پانی اور زمین کی جنگ لڑ رہے ہیں کسان

رنجن سنگھ
 بہار کے بانکا ضلع میں چاندن ندی پر لکشمی پور (بونسی پرکھنڈ) میں سینچائی کے کام کے لیے تقریباً 40 سال قبل چاندن باندھ کی تعمیر کی گئی تھی۔ بہار سرکار کے محکمہ آبی وسائل کے لیٹر نمبر 885 مورخہ 23 جون، 2011 ابھجیت گروپ (تھرمل پاور) کو ڈیم کا پانی دیے جانے کی مقامی کسانوں کے ذریعے زبردست مخالفت کی جا رہی ہے۔ بانکا سمیت آس پاس کے ضلعوں میں چاندن ڈیم بچاؤ سنگھرش مورچہ کی قیادت میں تحریک جاری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بہار سرکار نے سال 1968 میں چاندن باندھ کی تعمیر کرائی تھی، تاکہ اس علاقہ کے ہزاروں کسانوں کو بہتر سینچائی کی سہولت حاصل ہو سکے۔
چاندن ندی پر ڈیم بننے کے بعد بانکا، بھاگلپور اور گوڈّا (جھارکھنڈ) ضلعوں کے کسانوں کے لیے یہ نعمت ضرور ثابت ہوا، لیکن اب اس سینچائی پروجیکٹ کا پانی ابھجیت گروپ کے ذریعے بنائے جا رہے 2640 میگاواٹ کی صلاحیت والے تھرمل پاور پلانٹ کو دیے جانے سے مقامی کسان زبردست غصے میں ہیں۔ مقامی کسان چاندن ندی اور ڈیم کے پانی پر اپنا حق مانتے ہیں۔ پچھلی تین چار دہائیوں کے دوران مرمت اور مناسب نگرانی نہ ہونے کے سبب اس پروجیکٹ کی سینچائی کی صلاحیت میں کافی کمی آئی ہے۔

کسانوں اور آدیواسیوں کو ان کے جل (پانی)، جنگل اور زمین سے بے دخل کرنے کے لیے سیاست داں اور سرمایہ دار طبقہ جس طرح قوانین و ضوابط کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ کسانوں، مزدوروں اور آدیواسیوں کو اپنی لڑائی پہلے سے اور زیادہ متحدہ ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری استحصال کے خلاف پورے ملک میں کسانوں کی تحریک چل رہی ہے۔ کہیں کارخانوں کے نام پر جنگل کاٹے جا رہے ہیں، تو کہیں پاور پروجیکٹس کے نام پر کسانوں کو ان کی پشتینی زمین سے بھگایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ہی معاملہ بہار کے بانکا ضلع کا ہے، جہاں چاندن ڈَیم کا پانی، جس پر پہلا حق کسانوں کا ہے، اسے درکنار کرتے ہوئے نتیش حکومت نے ابھجیت گروپ کی طرف سے لگائے جا رہے پاور پلانٹ کو دینے کا ناانصافی پر مبنی اور غلط سمجھوتہ کیا ہے۔ سرکار کی اس عوام مخالف پالیسی کے خلاف بانکا، بھاگلپور اور گوڈّا ضلع کے ہزاروں متاثرہ کسان اب آر پار کی لڑائی لڑنے کے موڈ میں ہیں۔ کیا ہے پورا معاملہ اور کس طرح بغیر پانی کے تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں کسان، پیش ہے چوتھی دنیا کی یہ خاص رپورٹ …

اس کے بارے میں کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں چونکہ سینچائی کے لیے پورا پانی نہیں مل پا رہا ہے، اس لیے تھرمل پاور پلانٹ کو پانی دینے کا کیا جواز ہے۔ تھرمل پاور پلانٹ کو پانی مہیا کرانے کے لیے ابھجیت گروپ کے ذریعے ڈیم کے علاقہ میں اِنٹیک ویل کی تعمیر اور اسپیل وے کی اونچائی بڑھانے سے بھی کسان ڈرے ہوئے ہیں کہ سینچائی کا سارا پانی ابھجیت کمپنی لے لے گی۔ اس کے علاوہ انہیں اس بات کی بھی فکر ہے کہ اس سے علاقے میں نہ صرف ڈوب علاقہ بڑھے گا، بلکہ ڈیم کے باہری حصوں میں بھی مصنوعی سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگا۔
غور طلب ہے کہ ابھجیت گروپ کے ذریعے قائم کیے جا رہے تھرمل پاور پلانٹ کو چاندن ڈیم کا پانی دینے سے بانکا، بھاگلپور اور جھارکھنڈ کے گوڈا ضلع کی تقریباً 16000 ہیکٹیئر زمین کے بنجر ہو جانے کا امکان ہے، وہیں دوسری طرف تھرمل پاور پلانٹ کی تعمیر ہونے سے غریب کسانوں کی زمین کمپنی کے بچولیوں کے ذریعے اونی پونی قیمتوں پر خریدی جا رہی ہے۔ غور طلب ہے کہ 2 جنوری، 2013 کو بونسی – لکشمی پور واقع منیارپور میدان میں ایک عوامی سماعت کا پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس عوامی سماعت میں میگسیسے ایوارڈ یافتہ اور سماجی کارکن ڈاکٹر سندیپ پانڈے اور مشہور ماہر ماحولیات رنجیو کمار نے بھی حصہ لیا۔ عوامی سماعت میں بہار سرکار کے محکمہ آبی وسائل، محکمہ اراضی و مالیہ، محکمہ بجلی اور محکمہ توانائی کے وزیروں کے علاوہ ابھجیت گروپ کے اہل کاروں کو بھی اپنی بات رکھنے کی دعوت دی گئی تھی، لیکن کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ مقامی کسانوں کا الزام ہے کہ ابھجیت گروپ کی طرف سے ڈیم میں گہرا کنواں کھودا جا رہا ہے، ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کی جا رہی ہے اور پتھریلی زمین پر دھماکہ بھی کرایا جا رہا ہے۔ اس مدعے پر بیلہر علاقہ سے جنتا دَل یونائٹیڈ کے ایم ایل اے گردھاری یادو چوتھی دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہم لوگ ترقی مخالف بالکل نہیں ہیں، کیوں کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ اس علاقہ کی ترقی ہو۔ ان کے مطابق، اگر ابھجیت گروپ کو پاور پلانٹ کے لیے پانی چاہیے، تو وہ خود اپنا ڈیم تیار کرے۔ ان کے مطابق، ملک میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ سینچائی پروجیکٹ کا پانی کسی پرائیویٹ کمپنی کو بیچنے کا سمجھوتہ ہوا ہے۔ ایم ایل اے گردھاری یادو کا واضح الفاظ میں کہنا ہے کہ چاندن ڈیم بچاؤ سنگھرش سمیتی ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ یہاں کے لوگ پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر متاثرہ کسانوں کے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، پاور پلانٹ لگانے کے وقت کہا جارہا تھا کہ اس کے لیے گنگا ندی سے پانی لایا جائے گا، لیکن ابھجیت گروپ کے ذریعے ضابطوں کی اندیکھی کی گئی اور کسانوں کا ڈیم ہڑپ لیا گیا۔ انہوں نے سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ چند سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا ترقی کی نشانی نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ڈیم کے پانی پر صرف کسانوں کا ہی پہلا حق ہے، اس کے بعد ہی کسی دوسرے متبادل پر غور کیا جاسکتا ہے۔ گاؤں پوئی، تھانہ امرپور، ضلع بانکا کے کسان جیون کمار چوتھی دنیا کو بتاتے ہیں کہ سرکار اس تجویز کو فوراً ردّ کرے، ورنہ پانی کے لیے کسان اپنا خون بہانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ چاندن ڈیم کا پانی کھیتوں کی سینچائی کے لیے، کسی پرائیویٹ کمپنی کو بیچنے کے لیے نہیں۔ گاؤں کھرونی، ضلع بانکا کے کسان شمبھو یادو بتاتے ہیں کہ پچھلے کئی سالوں سے کسانوں کے کھیت میں پانی نہیں پہنچ رہا ہے، ایسے میں ڈیم کا پانی پاور پلانٹ کو دیا جانا نہ صرف ناانصافی پر مبنی ہے، بلکہ بیوقوفانہ بھی ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ ڈیم کی پوری سطح 152.40 میٹر اور زیادہ سے زیادہ 156.36 میٹر ہے۔ اس کے درمیان کا پانی ہی پلانٹ کو دینے کی بات کہی گئی ہے۔ کسانوں کے مطابق، سال 1962 کے بعد ایک بار بھی پانی کی سطح اوپر نہیں آئی ہے۔ ایسے میں ابھجیت کمپنی کو پانی کہاں سے دیا جائے گا۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ پاور پلانٹ کے نام پر کسانوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
گاؤں بھرتھو، امرپور، ضلع بانکا کے رہنے والے کسان نول کشور چودھری کہتے ہیں کہ چاندن ڈیم کا پانی تھرمل پاور پلانٹ کو دینے سے ان کی خریف اور ربیع دونوں ہی فصلیں تباہ ہو جائیں گی۔ گورگاواں کے رہنے والے نرنجن چودھری کا ماننا ہے کہ چاندن ڈیم یہاں کے کسانوں کی لائف لائن ہے، اس لیے اس ڈیم کا پانی کھیتی کے علاوہ کسی اور کام کے لیے دینا کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ گاؤں جگریا، ضلع بھاگلپور کے رہنے والے کسان کنہائی سنگھ، جو اپنی پنچایت کے مکھیا بھی ہیں، کا بھی کہنا ہے کہ چاندن ڈیم سے 19 پنچایتوں میں سینچائی ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم لوگ آخری دم تک نہ صرف لڑتے رہیں گے، بلکہ اپنا پانی بھی کسی کو نہیں دیں گے۔
سابق ایم ایل اے بھولا پرساد یادو، ساکن کسماہا گاؤں، ضلع بانکا بتاتے ہیں کہ جب پلاننگ کمیشن نے چاندن ڈیم کی تعمیرکی تکنیکی منظوری دی تھی، اس وقت حکومت ہند نے کہا تھا کہ سرکار کی اجازت کے بغیر ڈیم کے ڈیزائن سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق، ڈیم کا پانی ابھجیت گروپ کو دیناغلط ہے۔ بانکا، بھاگلپور اور گوڈا کے ہزاروں کسان چاندن ڈیم کا پانی ابھجیت گروپ کو دیے جانے سے جس طرح برہم ہیں، اسے دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اگر بہار سرکار اس مدعے پر سنجیدہ نہیں ہوتی ہے، تو مستقبل میں یہاں خونی ہولی کھیلی جا سکتی ہے۔

بہار اسمبلی میں معاملہ اٹھا
بانکا ضلع میں ابھجیت گروپ کے ذریعے مجوزہ تھرمل پاور پلانٹ کو چاندن ڈیم سے پانی دیے جانے کی مخالفت بہار اسمبلی میں بھی کی گئی۔ 21 مارچ، 2012 (بجٹ اجلاس) کے دوران بیلہر اسمبلی حلقہ سے جنتا دَل یونائٹیڈ کے ایم ایل اے گردھاری یادو نے چاندن ڈیم کا مدعا زوردار طریقے سے اٹھایا۔ اپنے سوال نمبر 2328 میں انہوں نے محکمہ آبی وسائل، بہار سرکار سے سوال کیا کہ :
کیا یہ بات صحیح ہے کہ بانکا ضلع کے خشک علاقہ ہونے کے سبب سرکار کے ذریعے بانکا ضلع میں چاندن ڈیم پروجیکٹ کی تعمیر 30 سال پہلے کرائی گئی تھی، جس سے کسانوں کے کھیتوں کی سینچائی ہوتی ہے؟
کیا یہ بات صحیح ہے کہ مذکورہ چاندن ڈیم پروجیکٹ میں بانکا میں برسر کار ابھجیت گروپ کے ذریعے اِنٹیک ویل بنایا جا رہا ہے، جس سے ڈیم کا سارا پانی چلا جائے گا اور کسانوں کے کھیتوں میں سینچائی نہیں ہو پائے گی؟
کیا یہ بات صحیح ہے کہ گرمی میں گزشتہ پانچ سالوں سے مذکورہ چاندن ڈیم پروجیکٹ میں پانی خشک ہو جاتا ہے اور کسان پانی کے لیے چاروں طرف پریشان پھرتے ہیں؟
اگر مذکورہ بالا سوالوں کے جواب ہاں میں ہیں، تو کیا کسان کے مفاد میں مذکورہ اِنٹیک ویل کی تعمیر پر روک لگانے کی کوئی تجویز سرکار کے سامنے زیر غور ہے، اگر نہیں تو کیوں؟
ایم ایل اے گردھاری یادو کے ذریعے پوچھے گئے عوامی مفاد کے ان سوالوں کا کوئی جواب وزیر برائے آبی وسائل نے نہیں دیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بہار سرکار ابھجیت گروپ کے فائدے کے لیے چاندن ڈیم سے فیضیاب ہونے والے ہزاروں کسانوں کو قربان کرنے کا من بنا چکی ہے۔

تحویل اراضی اور بازآبادکاری قانون کی خلاف ورزی کی گئی
بہار سرکار اور ابھجیت گروپ کے درمیان 2007 میں بانکا میں پاور پلانٹ بنانے سے متعلق ایک مفاہمت نامہ پر دستخط ہوا تھا۔ قرار میں یہ کہا گیا تھا کہ بہار سرکار خود تحویل اراضی کرکے ابھجیت گروپ کو دے گی، لیکن بعد میں سرکار نے ضابطوں کو بدل کر کسانوں کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں لوٹنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ریاستی حکومت نے ابھجیت گروپ کو رجسٹری میں اسٹامپ ڈیوٹی میں کھلے ہاتھوں سے چھوٹ دی، تاکہ کمپنی بغیر کسی رکاوٹ کے من مانے طریقے سے زمین کی لوٹ مچا سکے۔ ابھجیت گروپ نے نہ صرف سرکاری ضابطوں کو طاق پر رکھا، بلکہ اس نے کسانوں کی زمین کو اونی پونی قیمت پر خرید بھی لیا۔ کمپنی کے ذریعے کسانوں کی زمین سرکار کے ذریعے طے کی گئی قیمت سے آدھی قیمت پر خریدی جا رہی ہے، جب کہ بہار کے تحویل اراضی اور باز آبادکاری قانون، 2007 میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ اپنی مرضی سے زمین دینے والے کسانوں کو ڈھائی گنا قیمت دی جائے گی، لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ بہار سرکار ایسا نہیں کر رہی ہے۔ دوسری طرف اس معاملے میں محکمہ آبی وسائل آر ٹی آئی قانون کے تحت پوچھے گئے سوالوں کا صحیح جواب دینے سے کترا رہا ہے۔ مثلاً آرٹی آئی کے تحت، جب محکمہ سے ابھجیت گروپ کو چاندن ڈیم سے دیے جانے والے پانی کی مقدار، اس کی قیمت اور اِنٹیک ویل کے بارے میں سوال پوچھے گئے، تو محکمہ نے گول مول جواب دیا۔ مثلاً اس بابت ایگریمنٹ نہیں ہے، نئی ہدایت نہیں دی گئی ہے اور جواب موجود نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *