شہریت ترمیمی بل کا پاس ہونا بھارت میں جناح کے خیالات کی جیت: ششی تھرور

کانگریس ممبر پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیرششی تھرور نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے خیالات کی جیت ہوگی۔ ششی تھرور نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے سے بھارت ’پاکستان کا ہندوتو ورژن بھر بن کر رہ جائے گا‘۔وزیر داخلہ امت شاہ پیر کو لوک سبھا میں سٹیزن ایمنڈمنٹ بل پیش کرنے والے ہیں۔کانگریس، این سی پی، ٹی ایم سی، ڈی ایم کے،سماجوادی پارٹی، سی پی ایم سمیت کئی پارٹیاں اس کی مخالفت کررہی ہیں۔

سابق مرکزی وزیر نے اتوار کو کہا کہ نریندر مودی حکومت ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس طبقہ کے ہراساںکئے گئے لوگوں شہریت نہیں دینا چاہتی ہے، جبکہ دوسرے مذہب کے لوگوں کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی ایک الگ رویہ اپنا رہی ہے۔ تھرور نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل کا پارلیمنٹ سے منظور ہونا مہاتما گاندھی کے خیالات کے اوپر جناح کے سوچ کی جیت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل مہاتماگاندھی کے خیالات پر جناح کے سوچ کو تھوپنے جیسا ہے۔تھرور نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر یہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور بھی کیا جاتا ہے تو بھی سپریم کورٹ کی کوئی بھی بینچ بھارت کے آئین کی اصل روح کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گی۔

Image result for Passing Citizenship Amendment Bill Wins Jinnah's Ideas In India: Shashi Tharoor
ششی تھرور نے کہا کہ یہ حکومت کا شرمناک کام ہے جس نے گزشتہ سال تک قومی پناہ گزین پالیسی بنانے پر بات چیت کرنے سے بھی انکار کر دیا، جسے میں نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا تھا اور اس وقت کے وزیر داخلہ،وزیرمملکت برائے داخلہ اور ہوم سیکریٹری کے ساتھ ذاتی طور پرشیئر کیا تھا۔ کانگریس ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ لیکن اچانک رفیوجیوں کو شہریت دینے کے لئے یہ حکومت ایک قدم آگے بڑھ کر کام کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پناہ گزینوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے یا پناہ گزین کا درجہ دینے کے لئے جو بنیادی قدم اٹھایا جانا چاہئے یہ حکومت اتنا بھی نہیں کر رہی ہے۔

بی جے پی حکومت پر برستے ہوئے تھرور نے کہاکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس حکومت کی یہ محض ٹیڑھی سیاسی چال ہے تاکہ بھارت میں ایک طبقہ کو نشانہ بنایا جا سکے، اور ایک پوری قوم کو ووٹنگ کے حق سے محروم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا ہماری تہذیب اور ثقافت کے ان تمام اقدار کے ساتھ خیانت ہو گا، جس کے لئے ہم جانے جاتے تھے۔ اس سے ہم پاکستان کا ہندوتو ورژن بھر بن کر رہ جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *