دنکر کمار
ممنوعہ تنظیم الفا اور مرکزی حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے لیے مثبت ماحول تیار ہو رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ تمام طرح کی بے یقینی، پریشانی، سست روی اور قانونی اڑچنوں کے باوجود 2011میں ہونے والے آسام اسمبلی کے انتخابات سے قبل الفا اور حکومت کی بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی اقتدار میں واپسی، مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی خصوصی تیاری اور بنگلہ دیش میں رہنے والے الفا لیڈروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے سبب ان کی آسام آمد کے بعد اشارہ ملنے لگا تھا کہ الفا اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ گزشتہ مہینے آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی نے کہا کہ بنگلہ دیش میں رہنے والے الفا کے زیادہ ترلیڈر آسام لوٹ چکے ہیں اور آسام حکومت میانمار میں رہنے والے الفا کیڈروں اور لیڈروں کو سیف پیسیج دینے کے لیے تیار ہے۔ گوگوئی نے کہا کہ اگر الفا یا این ڈی ایف بی کے 80فیصد ممبران امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں تو ہمیں پریش بروا یا رنجن دیماری کی قبولیت کے انتظار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ امن مذاکرات کے لیے شرط رکھ چکے ہیں کہ عسکریت پسندوں کو تشدد چھوڑنا ہوگا، ہتھیار ڈالنے ہوںگے اور خودمختاری کا مطالبہ ترک کرنا ہوگا۔
میڈیا کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ پریش بروا کے علاوہ الفا کے زیادہ تر لیڈر گرفتار ہوچکے ہیں یا ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ کچھ لیڈروں کو سیف پیسیج دیا گیا ہے۔ بھیم کانت بوڑھاگوہائیں، پردیپ گوگوئی، متھنگا دیماری اور راجو بروا وغیرہ لیڈروں کو ضمانت پر رہاکر دیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لیے موزوں ماحول تیار کرنے کی کوشش جاری ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومت الفا کے فوجی سربراہ پریش بروا کے علاوہ باقی تمام لیڈروں کو امن مذاکرات کے لیے راضی کر چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مختاری کا مطالبہ چھوڑنے کے لیے الفا کے لیڈر متفق ہوچکے ہیں۔ اپنے 9سال کے دور اقتدار میں وزیراعلیٰ ترون گوگوئی نے امن کا عمل شروع کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اسمبلی انتخابات سامنے دیکھ کر وہ اس کے لیے سرگرم ہوئے ہیں۔ ان کے سیاسی مخالفین کہتے ہیں کہ انتخابی فائدے کو ذہن میں رکھ کر ہی گوگوئی حکومت اس مسئلے پر سنجیدگی دکھا رہی ہے۔
جیل سے رہا ہونے کے بعد الفا کے مشیر 84سالہ بھیم کانت بوڑھاگوہائیں نے الفا کے صدر اروندر راج کھووا سمیت تمام لیڈروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ تنظیم کی مرکزی کمیٹی اور عام کونسل کی میٹنگ منعقد کر کے خود مختاری کے مطالبہ کے بغیر امن مذاکرات کے حق میں فیصلہ لیا جاسکے۔ اس حالت میں پریش بروا کو اکثریت کا فیصلہ قبول کرنا پڑے گایا اپنی ضد پر قائم رہنے کے سبب الگ رہنا ہوگا۔ تین دہائیوں سے آسام میں تشدد کا دور جاری ہے اور عوام تشدد سے پاک ماحول تیار کرنے کے لیے بات چیت پر زور دے رہے ہیں۔ معروف دانشور ڈاکٹر ہیرین گوہائیں جیل میں بند الفا لیڈروں سے مل کر مذاکرات کے لیے زمین تیار کرتے رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں ہی مذاکرات کے حق میں ایک میٹنگ ہوچکی ہے۔ دوسری طرف انٹیلی جنس بیورو کے سابق چیف پی سی ہالدار کو مرکز کی طرف سے ثالث بنایا گیا ہے۔ ہالدار کئی بار جیل میں بند الفا لیڈروں سے بات چیت کر چکے ہیں۔ مذاکرات کی حمایت میں تشکیل ادارہ کے چیف کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ہیرین گوہائیں کہہ چکے ہیں کہ امن کے عمل کی رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں اور مذاکرات شروع ہونے کا امکان نظر آنے لگا ہے۔
ثالث کا کردار ادا کر نے والے ہالدار کو جہاں مذاکرات کی شرطوں کا تعین کرنا ہوگا، وہیں جیل میں بند الفا لیڈروں کی رہائی کا راستہ بھی آسان بنانا ہوگا۔ پریش بروا کے بغیر مذاکرات کو صحیح انجام تک پہنچا پانا کتنا آسان ہوگا، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن حکومت کو یقین ہوچکا ہے کہ الفا کے فوجی سربراہ اپنی تنظیم کے زیادہ تر لیڈروں سے الگ تھلگ پڑ گئے ہیں اور ان کی حالت کمزور ہوچکی ہے۔ میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق پریش بروا چین اور میانمار کے بیچ آمد و رفت کر رہے ہیں اور کہیں بھی ٹھکانا بنا پانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ انہیں پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی ٹھکانا نہیں مل پا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگر الفا خودمختاری کا مطالبہ چھوڑ دیتا ہے تو اس کے دیگر مطالبات پر بات چیت کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ کشمیر میں ثالث کے ذریعہ بات چیت چل رہی ہے اور علیحدگی پسندوں کی ہر مانگ پر مذاکرات کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔ ناگا عسکریت پسندوں کی تنظیم این ایس سی این کے ساتھ بھی ثالثوں کے ذریعہ کئی سالوں سے بات چیت چل رہی ہے۔ آسام کے عوام الفا سمیت تمام عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کے حق میں ہیں، تاکہ ریاست میں امن چین قائم ہوسکے اور خون خرابے کا سلسلہ بند ہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here