حق اطلاعات قانون کا استعمال کرنے والے درخواست دہندگان نے تیسرے فریق اور توہین عدالت جیسے الفاظ کا کئی مرتبہ سامناکیاہوگا، کیوںکہ انہی الفاظ کی آڑ میں کئی بار اطلاع دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی اطلاع نہ دینے کے پیچھے جو وجہ بتائی جاتی ہے، وہ صحیح ہوتی ہے لیکن کئی بار ان تکنیکی الفاظ کا بیجا استعمال بھی حق اطلاعات کے افسران کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ایسے میں آر ٹی آئی قانون کا استعمال کرنے والے لوگوں کے لیے ان تکنیکی الفاظ اور ان کے استعمال کی صحیح معلومات ہونا ضروری ہے۔گزشتہ کچھ شماروں میں ہم نے تیسرے فریق اور توہین عدالت کے بارے میں بتایا ہے۔اس شمارہ میں ہم آپ کو ایسے ہی ایک اور لفظ سے متعارف کرا رہے ہیں۔ اس بار ہم بات کریں گے پارلیمانی خصوصی اختیارات کے بارے میں کہ کیسے اور کب پھنستا ہے پارلیمانی خصوصی اختیار کا پینچ۔سب سے پہلے ایک مثال سے  اس معاملہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ا مریکہ سے ایٹمی ڈیل کے دوران یو پی اے حکومت کو جب ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھاتو اس کے کچھ گھنٹے قبل ایوان میں ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا۔بی جے پی کے تین ممبران پارلیمنٹ نے ایوان مین نوٹوں کی گڈیاں لہراتے ہوئے سماجوادی پارٹی اور کانگریس پر یہ الزام لگایا کہ یہ نوٹ انہیں اعتماد کے ووٹ کے دوران حکومت کے حق میں ووٹ دینے کے لیے رشوت کی شکل میں ملے ہیں، جسے ایک میڈیا چینل نے اسٹنگ آپریشن کے دوران اپنے کیمرے میں قید کر لیا تھا اور اسے لوک سبھا کے صدر سومناتھ چٹر جی کے سپرد کر دیا تھا۔ بعد میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں اور لوگوں نے جب حق اطلاعات کے تحت درخواست کر کے مذکورہ ویڈیو ٹیپ عام کرنے کا مطالبہ کیا تو لوک سبھا نے مذکورہ ٹیپ عام کرنے سے انکار کر دیا۔ لوک سبھا نے بتایا کہ ویڈیو ٹیپ ابھی پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے اور جانچ چل رہی ہے اور جب تک جانچ پوری نہیں ہو جاتی، تب تک اس اطلاع کے دیے جانے سے دفعہ 8(1)(C)کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس دفعہ میں کہا گیا ہے کہ ایسی اطلاع، جس کے عام کیے جانے سے پارلیمنٹ یا کسی ریاستی اسمبلی کے خصوصی اختیارات کیضابطہ شکنی ہوتی ہو تو اسے حق اطلاعات کے تحت دیے جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
ایسا ہی ایک معاملہ اور ہے، جس میں موجودہ سینٹرل انفارمیشن کمشنر شیلیش گاندھی نے مہاراشٹر کے جنرل ایڈمنسٹریٹو ڈپارٹمنٹ سے وزیر اعلیٰ کے راحت فنڈ میں ممبئی ٹرین دھماکوں کے بعد موصولہ عطیات کے اخراجات کی تفصیل مانگی تھی تو ان کو یہ کہہ کر منع کر دیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کا راحت فنڈ ایک پرائیویٹ ٹرسٹ ہے اور حق اطلاعات قانون کے دائرے میں نہیں آتا ہے  جب کہ شیلیش کا ماننا تھا کہ راحت فنڈ ایک پبلک باڈی ہے اور وہ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ رہتی ہے۔وزیر اعلیٰ عوام کا خدمت گار ہوتا ہے ، اس لیے یہ اطلاع دیے جانے سے اسمبلی کے خصوصی اختیارات کیضابطہ شکنی نہیں ہوتی ہے۔ ایک ماہانہ رسالہ سے وابستہ رمیش تیواری نے اتر پردیش اسمبلی کے صدر اور سکریٹری کے پاس ایک درخواست بھیجی تھی۔ درخواست کے ذریعہ انھوں نے یہ جاننا چاہا تھا کہ کیا کوئی اسمبلی ممبرخود کوئی سرکاری ٹھیکہ لے سکتا ہے اور اگر ایسا کیا گیا ہے تو کیا ایسے ممبر کی اسمبلی سے رکنیت ردکی جا سکتی ہے؟
اسمبلی سے رمیش تیواری کو جب کوئی جواب نہیں ملا تو معاملہ کو وہ اسٹیٹ انفارمیشن کمشنر کے سامنے لے گئے۔ کمیشن کے اس وقت کے چیف انفارمیشن کمشنر ایم اے خان نے اسمبلی کے صدر اور سکریٹری کو حق اطلاعات قانون کے تحت نوٹس جاری کر دیا۔ نوٹس ملتے ہی سب سے پہلے تو رمیش کی درخواست خارج کر دی گئی اور اس کے بعد اسمبلی میں ایک قرارداد پاس کی گئی، جس کے ذریعہ انفارمیشن کمیشن کو انتباہ کیا گیا کہ اس کا اس معاملہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اس طرح کی اطلاعات مانگے جانے اور کمیشن کے ذریعہ نوٹس بھیجے جانے سے اسمبلی کے خصوصی اختیارات کی ضابطہ شکنی ہوتی ہے۔کمیشن کو آگے سے ایسے معاملات میں ہوشیار رہنے کا انتباہ کیاگیا۔
راہل وبھوشن نے انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ اور تین ممبران پارلیمنٹ کے درمیان ہوئی خط کتابت کی ایک کاپی مانگی تھی۔ دراصل ایک پیٹرول پمپ کو معاہدہ کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے سبب بند کر دیا گیا تھا۔ اس پیٹرول پمپ کو دوبارہ کھلوانے کے لیے تین ممبران پارلیمنٹ نیپیٹرولیم منسٹر کو خط لکھا تھا۔ راہل نے اس خط کے جواب کی کاپی مانگی تھی، جسے یہ کہہ کر دینے سے انکار کر دیا گیا کہ اسے دیے جانے سے پارلیمنٹ کے خصوصی اختیارات کی ضابطہ شکنی ہوتی ہے۔ کمیشن میں سماعت کے دوران انفارمیشن کمشنر نے اعتراف کیا کہ ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ لکھے گئے خطوط کا پارلیمنٹ یا پارلیمانی کارروائی سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اس اطلاع کے عام کیے جانے سے پارلیمنٹ کے خصوصی اختیارات کی کوئی ضابطہ شکنی نہیں ہوتی۔ کمشنر نے مطلوبہ اطلاعات کو 15دنوں کے اندر درخواست دہندہ کو دیے جانے کا حکم دیا ۔ کل ملا کر دیکھیں تو بیشتر معاملات میں پبلک انفارمیشن کمشنر پارلیمانی خصوصی اختیارات کی آڑ میں اطلاع دینے سے منع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ معاملہ پارلیمانی خصوصی اختیارات سے جڑا نہیں ہوتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here