جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال سے پریشان ہوئے مریض

Share Article

 

بہار کے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کا اثر جمعہ کے روز پٹنہ کے اسپتالوں پر بھی پڑا۔ جمعہ کے روز ایمرجنسی سروس کو چھوڑ کر تمام سرکاری اسپتالوں میں ساری خدمات ٹھپ ہوگئیں۔ کولکاتہ کے نیل رتن سرکار میڈیکل کالج و اسپتال میں جونیئر ڈاکٹروں پر ہوئے حملے کے خلاف ہاتھوں میں تختیاں لے کر پٹنہ کے سرکاری اسپتالوں کے تمام جونیئر ڈاکٹر غیر معینہ ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ یہ لوگ اسپتال احاطے میں ڈاکٹروں کی حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جونیئر ڈاکٹروں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ جب تک ان کی حفاظت کے پختہ انتظامات نہیں کئے جاتے ،اس وقت تک وہ ہڑتال ختم نہیں کریںگے۔

Image result for Patients suffering from junior doctors strike patna

جونیئر ڈاکٹروں کے ہڑتال پر جانے کی اطلاع دیتے ہوئے پی ایم سی ایچ میں جے ڈی اے کے صدر ڈاکٹر شنکر بھارتی نے بتایا کہ ہڑتال کی حالت میں آئی سی یو اور ایمرجنسی کو چھوڑ کر کہیں کام نہیں کیا جائے گا۔ تمام جونیئر ڈاکٹر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے رویہ سے ناراض ہیں۔

Image result for Patients suffering from junior doctors strike patna

جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کا اثرپی ایم سی ایچ اور این ایم سی ایچ میں واضح طور پر دکھائی دیا۔ ایمرجنسی سروس کو چھوڑ کر سب جگہ سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔ اس کی وجہ سے مریض اور ان کے لواحقین ہلکان ہوکر ادھر ادھر گھومتے رہے۔
بہت سے مریض اوپی ڈی سروس کے پاس ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ یہ سروس بند کیوں ہے۔عموما ًتمام محکموں کی اوپی ڈی کا یہی حال تھا۔ سب سے زیادہ مصیبت علاج کے لئے دور دراز سے آنے والے مریضوں کو ہو رہی ہے۔ انہیں یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ یہ ہڑتال کب تک چلے گی۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ یہاں رہیں یا واپس چلے جائیں۔ اس سلسلے میں اسپتال انتظامیہ سے پوچھنے پر بھی انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل رہا ہے۔

Image result for Patients suffering from junior doctors strike patna

سرکاری اسپتالوں میں جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے نجی اسپتالوں کے آپریٹرز کی چاندی کٹ رہی ہے۔ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لئے نجی اسپتالوں میں جا رہے ہیں۔ اس کام میں بچولئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ نجی اسپتالوں کے بچولیوں کی ایکٹیویشن سرکاری اسپتالوں میں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *