان بھی ہلاک ہوئے۔ دہشت گردوں کی ہٹ اینڈ رن پالیسی نے فوج کو نقصان پہنچایالیکن لوگوں کی سخت مزاحمت کے باوجود سرکارکی پالیسی سخت تھی۔
مایوسی سیاست کے اٹل عزم پر چھائی رہی۔ دیر سے ہی سہی، نئی دہلی کو احساس ہوا کہ اکیلے سخت پالیسی سے کشمیر کو بدلنے میںمدد نہیںملے گی۔ سرکار نے انٹیلی جنس بیورو کے ایک سابق ڈائریکٹر دنیشور شرما کو مذاکرات کار کے طور پر مقرر کیا۔ ان کی تقرری نے بی جے پی کے اس رخ کو جھٹلایا کہ کشمیر ایک سیاسی مدعا نہیں ہے اور صرف فوجی حل کی ضرورت ہے۔ لیکن تین مہینے ہونے کو ہیں اور مذاکرات کار ابھی بھی کوئی خاص فرق لانے میںناکام رہے ہیں کیونکہ وہ ان لوگوںتک نہیںپہنچ سکے ہیں جو سیاسی عدم اطمینان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر اگر دہلی انکار کے موڈ میںرہتی ہے تو ا من ایک بھرم ہی بنا رہے گا۔ کشمیر مسئلہ کے سیاسی طول و عرض ہیں۔
اگر شرما مسئلے کو سیاسی طور پر دیکھنے میں کچھ سنجیدگی دکھاتے ہیںاور ان کی بات سنتے ہیں جو سخت قوانین اور استحصالی قدموںکے خلاف بولتے ہیں تو بات چیت کے لیے کچھ جگہ بنائی جاسکتی ہے۔ لیکن تب یہ ذمہ داری کشمیر کی سیاسی قیادت پر بھی ہے۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر کوئی دیگر بات چیت کشمیر میںکامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔ وہ ضمنی اور غیر ضمنی عمل ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیںہے کہ کشمیری قیادت کو آزادانہ طور پر سوچنا بند کردینا چاہیے۔
2018 میں بھی تشدد سرخیوں میںرہے گا کیونکہ لوگوںکو اس کی مذمت کرنے کی کوئی وجہ نہیں دی گئی ہے۔ کشمیر میںایک عام آدمی 2018 کو امید کے ساتھ دیکھنا چاہے گا۔ یہ امید صرف بات چیت کے وعدے، گھیرا بندی کا خاتمہ، بہتر حکومت اور متاثرین کے لیے انصاف کے ذریعہ آسکتی ہے۔ کشمیر کو وقار چاہیے۔ سیاسی پارٹیوںنے بدقسمتی سے انھیںتوپ کے چارے میںبدل دیا ہے۔ اس بیچ 2 جنوری کو ریاستی اسمبلی سیشن کے دوران گورنر این این ووہرا نے بتایا کہ ساری خبریں بری نہیںرہیں۔ 2017 میں 12 لاکھ سیاحوں نے وادی کشمیر کا دورہ کیا۔ اگر امن یقینی بنانے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے تو وادی کے لوگوںکو فائدہ ہوگا اور ان کی زندگی بہتر بنے گی۔ لیکن امن صرف وقار کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 2018 کے لیے یہی چیلنج ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *