پارلیمنٹ نے بالاتر ہونے کا اختیار کھو دیا ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان کی پارلیمنٹ کی تشکیل جمہوریت کے مسائل اور جمہوریت کی چنوتیوں کے ساتھ جمہوریت کو اور زیادہ اثردار بنانے کے لیے کی گئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں، پارلیمنٹ دنیا کے لیے ہندوستانی جمہوریت کا چہرہ ہے۔ جس طرح جسم میں کسی بھی طرح کی تکلیف کے نشان انسان کے چہرے پر آ جاتے ہیں، اسی طرح ہندوستانی جمہوریت کی اچھائی یا برائی کے نشان پارلیمنٹ کی حالت کو دیکھ کر آسانی سے لگائے جا سکتے ہیں۔ آج ہندوستان کی پارلیمنٹ ملک میں پیدا ہو رہے سوالوں کا جواب نہیں تلاش کر پا رہی ہے۔ سوالوں کا جواب نہ تلاش کر پانا ایک طرح کی کمزوری ہے، لیکن سوالوں کے اسباب کو بھی نہ تلاش کر پانا نااہلیت ہے اور یہ پارلیمنٹ کسی بھی مسئلہ کی وجہ نہیں تلاش کر پا رہی ہے۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی، بیڈ گورننس یا بے اثر حکومتی نظام، جرائم کا بڑھتا جانا یا پھر لوگوں کا پورے نظام کے تئیں ناامید ہو جانا پارلیمنٹ کی فکرمندی کا کبھی موضوع نہیں بن پائے گا اور پارلیمنٹ ان سوالوں پر کبھی پریشان نہیں دکھائی دے گی۔

پارلیمنٹ کے ممبران بھی اپنی اس تصویر کو بدلنا نہیں چاہتے، اسی لیے پارلیمنٹ میں ہونے والی بحثوں میں وہ خود نہیں دکھائی دیتے۔ لوک سبھا ٹی وی کا کیمرہ دوپہر ایک بجے کے بعد غلطی سے یہ چغلی کر دیتا ہے کہ پارلیمنٹ میں کورم سے بھی کم لوگ ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی رکن اگر سوال اٹھا دے تو کورم کی گھنٹی بجتی ہے اور تب پارلیمنٹ تھوڑی دیر کے لیے ملتوی ہو جاتی ہے۔ کورم کا پورا نہ ہونا حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی بے حسی کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ کیا ممبران پارلیمنٹ خود پارلیمنٹ کی بے حرمتی نہیں کر رہے ہیں، اور اگر ہم خندہ پیشانی سے یہ کہیں کہ ممبرانِ پارلیمنٹ کے ذریعے کیے جا رہے اس جرم کی فکر نہ لوک سبھا کی اسپیکر کو ہے اور نہ راجیہ سبھا کے چیئر پرسن کو۔ کیا ہمارا یہ کہنا مبالغہ آرائی ہے، پارلیمنٹ کے ممبران اگر چاہیں تو ہمیں جواب دے سکتے ہیں۔ سرکار کے بارے میں اب کچھ کہنے کا مطلب نہیں ہے۔

ہم پارلیمنٹ کی کتنی بھی عزت کریں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر ملک کے زیادہ تر لوگ یہ کہیں کہ یہ پارلیمنٹ ایسے لوگوں کے کلب میں تبدیل ہو گئی ہے، جن لوگوں کا ملک کی تکلیف سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ جب شرد یادو یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو پارلیمنٹ میں ایماندار آدمی کیوں نہیں دکھائی دیتے، تو اس کی وجہ بھی شرد یادو کو تلاش کرنی چاہیے۔ شرد یادو کو اپنے سماجوادی اصولوں کے علم کا استعمال کرنے پر پتہ چلے گا کہ پارلیمنٹ کے چاروں طرف غیر انسانی، بے حس اور لوگوں کے مسائل سے دور رہنے کی کوشش کرنے والی دیوار کھڑی ہے، جس دیوار کے پار دکھائی نہیں دیتا اور بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، جرائم کے رنگ کا شیشہ لگا ہے جس کی وجہ سے اندر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ بہت کوشش کرنے پر شیشے سے جب عام آدمی جھانکتا ہے تو اسے پارلیمنٹ میں بیٹھے سبھی چہرے اور سبھی پارٹیاں انجان، غیر شناسا، غیر سنجیدہ نظر آتی ہیں۔ لوگوں کو کسی بھی پارٹی سے الگ دوسری پارٹی کے لوگ نہیں دکھائی دیتے۔ جو آوازیں باہر آتی ہیں، اُن آوازوں کی لہر الگ راگ میں سنائی نہیں دیتی، بلکہ وہ اس کورس کا حصہ لگتی ہے، جس کی لہر عوام کے مفادات کے مخالف ہے۔
شرد یادو کا نام ہم نے اس لیے لیا، کیوں کہ شرد یادو وہ اکیلی آواز ہیں جو پارلیمنٹ میں اکثر لوگوں کے حق میں بولتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن اگر شرد یادو سے ہی پوچھیں کہ وہ اپنے جیسے چار نام اور بتا دیں، جن کی زبان یا انداز یا سمجھ ان کے جیسی ہے۔ بایاں محاذ کے ممبر ضرور کبھی کبھی بولتے ہیں، پر اُن کی زبان اور اسلوب صرف وہ ہی سمجھ پاتے ہیں۔ جو زبان لوگوں کی سمجھ میں نہ آئے، اس زبان کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ جو زبان لوگوں کے دکھ، تکلیف اور درد کا بیان نہ کر سکے، وہ زبان لوگوں کے کس کام کی۔ یہ بات صرف پارلیمنٹ میں بیٹھے ممبران کے قول کی ہے، ان کے فعل کی نہیں۔
اگر ممبرانِ پارلیمنٹ کے فعل کی بات کریں تو پارلیمنٹ کے کئی سارے ممبران ایسے ہیں، جو کابینہ میں رہتے ہوئے بدعنوانی کے گھیرے میں آ گئے اور جیل چلے گئے۔ کئی سارے ممبران ایسے ہیں، جو وزیر اعظم کے عہدہ پر رہتے ہوئے اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں۔ کسی ایک عدالت سے جرم کی سزا پائے ہوئے ممبرانِ پارلیمنٹ کی تعداد کتنی ہوگی، یہ شاید پارلیمنٹ کے ممبران کو خود نہیں معلوم، پر اِن سب باتوں کو اندیکھا بھی کردیں تو اصولی طور پر پارلیمنٹ کو جو کام کرنا چاہیے، کیا پارلیمنٹ وہ کام کر رہی ہے؟ پارلیمنٹ اگر یہ کام نہیں کر رہی ہے تو ایسی پارلیمنٹ کا مطلب پارلیمنٹ کے لیے چنے گئے ممبران کے علاوہ کسی اور کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ممبرانِ پارلیمنٹ کو لے کر افواہوں کے بازار ہمیشہ گرم رہتے ہیں۔ ممبرانِ پارلیمنٹ کے ذریعے پوچھے گئے سوال عوامی مفاد کے کم، کمپنیوں یا مختلف لابیوں کے مفاد میں یا ان کے خلاف زیادہ ہوتے ہیں۔ کہنے کو تو لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی رکن پارلیمنٹ سے کسی سفارشی خط پر دستخط کرانا ہو تو زیادہ تر معاملوں میں بغیر تحفہ دیے دستخط نہیں ہو سکتے۔
سن پچاس میں اعلان کردہ جمہوریۂ ہند کی یہ کیسی پارلیمنٹ ہے، جس میںآج چنے گئے ممبرانِ پارلیمنٹ کے کردار میں فرق کر پانا مشکل ہے۔ جواہر لعل جی، لال بہادر شاستری جی، اندرا جی، یہاں تک کہ راجیو گاندھی کے وقت بھی حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف کا چہرہ صاف تھا۔ پر اب کون حزبِ اقتدار میں ہے اور کون حزبِ مخالف میں ہے، اس کی پڑتال لگ بھگ ناممکن ہو گئی ہے اور اس وقت، جب آپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ بالا تر ہے، سب سے اوپر ہے، تو حیرانی ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ اگر بالاتر ہے، سب سے اوپر ہے تو پارلیمنٹ کو کسانوں کے بیج کا بحران دکھائی نہیں دیتا، کسانوں کی خود کشی انہیں پریشان نہیں کرتی، کسانوں کے لیے جو سہولیات سرکار کو دینی چاہئیں، ان کے تئیں یہ خاموشی کیوں؟ نوجوانوں کی بے روزگاری، تعلیم اور صحت کا ٹوٹا ہوا تانا بانا، دلت، اقلیت، پچھڑوں اور غریبوں کے آنسو اس عظیم پارلیمنٹ کی فکرمندی کا سبب کیوں نہیں ہیں؟ کیا یہ سارے نام اور ان سے جڑے ہوئے مسائل بالکل بے مطلب ہیں؟ اس عظیم اور سب سے اونچی پارلیمنٹ کو ملک کے 272 ضلعے میں پھیلنے والا نکسل واد کیوں پریشان نہیں کرتا۔ کیا پارلیمنٹ یہ سمجھ رہی ہے کہ نکسل واد کے بڑھنے کے پیچھے آئی ایس آئی، سی آئی اے یا موساد جیسی خفیہ تنظیموں کا ہاتھ ہے؟ یا شاید پارلیمنٹ یہ سمجھ رہی ہے کہ ان 272 ضلعوں میں ترقی ہو گئی ہے، سڑکیں بن گئی ہیں، بجلی آ رہی ہے، مہنگائی نہیں ہے، بے روزگاری دور کرنے کے راستے تلاش کر لیے گئے ہیں اور تعلیم و صحت سے لڑنے کے لیے اسکول اور اسپتال کھولے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود اِن ضلعوں میں رہنے والے لوگ ہندوستانی جمہوریت کے تئیں ناشکرے ہیں اور جھوٹا شور مچا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے بارے میں عام لوگوں کی رائے کچھ ایسی ہے، جیسی رائے غیر سنجیدہ، بے رحم اور خود غرضی میں ملوث آدمیوں کے بارے میں ہوتی ہے، جسے اپنے مفاد کے علاوہ دوسرے کسی کا مفاد دکھائی ہی نہیں دیتا۔
پارلیمنٹ کے ممبران بھی اپنی اس تصویر کو بدلنا نہیں چاہتے، اسی لیے پارلیمنٹ میں ہونے والی بحثوں میں وہ خود نہیں دکھائی دیتے۔ لوک سبھا ٹی وی کا کیمرہ دوپہر ایک بجے کے بعد غلطی سے یہ چغلی کر دیتا ہے کہ پارلیمنٹ میں کورم سے بھی کم لوگ ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی رکن اگر سوال اٹھا دے تو کورم کی گھنٹی بجتی ہے اور تب پارلیمنٹ تھوڑی دیر کے لیے ملتوی ہو جاتی ہے۔ کورم کا پورا نہ ہونا حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی بے حسی کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ کیا ممبران پارلیمنٹ خود پارلیمنٹ کی بے حرمتی نہیں کر رہے ہیں، اور اگر ہم خندہ پیشانی سے یہ کہیں کہ ممبرانِ پارلیمنٹ کے ذریعے کیے جا رہے اس جرم کی فکر نہ لوک سبھا کی اسپیکر کو ہے اور نہ راجیہ سبھا کے چیئر پرسن کو۔ کیا ہمارا یہ کہنا مبالغہ آرائی ہے، پارلیمنٹ کے ممبران اگر چاہیں تو ہمیں جواب دے سکتے ہیں۔ سرکار کے بارے میں اب کچھ کہنے کا مطلب نہیں ہے۔ سرکار بے لگام، بے حس، جانبدار اور عوام کے مفاد کے بالکل برخلاف فیصلے لینے میں مہارت حاصل کر چکی ہے۔
پارلیمنٹ میں اب چندر شیکھر اور اٹل بہاری واجپئی جیسا ایک بھی رکن پارلیمنٹ نہیں ہے، جو اکیلا کھڑا ہو کر سوال پوچھے اور جب اپنی بات کہے تو پارلیمنٹ اسے غور سے سنے۔اور آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارلیمنٹ کو بالا تر مانیں۔ نہیں، ہم آپ کو بالاتر نہیں مانتے، ہم آپ کو سنجیدہ نہیں مانتے، ہم آپ کو غریبوں کا حامی نہیں مانتے۔ آج عوام بھی اسی فیصلے پر پہنچ چکے ہیں، اور کل جب انہیں فیصلہ دینا ہوگا تو وہ آپ کے حق میں فیصلہ نہیں دیں گے۔ عوام انتظار کر رہے ہیں کہ اب ایسے لوگ پارلیمنٹ میں پہنچیں تو ان کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ منتخب ہونے کے چھ ماہ کے اندر کریں۔ عوام کے مسائل واضح ہیں۔ مہنگائی، بدعنوانی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، بجلی، پانی۔ اگر ان کا حل نکالنے کا پروگرام جس کے پاس نہیں ہے، اسے چننے میں عوام اب پس و پیش کریں۔ وقت بدل رہا ہے، چہروں سے نقاب اتر رہے ہیں، سیاسی مشینری کی ناکامی اور اس کا کھوکھلا پن لوگوں کے سامنے آ رہا ہے۔ ہوسکتا ہے ملک ایک بار پھر تاریخ کی نئی عبارت لکھنے کی کوشش کرے۔ اس عبارت کو نہ لکھنے دینے کی ہر چند کوشش ہوگی، پر زندگی کی آس لیے ہوئے لوگ ان ساری کوششوں کو ناکام کر دیں گے۔ پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ یہ باتیں ہم نہیں لکھ رہے ہیں، یہ باتیں اس ملک کے لوگوں کے ذہنوں میں ہیں، جنہیں ہم صرف الفاظ دے رہے ہیں۔ ہم پھر کہتے ہیں کہ آپ نے بالاتر ہونے کا اختیار کھو دیا ہے۔ جو تکنیکی طور پر بالاتر ہوتا ہے، وہ تانا شاہ ہوتا ہے اور جو دلوں میں بالاتر ہوتا ہے، وہ عوام کا ہیرو ہوتا ہے۔

 

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

One thought on “پارلیمنٹ نے بالاتر ہونے کا اختیار کھو دیا ہے

  • September 4, 2012 at 2:16 pm
    Permalink

    اسسلام-علیکم
    جناب میرا نام عاطف فریدی ہے . اور مجھے غزل ، نظام لکھنے کا شوق رہا ہے. اور میری غزل وہ نظام بھر کے الگ الگ رسالوں میں شامل ہوتی رہی ہیں. تو سمری خواہش ہے کے چوتھی دنیا میں میں بھی نظام وہ غزل شامل کیا جائے.
    بری مہربانی ہوگی.

    عاطف فریدی سرییاوی، دربھنگہ
    موبل نمبر : ٠٩٨٣٥٢١٣٤٠٩

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *