ٹریڈ یونینوں کی دو روزہ ہڑتال کے پیچھے مقصد کیا تھا اور مزدور تنظیموں نے بجٹ سیشن سے ٹھیک پہلے سڑکوں پر اترنے کا فیصلہ کیوں کیا، اس مدعے پر چوتھی دنیا نے آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور سی پی آئی پارٹی کے ممبر آف پارلیمنٹ گروداس گپتا سے تفصیل سے بات چیت کی۔ پیش ہیں بات چیت کے اہم اقتباس
سوال: ٹریڈ یونینوں نے ہڑتال کرنے کا فیصلہ بجٹ سیشن سے عین پہلے ہی کیوں لیا؟
جواب: ایسا اس لئے، کیونکہ مزدوروں کے مطالبات اقتصادی ا ور سماجی طور پر اہم ہیں۔ پارلیمنٹ میں پورے ملک کے عوامی نمائندے ہوتے ہیں اور مزدوروں کا یہ مسئلہ بھی ملک گیر ہے۔ حکومت پر اس کا دبائو پڑے، اس لئے ہم نے یہ وقت طے کیا۔
سوال: وزیر اعظم نے خود ٹریڈ یونینوں سے ہڑتال واپس لینے کا مطالبہ کیاتھا، آپ لوگوں نے اسے سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا؟
جواب: یہ سوال آپ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سے کریں کہ انھوں نے ٹریڈ یونینوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا۔ دوسری بات، وزیر اعظم نے ہڑتال واپس لینے کی اپیل اخبارات کے ذریعہ کی۔ کیا اس بارے میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو خود ٹریڈ یونینوں سے بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔یو پی اے حکومت کا رویہ پوری طرح عوام مخالف اور مزدور مخالف ہے، اس لئے ہمیں مجبوراً ہڑتال کرنی ہی پڑی۔
سوال: اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڑتال سے ملک کو 20ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ کا نقصان ہوا۔ کیا کہنا چاہیں گے آپ اس مدعے پر؟
جواب: وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو ہڑتال کی وجہ سے ہوئے مالی نقصان کی فکر تو ہے، لیکن ملک کے کروڑوں لوگوں کی فکر نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو 2جی گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ ، آدرش گھوٹالہ، کوئلہ گھوٹالہ، ہیلی کاپٹر گھوٹالہ اور بڑھتی مہنگائی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اگر ان روپیوں کا استعمال مفاد عامہ میں کیا جاتا، تو آج عوام کی مشکلیں کم ہو سکتی تھیں۔
سوال: ایسو چیم، فکی اور سی آئی آئی نے اس ہڑتال کو ملک کی معیشت کے لئے صحیح نہیں کہا ہے۔ ایسو چیم نے تو بند کے دوران ہوئے تشدد میں شامل لوگوں پر سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے؟
جواب: کارپوریٹ گھرانوں کی پشت پناہی میں چل رہی ان تنظیموں سے مزدوروں کے مفادات کی بات کرنا ہی بے معنی ہے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح صنعتی گھرانوں کو زیادہ سے زیادہ منافع ہو۔ آج مزدوروں کو کھلنائک کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے، جو صریحاً غلط ہے۔ جن مزدوروں کو کارخانوں میںکام کرنے سے روٹی ملتی ہے، ان کے کنبوں کی روزی روٹی چلتی ہے، وہ مزدور یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ صنعتی دھندے بند ہو جائیں۔ا س لئے کارپوریٹ گھرانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ مزدوروں کے تمام جائز مطالبات کو نظر انداز نہ کریں۔
سوال: کیا پر تشدد واقعات کے لئے ٹریڈ یونینوں کے لیڈر اور کارکنان ذمہ دار ہیں؟
جواب:نوئیڈا میں ہوئے تشدد کو جائزنہیں ٹھہرایا جا سکتا، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تشدد میں شامل لوگ کون تھے۔ گزشتہ سال گڑگائوں کے مانیسر میں واقع ماروتی سزوکی کی فیکٹری میں مزدوروں نے تحریک کی تھی۔ مانیسر میں بھی تحریک نے پر تشدد شکل اختیار کر لی ، مزدوروں پرجھوٹے مقدمے چلائے گئے، جبکہ میڈیا خود اس بات کو کہتا رہا ہے کہ ماروتی کے مزدوروں کے مطالبات کافی پرانے تھے،جنھیں ہریانہ حکومت اور ماروتی سزوکی انتظامیہ لگاتار نظر انداز کرتی رہی۔
سوال: ملک کی تمام ٹریڈ یونینوں نے اپنی اپنی آئیڈیالوجی سے اوپر اٹھ کر اتحاد دکھایا، اس میں پنہاں کیا مقصد ہو سکتا ہے؟
جواب: بھارتیہ ٹریڈ یونینوں کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے، جبکہ تمام تنظیموں نے ایک ساتھ مل کر دو دنوں تک تالا بندی کی ہے۔ اس سے ٹریڈ یونینوں کی طاقت بڑھے گی۔ ہمارا اتحاد موجودہ یو پی اے حکومت کے لئے ایک انتباہ ہے۔ اگر حکومت نے اپنا تاناشاہی والا رویہ بند نہیں کیا تو ٹریڈ یونینیں اس سے بڑی تحریک شروع کریں گی۔
اب پارلیمنٹ میں آپ کی کیا حکمت عملی ہوگی ؟
جواب: پارلیمنٹ میں بھی ہم لوگ، خاص کر کمیونسٹ پارٹیاں بدعنوانی، مہنگائی، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل کو لے کر تحریکچلائیں گے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بجٹ سیشن کی شروعات سے پہلے صدر جمہوریہ کی تقریر کے وقت کمیونسٹ ممبران ایوان میں موجود نہیں تھے۔ ہم لوگ عوام کے حقوق کی لڑائی سڑک اور پارلیمنٹ دونوں جگہوں پر لڑیں گے۔ اگر حکومت ہمارے مطالبات نہیں مانتی، تو آنے والے دنوں میں اس سے بڑی ہڑتال کی جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here