پارلیمنٹ نقلی دودھ کا کاروبار کرنے والوں کیلئے سزائے موت کا مطالبہ

Share Article

راجیہ سبھا میں بدھ کے روز ممبران نے ملک میں نقلی دودھ کی تجارت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کاروبار میں ملوث افراد کو پھانسی یا عمر قید کی سزا اور اس سے متعلق معاملات میں اگر وہ قصوروار پائے گئے تو ضلع کلکٹر کو ذمہ دار ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔وقفہ صفر کے دوران ایوان میں اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہرناتھ سنگھ یادو نے کہا کہ ملک میں دودھ کی دستیابی کے مقابلے چار گنا زیادہ دودھ کی کھپت ہو رہی ہے۔ ایسی صورت میں مانگ کو پورا کرنے کیلئے نقلی یا زہریلا دودھ بڑے پیمانے پر تیار کیا جا رہا ہے جو نہ صرف نقصان دہ ہے بلکہ یہ جان لیوا کینسر کی بیماری ہونے کی بڑی وجہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں یوریا ، ہیوی میٹلز ، کرومیم ، بینجامن ، سبزی اور واشنگ پاؤڈر ملا کر زہریلا دودھ بنایا جا رہا ہے جو کہ بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی ہندوستان میں بہت کم گاؤں ہی ایسے ہوں گے جہاں اس طرح سے دودھ تیار نہیں ہو رہا ہے۔ بی جے پی ممبر نے کہا کہ فوڈ ریگولیٹر ایف ایس ایس آئی کے ذریعہ لیئے گئے دودھ کے نمونوں میں سے 37.7 فیصد معیار کے خلاف پائے گئے ہیں۔

Image result for Indian Parliament demands milk traders
برانڈڈ کمپنیوں کے ذریعہ فروخت ہونے والا دودھ بھی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، یادو نے کہا کہ اگر زہریلے دودھ کے کاروبار پر قابو نہ پایا گیا تو ، ملک کی 87 فیصد آبادی کینسر کی شکار ہوجائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کام میں ملوث لوگوں کو پھانسی یا عمر قید کی سزا کا بندوبست کرے اور کہا کہ ایسے معاملات کے لئے ضلعی کلکٹر کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔ اپوزیشن اورحکومت کے متعدد ممبران نے یادو کے اس مطالبے کی حمایت کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *