پریشانیوں میں گھری پاکستانی سیاست

Share Article

(اعجاز حفیظ (پاکستان
دو ہزار بارہ بھی گزر گیا ۔موسم کیسا بھی ہو ،وقت کے قدم بھی کبھی رکے ہیں ۔زندگی جس حال میں ہو ،کسی کے خیال میںہو ،جب تک جان ہے ،جہان ہے ۔گزرا ہوا سال ہماری ملک کی طوفانی سیاست میں اس لحاظ سے خوش قسمت رہا کہ سویلین حکومت کا سفر جاری رہا ۔گو اس کے راستے میں ایک سے بڑھ کر ایک ناکہ اور ’’ڈاکہ ‘‘ڈالا گیا، لیکن جسے اﷲ رکھے ،اُسے کون چکھے ۔ جب 2008 میں الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت مرکز میں بنی تھی تو ہمارے سیاسی پنڈت اُسے 90دن بھی نہیں دے رہے تھے ۔اُس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ قائد ِ اعظم کا بھی یہی کہنا تھا۔اُن سب کا خیال تھا کہ اُس وقت کے صدر جنرل مشرف 58ٹو بی کلہاڑے سے حکومت کا خاتمہ کر دیں گے ۔اُن دنوں پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی مسلم لیگ ن یک جان دو قالب تھی،یہی رشتہ جنرل مشرف کے استعفیٰ کا باعث بنا اور کچھ دنوں بعد یہ دونوں جماعتیں ’’چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جا ئیں ہم دونوں ‘‘… کہہ کر اپنی پرانی دشمن داری نبھانے لگیں ۔

سیاسی موسم کی بات ہوگئی اب اصلی موسم پر بھی آئیں۔کہا جا رہا ہے کہ رواں سردی نے پچھلے پچاس سال کاریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ہمارے نزدیک ریکارڈ کی سب سے عمدہ تعریف یہ ہے کہ یہ ٹوٹنے کے لئے ہی بنتے ہیں۔ بہر کیف سردی کی موجودہ لہر سے ہمارے موسم پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے ۔جب سے سردیاں صرف چند دنوں تک کی رہ گئی تھیں ، موسم کے باقی دن ہماری پیاری زمین کے لئے کافی مشکل بنتے جا رہے تھے ۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہر موسم کو بھی اپنا ’’منڈیٹ‘‘پورا کرنا چاہیے جو ماحولیاتی جمہوریت کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔

پچھلے سال پاکستان دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سے بھی لہو لہان رہا ۔ کراچی میں اپنوں سے بچھڑ جانے والوں کی تعداد دہشت گردی کے شکار افراد سے زیادہ رہی ۔یہ سب دیکھ کر آسمان بھی آنسو بہاتا ہو گا۔کراچی میں ایک نوجوان شاہ زیب کے قتل پر سوشل میڈیا کی چیخ و پکار سے سپریم کورٹ کو سو موٹو لینا پڑ گیا ۔شاہ زیب قتل کیس میں پیش رفت سوشل میڈیا کی ایک بڑی کامیابی ہے۔کراچی میں جہاں روزانہ دہشت گرد وں کے ہاتھوں دس کے قریب افراد اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں،اُس شہر میں شاہ زیب کے قتل پر سوشل میڈیا نے اپنی بھر پور ’’اسٹریٹ پاور ‘‘سے عدلِ زنجیر کو بھی ہلا کر رکھ ڈالا۔کا ش کہ سب کے لئے ایسا ہوتا تو آج قوم کے بہت سے بچے یتیم خانوں میں نہ پل رہے ہوتے ۔ہماری ریسرچ کے مطابق سیاسی جماعتوں میں تحریک انصاف ،مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم سوشل میڈیا پر بھی کافی ایکٹو ہے ۔جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے ،تو عرض ہے کہ جن کے ساتھ اُس کا تعلق ہے ،وہ ابھی تک کمپیو ٹر کی دنیا میں داخل ہی نہیں ہو ئے ۔تمام تر گلے شکوے کے ہوتے ہوئے آج بھی پیپلز پارٹی کے ووٹرز اہل ِ غرباء ہی ہیں ۔یہ سب بھٹو صاحب کا کرم ہے ۔
سیاسی موسم کی بات ہوگئی اب اصلی موسم پر بھی آئیں۔کہا جا رہا ہے کہ رواں سردی نے پچھلے پچاس سال کاریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ہمارے نزدیک ریکارڈ کی سب سے عمدہ تعریف یہ ہے کہ یہ ٹوٹنے کے لئے ہی بنتے ہیں۔ بہر کیف سردی کی موجودہ لہر سے ہمارے موسم پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے ۔جب سے سردیاں صرف چند دنوں تک کی رہ گئی تھیں ، موسم کے باقی دن ہماری پیاری زمین کے لئے کافی مشکل بنتے جا رہے تھے ۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہر موسم کو بھی اپنا ’’منڈیٹ‘‘پورا کرنا چاہیے جو ماحولیاتی جمہوریت کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔جب سے وہاں بھی کسی موسم کی آمریت شروع ہوئی،دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے یہاں بھی اُس کا غیض و غضب کسی سے کم نہیں رہا ۔اب تو ہر سال ہمارے یہاں صرف بارشوں سے ہی تباہ کُن سیلاب آجا تا ہے۔پہلے جب دریا جوش میں ہوش کا دامن چھوڑ دیتے تھے توہمارے بہت سے شہراور دیہات اس کی لپیٹ میں آ تے تھے ۔اب دریا خود پانی کے ہجر میں کسی سیلاب کے وصل میں رہتے ہیں ۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہم سردیوں کے موجودہ رنگ و روپ سے بہت خوش ہیں۔البتہ لاہور پریس کلب میں ہماری دُعا (ہمارے ڈیرے کا نام )پر دوستوں کی تعداد میں کمی آ گئی ہے ۔کچھ تو ہمت کر کے ہمارے ’’ہمسفر ‘‘بن جاتے ہیں ۔اکثریت دور سے ہی سلام کر کے کلب کے اندر جیسے بھاگ رہی ہوتی ہے ۔قارئین کے حضور یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ہمارے ڈیرے کا جغرافیہ پریس کلب کے لان کے ایک بنچ تک محدود ہے۔جہاں 17برس سے رات تین سے چار گھنٹے کے لئے نشست لگتی ہے ۔بہت سی یادوں اور باتوں کی دھڑ کنیں ہمارے دل کا ساتھ دے رہی ہوتی ہیں ۔ اگر عمر رفتہ میں پڑ گئے تو دل کی رفتار اور تیز ہو جائے گی ۔اس کے لئے زیادہ تیزی بھی خطرناک ہوتی ہے ۔ریکارڈ کے حوالے سے ہماری سیاست اس قدر خود کفیل ہے کہ سیاسی عجائب کدے اس کے ہی’’ قد آورواقعات ‘‘سے بھرے ملیں گے ۔گو سویلین حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا ایک ریکارڈ ہے ۔لیکن اسے کیا کہیں گے کہ قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منتخب وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی کو چند سیکنڈ کی سزا کے بعد نہ صرف وزارت عظمیٰ بلکہ پانچ سال کے لئے الیکشن لڑنے سے بھی نا اہل قرار دے دیا گیا ۔دنیا کی سیاسی تاریخ میں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال موجود نہیں تھی ۔یہ بھی تو پھر ایک ریکارڈ ہوا ۔ہو سکتا ہے کہ ناقابل ِ تسخیر بھی ثابت ہو ۔دیکھا جائے تویہ فیصلہ بھی سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کے حق میں گیا ۔اب جب الیکشن میں صرف چار ماہ رہ گئے ہیںبہت سوں کا ایجنڈا ملک کواس سے دور،بہت ہی دور لے جانا ہے ۔ اپنی بات منوانے کے لئے قسموں پر قسمیں کھائی جا رہی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اِ ن لوگوں کو اپنا ’’کام ‘‘کرنے دیں ۔ہم پھر سے جناب یوسف رضا گیلانی کی طرف آتے ہیں۔پچھلے دنوں انہوں نے سینیٹر اعتزاز احسن کے حوالے سے ایک گلہ بھی کیا کہ ’’انہوں نے میرے ساتھ زیادتی کی ،اگر توہین ِ عدالت کیس میں6ماہ کے لئے اندر بھجوا دیتے تو میں دوتین کتابیں اور لکھ لیتا ‘‘۔سابق وزیراعظم نے تو کہہ دیا لیکن ایک سوال اُن کے ساتھ زیادتی کس نے کی ؟
سوال اور لاجواب… کا بھی ایک رشتہ ہے ۔یاد آ یا کہ جب جناب یوسف رضا گیلانی ،جنرل مشرف کا قیدی بن کر اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ’’چاہ ِ یوسف سے صدا ‘‘کو تخلیق کر رہے تھے ،تو اُن دنوں سیل فون پر اُن کا مجھ ناچیز سے بھی رابطہ تھا ۔لاہور کے بہت سے صحافیوں کو یہ کتاب میرے ذریعے ہی انہوں نے پہنچائی۔ بطور وزیراعظم بھی انہوں نے مجھے یاد رکھا ، یہ اُنکا بڑا پن تھا۔بھوٹان میں منعقدہ سارک کانفرنس میں اُن کے ساتھ میں بھی گیا تھا ۔بہر کیف ہمارے سیاسی ریکارڈز میں اُن کا نام بھی آگیا ہے ۔ہمارے پنجاب میں ایک جملہ یہ بھی اکثر کہا جاتا ہے کہ ’’تم میرا ریکارڈ لگا رہے ہو‘‘۔دنیا کے سیاسی عجائب کدے میں کہیں ہمارے ساتھ ایسا سلوک تو نہیں کیا جا رہا ہے ؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *