پلوامہ حملے کی مخالفت میں پٹنہ میں کشمیریوں پرحملہ

Share Article
kashmiri
پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی مخالفت میں ملک بھر میں مظاہرہ اور احتجاجی مارچ ہو رہے ہیں۔جموں وکشمیرکے پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے میں 40سی آرپی ایف کے جوان شہیدہوگئے تھے۔اب اس کا برعکس اثردکھائی دینے لگاہے۔بہارکی راجدھانی پٹنہ میں جمعہ کواس وقت ماحول خراب ہوگیا،جب کچھ لوگ لہاسامارکیٹ میں گھس گئے اورکشمیریوں پرحملہ کردیا۔سہمے دکانداروں نے ڈرسے مارکیٹ بندکردیا۔یہ سبھی کشمیری ٹھنڈ کے موسم میں کشمیرسے پٹنہ گرم کپڑوں کی دکان لگانے پچھلے کئی سالوں سے آرہے ہیں۔کشمیریوں پرحملے کی خبرملتے ہی آناً فاناً میں پولس پہنچ گئی۔ تب جاکرمعاملہ ٹھنڈا ہوا۔
حملے کے بعد حرکت میں آئی پٹنہ پولس نے بودھ مارگ واقع لہاسامارکیٹ میں دکان لگانے والے کشمیریوں کی سیکوریٹی بڑھادی ہے۔انہونی کی خدشات کودیکھتے ہوئے مارکیٹ کی حفاظت کیلئے کثیرتعدادمیں سیکوریٹی اہلکاروں کوتعینات کردیاگیاہے۔ بتایاجاتاہے کہ کچھ غیر سماجی عناصر نے ماحول بگاڈنے کی کوشش کی ہے،لیکن پولس انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔


موقع پرپہنچے پٹنہ پولس کے ڈی سی پی ڈاکٹرراکیش کمارنے بتایاکہ معمولی جھڑپ کی اطلاع ملی تھی۔معاملہ بڑھتا اس سے پہلے ہی حالات پرقابوپالیاگیاہے۔وہیں کشمیرسے آئے دکانداروں نے کہاکہ ہم سب ہندوستانی ہیں۔بہارسے سیکڑوں لوگ ہرسال کشمیرگھومنے جاتے ہیں۔کئی لوگ ہوٹلوں میں ٹھہرنا پسندنہیں کرتے، بلکہ ہمارے گھرپررہتے ہیں۔کبھی پٹنہ میں بھیدبھاؤ نہیں دیکھا۔دہشت گردانہ حملے کولیکر ہم سبھی دکھی ہیں۔
جمعہ کودوپہربعدجموں وکشمیرمیں فدائین حملے میں جوانوں کے شہیدہونے کوایشوبناکرکچھ غیرسماجی عناصر شہرمیں امن وچین کے ماحول کوبگاڑنے کی کوشش کرنے لگے۔وہ لہاسامارکیٹ میں گھس گئے۔کشمیری دکانداروں سے جھڑپ کی۔ان کے کچھ ساتھیوں نے سڑک جام کرنے کی کوشش کی، لیکن کوتوالی تھانہ کی پولس نے پہنچ کرکھدیڑدیا۔کچھ دیرکیلئے مارکیٹ کے مین گیٹ کوبندکرنا پڑا۔

 

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *