کشمیر میں پی ڈی پی کو لگا جھٹکا 

Share Article

سرینگر/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) کو آج اُس وقت ایک زبردست جھٹکا لگا ، جب پارٹی کے دو سینئر لیڈروں اور سابق ممبران اسمبلی نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ سید بشارت بخاری اور پیر محمد حسین دونوں پارٹی سینئر اور اہم لیڈروں میں شمار کئے جاتے تھے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو سمیت چار سابق ممبران اسمبلی اور سینئر لیڈر پی ڈی پی چھوڑ چکے ہیں۔ڈاکٹر حسیب درابو نے کوئی دوسری پارٹی جوائن تو نہیں کرلی ہے لیکن دیگر تین سابق ممبران اسمبلی جن میں محمد عباس وانی ، عمران رضا انصاری اور عابد انصاری شامل ہیں ، نے سجاد لون کی پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔آج سید بشارت بخاری اور پیر محمد حسین کی جانب سے پارٹی چھوڑنے کے فیصلے کو پی ڈی پی کے لئے ایک بڑا جھٹکا تصور کیا جاتا ہے۔ بشارت بخاری نے صاف طور پر پارٹی چھوڑنے کی وجہ نہیں بتائی تاہم پیر محمد حسین نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت کے بعد صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اُن وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ، جو اس نے 2014ء کے اسمبلی انتخابات کے لئے لوگوں سے ووٹ مانگتے ہوئے کئے تھے ۔ انہوں نے کہا، پی ڈی پی نے یہ کہہ کر لوگوں سے ووٹ مانگے تھے کہ وہ بی جے پی کو ریاست سے دور رکھے گی ۔لیکن جب لوگوں نے پی ڈی پی کو ووٹ دیا اور یہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تو اس نے اپنے وعدے فراموش کرکے بی جے پی کے ساتھ ہی اتحاد کرلیا ۔
قابل ذکر ہے کہ 2014ء کے انتخابات کے نتیجے میں پی ڈی پی سب سے بڑی پارٹی کے بطور ابھری تھی ۔ اسے 87ممبران پر مشتمل اسمبلی میں 28سیٹیں ملی تھیں۔دوسرے نمبر پر بی جے پی تھی ، جسے 25سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ دونوں پارٹیوں نے مخلوط سرکار قائم کرلی ،جو ناکام ثابت ہوگئی ۔بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے پر وادی میں پی ڈی پی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی اور اب اسکے اہم لیڈروں کا پارٹی چھوڑنا اسکے زوال کا اشارہ سمجھا جارہا ہے۔(ہارون ریشی )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *